عنوان کیسے چنا جائے؟
کسی بھی تحریر کو رقم کرنے سے پہلے سب سے پہلے عنوان چنا جاتا ہے ۔عنوان جتنا پرکشش اور جاندار ہوگا اتنا ہی آپ کا قاری آپ کی تحریر کو پڑھنا پسند کرے گا۔ایک اور چیز عنوان تجویز کرتے وقت ملاحظ کیجیے وہ ہے تجسس سے بھر پور عنوان جس سے قاری کے اندر یہ طلب پیدا ہو تی ہے کہ وہ آپ کی تحریر پہ کلک کر سکیں۔
عنوان کتنے حروف پہ مشتمل ہونا چاہیے؟

آپ کا عنوان چار حروف پہ مشتمل ہونا چاہیے مثلا یوم پاکستان کا پیغام اہل پاکستان کے نام بہت اچھا عنوان ہے مگر اس میں خامی یہ کہ یہ چار حروف سے زائد ہے جو ایسی ای او کے خلاف ہے seo باقاعدہ ایک فن ہے جس کے تحت تحریریں سرچ انجن میں رینک کی جاتی ہیں۔سردست ہمارا موضوع seo نہیں ہے عنوان کا چناو ہے تو اب ہم اس عنوان کو دیکھیں کہ یوم پاکستان کا پیغام عنوان کیسا رہے گا تو یہ ہر لحاظ سے ٹھیک ہے یہ چار حروف پہ مشتمل ہے اس میں تحسس بھی ہے
عنوان کو کی ورڈ کیسے بنائیں؟
کی ورڈ کیا ہوتے ہیں؟۔وہ الفاظ جو لوگ گوگل پہ لکھ کر سرچ کرتے ہیں انھیں کی ورڈ کہا جاتا ہے ۔
کی ورڈ سرچ کیسے کریں؟
اس مقصد کے لیے سرچ انجن بنائے گئے ہیں گوگل کا ایک سرچ انجن کی ورلڈ پلانر keywordplanner ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے ہیں

راقمہ کی ورڈ ٹول میں کی۔
ورلڈ سرچ کرتی ہے کیونکہ اس میں اردو اور انگلش دونوں کا اوپشن موجود ہے۔اردو میں لکھنا چاہتے ہیں تو کی ورلڈ اردو میں سرچ کرنا ہوں گے اور انگلش میں لکھنا چاہتے ہیں تو انگلش میں۔
کی ورلڈ کی قسمیں
کچھ کی ورلڈ لمبے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے ہوتے ہیں چار لفظی کی ورلڈ چنیں جیسا کہ یوم پاکستان کا اہم پیغام مگر یہ پانچ حروف پہ مشتمل ہے تو یوم پاکستان کا پیغام بہتر رہے گا۔تین چار کی ورلڈ چنیں اور ان کو اپنی تحریر میں استعمال کرنا ہے پانچ سو الفاظ کی تحریر میں تین سے چار بار آپ نے کی ورلڈ جو عنوان بنایا ہے
اس کو لے کر آنا ہے۔ماہرین کے مطابق عنوان کو اپنے پہلے پہراگراف میں لے کر آنا ہے ایک بار درمیان اور ایک بار آخری پیراگراف میں۔۔۔باقی کے کی ورلڈز کو مختلف جگہوں پہ لکھیں۔ایسے کہ وہ تحریر کا حصہ لگیں۔کی ورلڈز کا زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔یہ بھی گوگل کے لاء کے خلاف
اس کے علاوہ آپ کی تحریر میں ہیڈنگز کا استعمال ہونا بھی بہت ضروری ہے۔گوگل آپ کی تحرہر ہیڈنگز پر بھی فوکس کرتا ہے۔ہیڈنگ میں کی ورڈز کا استعنال کیا جائے اور اٹریکٹو ہوں ۔
عنوان کیسے چنا جائے؟
۔