478

ماں اور بچے کی ذہانت

تحریر شئیر کریں

ماں اور بچے کی ذہانت ماؤں کے لیےایک مفید تحریر

ماں بہت انمول ہوتی ہے۔یہ بات ہوش سنبھالتے ہی سمجھ میں آنا کم اور سننے میں زیادہ آنی شروع ہوئی۔۔۔ہھر وقت کے ساتھ سمجھ زیادہ آتی گئ کہ کیوں انمول ہوتیں ہیں کیونکہ انکی محبت بغیر مشروط ہوتی ہے۔بے لوث ہوتی ہے۔تھوڑا لکھا پڑھا تو سمجھ آیا کہ بچے کی مسکراہٹ ماں سے مشابہہ ہوتی ہے۔کیونکہ وہ اپنی ماں کو اتنا دیکھتا ہے کہ اس کے مسکرانے کا انداز تک ماں جیسا بن جاتا ہے۔پھر پتہ چلا بچے کی ذہانت تک ماں کی مرہون منت ہوتی ہے۔زیر نظر آرٹیکل ماں اور بچے کی ذہانت کے متعلق ہے۔

تفصیلات کے مطابق بچے کی کامیابی میں والدین ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس میں موروثی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں اور ماحولیاتی بھی۔۔۔

جدید تحقیق نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ بچے کی

یہ بھی پڑھیے

بچوں کے لیے خالص غذا کا حصول ایک چیلنج

ذہانت میں سب سے زیادہ جو عنصر شامل ہوتا ہے وہ ماں کی طرف سے ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذہانت کا عنصر کروموسم ایکس میں پایا جاتا ہے اور کروموسوم ایکس عورت میں دو اور مرد میں ایک پایا جاتا ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ بچے کے اندر عورت سے ذہانت کی منتقلی کا عنصر دوگنا ہوتا ہے۔ریسرچ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ باپ کی جینز میں ذہانت کا عنصر غیر فعال ہو جاتا ہے۔

چودہ سے بائیس سال کی عمر کے بارہ ہزار افراد پر ریسرچ کی گی۔کہ کیا ماں کا آئی کیو لیول بچے پہ اثر کرتا ہے۔تو اس کا جواب ہاں میں تھا۔چالیس سے ساٹھ فیصد حصہ ماں کی طرف سے وراثت میں منتقل ہوتا ہے باقی ماحول اور دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں۔
ریسرچ سے قطعی نظر ہٹ کر دیکھا جاۓ تو ایک ذہین ماں ذہین بچوں کی پرورش کرتی ہے۔اس کی زیر تربیت پلنے والا بچہ ذہانت قبول کرتا ہے۔سکھانے والی ماں کچھ نا کچھ ایسا ضرور سکھاتی ہے جو اسے ممتاز بناتا ہے۔

ماں اور بچے کی ذہانت کے پیش نظر اگر دوران پیدائش ماں بادام دودھ اور شہد کا استعمال کرے اور تیسرے اور چوتھے مہینے جب بچے کا دماغ بن رہا ہوتا ہے میتھ کی پریکٹس کرے تو بھی بچے کی ذہانت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔یہ ریسرچ یہودیوں کی ذہانت پہ کی گی تو پتہ چلا کہ یہ لوگ اتنے چالاک اور ذہین اس لیے ہوتے ہیں کیو نکہ یہ اپنی عورتوں کو ڈلیوری کے دوران ایسی غذائیں مہیا کرتے ہیں۔جیسا کہ شہد دودھ اور بادام وغیرہ اس کے ساتھ ساتھ میتھ بھی کرواتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی کیلکولیشن ان کے ہاتھ میں ہے۔

ایشین بچے بھی اپنی ذہانت کی وجہ سے دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔جب ان ایشین بچوں پہ ریسرچ کی گی تو پتہ چلا کہ یہ ذہانت ان کو اپنی ماں کے دودھ سے میسر آئی یے تو ثابت ہوا کہ ماں کے جینز کے علاوہ ماں کا دودھ بھی ذہانت بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

بچوں کو اپنی ماؤں کا اس لیے بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی پاس موجود ذہانت بھی ماں کی بدولت ہے۔ماں کتنا قیمتی اثاثہ ہے کاش ہم لوگ آنکھیں بند ہونے سے پہلے جان “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں