443

صبح بخیر

تحریر شئیر کریں

صبح بخیر

=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=

رات کو جلد سونا اور صبح جلد بیدا ر ہونا نیک بختی کی علامت ہے ۔رات کو باوضو سونے کی عادت بنائی جائے اور مسنون طریقے پر دعائیں پڑھ کر سویا جائے۔
سونے سے پہلے سوچا جائے کہ ایک دن میں نے قبر میں بھی سونا ہے اس دن کی تیاری کے لیے ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ کیا جائے۔ اعمال صالحہ پر شکر اور اور بُرائی پر توبہ کی جائے۔
اللّٰہ کا ذکر اور قرآن کریم کی چھوٹی آیات پڑھتے پڑھتے سوئیں۔
کسی اچھی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیں چند لمحوں میں پرسکون نیند طاری ہو جائے گی۔
سونے سے پہلے مذکورہ بالا اُمور کی رعایت اچھی صبح کی ضمانت ہے۔
صبح بیدار ہوتے ہی خود کو اچھے کاموں میں مشغول کر لیں۔ اور یہ نیت رکھیں کہ آج میں نے سستی و کاہلی کو چھوڑ کر صرف اور صرف اچھے کام کرنے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے آج کےدن کی زندگی اسی لئے دی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے نماز فجرکے بعد بڑی برکت کا وقت رکھا ہے۔ جس میں بندوں کی روزی تقسیم کی جاتی ہے۔ غافل ہیں وہ لوگ جو اس بابرکت لمحہ کو نیند یا غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ نماز فجر کے بعد سورہ یٰسین کی تلاوت پر پورے دن میں خیر و برکت اور اللّٰہ تعالیٰ کی نصرت کا وعدہ ہے۔
اچھی صبح کا آغاز پورے دن کی اچھائی کا پیش خیمہ ہے لہٰذا اپنی صبح کو صبح بخیر بنانے کی کوشش کی جائے۔
صخرالغامدی کا بیان ہے کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے دعا فرمائی:
اے اللّٰہ! سویرے میں میری امت کے لیے برکت عطا فرما چنانچہ آنحضرت ﷺ جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ فرماتے تو صبح سویرے روانہ کرتے کہتے ہیں کہ حضرت صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنا تجارتی مال ہمیشہ صبح سویرے بھیجا کرتے تھے اس کی برکت سے خوشحال اور سرمایہ دار ہو گئے۔
(ابن ماجہ)
ماخوذ از:” آج کا سبق “صفحہ:70
تالیف :مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
انتخاب :نور محمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں