عافیہ کو چھڑوانا تم پر واجب ہے
تحریر:محمد ابوبکر
”جو لوگ ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح استمال کرتے ہیں، زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں مصروف رکھتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کل کو اگر خدا نخواستہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچی تو یہ لوگ اپنے بڑے بڑے ٹائروں والی گاڑیوں سے اتر کر ہمیں حوصلہ دینگے؟؟
جی بلکل بھی نہیں۔
اور یہ جو ہمارے ووٹوں سے ایوانوں میں بیٹھے ظالم ، کرپٹ ، بد اخلاق اور کمینے لوگ جو عوام کو صرف ایک بریانی کا ڈبہ دے کر خریدتے ہیں ان کے دلوں میں خدا کا خوف صلہ رحمی اور عوام کی عزت و آبرو کا احترام ہے؟؟
جی بالکل بھی نہیں۔
اسکی ایک مثال ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جو کہ پوری امت مسلمہ کی مظلوم بیٹی ہے۔ بیس سال سے کفار کی چنگل میں قید ہے اور انگریز طرح طرح کے مظالم اس بے گناہ خاتون پر تھوڑتے ہے۔ جس سے آپ حضرات بخوبی واقف ہیں۔
کیا ان ظالم حکمرانوں نے ایک دفعہ بھی اپنے کفار آقاؤں سے رہا کروانے کا مطالبہ کیاہے؟؟
جی بالکل بھی نہیں۔
کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹی نہیں ہے؟
کیا یہ ریاست کی زمہ داری نہیں ہے؟
ان ظالم اور سنگ دل حکمرانوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کا نومولود بیٹا سلیمان (جو کہ اس وقت سے لا پتہ ہے) زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔
خدا کیلئے غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائے یہ لوگ ہمارے ہمدرد نہیں ہے
خدارا ان بے ضمیر لوگوں سے جان چھڑائیں ان کو آنے والے الیکشن میں ووٹ نہ دے اور ان سے تب تک بائکاٹ کرے جب تک یہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہائی نہ دلائیے۔
ہمارا ایک مطالبہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہائی دلائیں بس صرف ایک مطالبہ۔
عافیہ کو چھڑوانا تم پر واجب ہے
زنجیر عدل ہلانا تم پر واجب ہے