وفات 21 اپریل 1938
تحریر : لبنٰی جمشید
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
اقبال کا یہ شعر موجودہ حالات کے تناظر میں دل کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک صدی قبل وہ تصور کی کھڑکی سے ہمار ے آج کو دیکھ کے پریشان بیٹھے ہوں گے ۔ علی بخش کاقہوہ بھی انہیں معمول سے زیادہ کڑوا لگ رہا ہو گا۔ اگر سوچنے بیٹھوں تو ان کی اس کیفیت کا موازنہ اپنے موجودہ حالات سے کرنے کے بعد کس کا پلڑہ بھاری ہو گا یہ سمجھنے میں زمانے بیت جائیں گئے۔
کرونا کی آمد کے ساتھ ہی کشمیری محلہ سیالکوٹ میں واقع دو منزلہ اقبال منزل کے دروازے پر قفل لگا کر یہ باور کروا دیا گیا کہ اب محفلوں کے سجنے کی عمر گزر گئ ہے. اب ہم وہاں کی لائبریری میں بیٹھ کر پڑھتے ہوۓ خود کو ان کے زمانے میں محسوس کرنے کے خیال سے رخصت پا چکے ہیں۔ ان کی وہ آرام دہ کرسی اور اس پر آنکھیں موند کر سوچ کے زاویوں میں الجھنے کاہنر اب بھولناہی پڑے گا ۔ اب قدم ان گلیوں سے تو گزریں گے لیکن اس گھر کی رونقوں پر وحشتوں کے لرزتے ساۓ دیکھنے کے لیے بصارت کی آنکھ کو موندنا ہی پڑے گا۔ اب بھی 9 نومبر کا دن آۓ گا مگر کیا اس کومنانے اقبال کے گھر کوئی آ پاۓ گا۔ راستوں کے قفل کب کھولیں جائیں گئے؟ کب ہم اس گھر پھر سے جائیں گۓ؟ بہت سے سوالیہ نشانوں کے درمیان گھرا میرا وجود امید کی ناؤ کے سہارے عشق کا دریا پار کرنے کو مچلتا ہی جا رہا ہے۔
وہ کیا خوب سماں باندھاجاتا تھا۔ اک پر نور محفل سجی تھی ۔ قرآن خوانی ہو رہی تھی ۔ گول گھومتے برآمدے کے صحن میں چھوٹے حفاظ سفید لباس اور محرابی ٹوپیاں پہنے اس عالم مفکر کے لیے دعا خوانی کرتے نظر آۓ ۔ یہ زیادہ دور کی بات نہیں ۔۔۔اک برس قبل کی صبح کا واقعہ ہے جب اقبال منزل میں اکیاسویں برسی کا اہتمام ہوا تھا۔ اندر باہر عقیدت مندوں کا ایک سیلاب امڈا ہوا تھا۔ شہر کے معروف عالم نے جب دعا مانگی تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ وہیں کسی پلر سے ٹیک لگاۓ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جوڑے امت مسلمہ کی سلامتی اور ان کے افکار کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کی خواہش میرے دل میں بھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ یہی کہیں موجود ہو بس انہیں دیکھنے کے لیے دیدہ بینا کی ضرورت تھی۔ الماریوں اور شیلف پر سجے ان کے مجموعوں کی خوشبو فضا میں پھیل کر علم وعقل کے لیے نئی سوچ کے دروازے کھول رہی تھی۔۔ آؤ کون ہے جو خودی کی تلاش میں ہے , کون عشق کی راہ کا مسافر ہے, کس کے دل افکار کے لیے کھلے ہیں, کون ہے جو میرے فلسفے کی روح تک جا پہنچتا ہے ۔۔آۓ اور سیراب ہو جاۓ۔ میں نے یہ سوچتے ہوۓ آنکھیں میچ لیں تھیں اور پھر ایک نئی دنیا میری منتظر تھی۔ وہ دنیا جس میں ہم دونوں تھے اور سنہری شام سا شخص اپنی کتابوں کے پنے پلٹتا ہوا مجھے نیل کے ساحل سے لے کر نیکر اور ٹیمز کنارے اپنی حکایتوں کے فلسفے کھول رہا تھا۔ اور میں حیران بیٹھی ان جہانوں ک سیر کرتی سیراب ہوتی چلی گئی۔
آنکھیں کھلنے پرکچھ تو تحلیل تھا جو موجود تھا وہی بس میرا وجود تھا۔وہیں کتابیں تھیں وہیں دیوار و در مگر اس سنری شام سا شخص نہ تھا جس کے ہمراہ زمانوں کے علم سیکھے۔۔ اپنا آپ کچھ اس شعر کے مترادف لگا۔۔۔
عالم_ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر ہے فراق۔۔۔۔
وصل میں مرگ_ آرزو، ہجر میں لذت_ طلب۔۔۔۔
آج میں اپنے شہر سے دور کسی اور شہر میں وبا کی وجہ سے مقیم ان سنہری یادوں کو لڑی میں پیرونے بیٹھی ہوں ۔ ہر موتی اس مفکر اعلی کے شعروں سے سجا ایک خاص دھن پر امن کا گیت سنا رہا ہے۔ کیا ہوا گر محفلیں خلوتوں میں بدل گئیں ہیں ۔ دلوں میں چھپی محبتوں کو بھی کوئی نکال پایا ہے۔ شاہینوں کے شہر کے قفل دلوں کو زنگ آلود کر دیں یہ کیسے ممکن ہے۔ دلوں کے چراغ تو خیال تصور سے مربوط ہیں اور رہیں گے۔ ان کو بجھنے نہیں دینا۔ چراغ سے چراغ جلانتے رہنا ہے۔ ان قربانیوں کی قدر کرنی ہے جو خیال اقبال کے نظریے کی پیروی میں دی گئیں۔ اس گوشہ چمن کو ویرانہ بننے نہیں دینا۔
وہ سنری یادوں سا سورج اک شخص کی صورت ٩ نومبر کو طلوع ہو کر ٢١ اپریل کو غروب ہو گیا تھا لیکن اس کی حرارت سے دلوں کو گرماۓ رکھنے کا عہد بھی اک وفا کا قصہ ہے۔ان کا یہ قصہ سنانے میں اک صدی بھی کم ہے اور اک حرف بندگی عشق و عمل بھی بہت ہے
ان کی بیاسویں برسی کے موقع پر دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ ان کے درجات بلندفرماۓ اور کے افکار کو ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رکھے ۔ آخر پر ایک میری پسندیدہ غزل
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے !
ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
ہے ترک وطن سنت محبوب الہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
(بال جبریل سے انتخاب -حضرت علامہ محمد اقبالؒ