474

بچوں کے لیے خالص غذا کا حصول ایک چیلنج

تحریر شئیر کریں

پاکستان میں نوزائیدگان کی خالص خوراک کے مسائل
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہےجہاں خالص اور معیاری خوراک ایک چیلنج بن گئ ہے۔ناقص اور غیر معیاری خوراک کی بھر مار ہے۔ایسے میں سب سے زیادہ نقصان شیر خوارگان کو ہو رہا ہے۔جنہیں معیاری دودھ کا حصول ناممکن بن گیا ہے۔
بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا سب سے پہلا حق اچھا اور معیاری دودھ ہوتا ہے جو کہ ماں کے دودھ کی صورت میں اللہ کی طرف سے موجود ہوتا ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ آج کل زیادہ تر بچے آپریشن سے ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے ایک تو ابتدائی دنوں میں ماں اٹھنے بیٹنے سء قاصر ہوتی ہے جس کی وجہ سے ڈبے والا دودھ لگا دیا جا تا ہے۔

دوسری بڑی وجہ جس کی وجہ سے بچہ ماں اگر دودھ پلاتی بھی ہے تو بڑے آپریشن سے جتنی مقدار میں دوائیاں ماں کے اندر جا چکی ہوتیں ہیں۔ان کی سمیل دودھ میں رچ بس جاتی ہے۔جس سے بچہ دودھ آ بھی رہا ہو اور کوئی اور یمت کر بھی لے پلانے کی تو بچہ نہیں پیتا ۔۔۔بچوں کو ماں کا دودھ میسر آنا یہ بھی اب کم ہوتا جا رہا ہے۔دوسری طرف ڈبے والے دودھ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔جو سرے سے کیمیکل ہے دودھ نہیں۔
اگر ماں کا دودھ میسر نہیں تو گاۓ یا بھینس کا دودھ بچے کو دیا جا سکتا ہے۔جو کہ آرگینک فوڈ ہے مگر پاکستان میں ہر طرف سپریٹا دودھ کی بھرمار ہے۔سپریٹا دودھ سے مراد دودھ نما مرکب جو سرعام بک رہا ہے۔پوری دنیا میں اس طرح کا دودھ جانوروں کو دیا جاتا ہے جو ہمارے بچوں کی خوراک ہے۔اس کے بعد ان کے ایک آخری صورت ڈبوں والا دودھ ہی رہ جاتا ہے۔جس کے اپنے نقصانات ہیں۔

بچوں میں بچپن سے پیٹ کے مسائل،ہڈیاں کمزور ہونا اور قوت مدافعت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا اوائل عمری سے شروع ہو جاتا ہے۔جو ان کی گروتھ کو متاثر کرتا ہے۔ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل ہے ہی نہیں ۔جنوبی ایشیا ء کے طلباء پر ریسرچ کی گی کہ یہ اتنے ذہین کیوں ہوتے ہیں؟ریسرچ سے پتہ چلا چونکہ یہ اپنے بچپن میں ماں کا دودھ پیتے ہیں اس لیے اتنے ذہین ہوتے ہیں تو ثابت ہوا ماں کا دودھ بچوں کی ناصرف بہترین نشونما کرتا ہے بلکہ انکی ذہانت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ایسے بچوں میں الرجیز نا ہونے کے برابر ہوتیں ہیں جو ماں کا دودھ پیتے ہیں۔

دو سال تک اگر ماں کا دودھ میسر آ جاۓ تو اگلا مرحلہ گاۓ یا بھینس کے دودھ کا حصول ہے۔اس ضمن میں میں عربوں کی فہم و فراست کی قائل ہو گی جب تاریخ سے پتہ چلا اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پڑھ کر اندازہ ہوا کہ عرب لوگ اپنے بچوں آکو خآلص آب و ہوا اور خالص زبان اور خالص خوراک کی غرض سے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔جس سے اسلام کا ایک باب رضاعت وجود میں آیا۔آج اگر غور کریں تو پتہ چلتا ہے بچوں کے پہلے پانچ سے سات سال بہترین ہوتے ہیں اس میں وہ جو بنتے ہیں وہی انکی اصل نشونما ہوتی ہے جس پر ساری زندگی انحصار کرنا ہوتا ہے۔

بچوں کی زبان دانی،خوراک اور سادہ اور فطری ماحول دیا جاۓ تو انکی نشونما میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ایسے بچے ذہانت اور قوت مدافعت میں بھی بہت مضبوط ہوتے ہیں۔اور زندگی میں آگے بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو معیاری ؔخوراک کسیے دی جاۓ؟تو یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انتہائی ضروری ہے۔

جب بچہ پیدا ہو تو پہلے دن فیڈر سے دودھ مت پلائیں۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ماں کا دودھ پلائیں۔ماں کا دودھ اگر دو تین دن میسر نہیں بھی تو فیڈر سے دودھ کی عادت نا ڈالیں۔اور چمچ وغیرہ سے دودھ منہ میں ڈالیں وہ بھی گاۓ کا دودھ۔جو تھوڑی سی کوشش اور دوڑبھاک سے مل سکتا ہے۔یہ دوڑ بھاگ ان کا فرض ہے اور آپ کا بطور والدین پہلا فرض۔۔۔ریسرچ سے پتہ چلا ہے جو بچے پہلے دن فیڈر نہیں لیتے وہ ماں کے دودھ کو کچھ دنوں کی محنت سے پینا شروع کر دیتے ہیں۔آپریشن کی دو ائیوں کی سمیل زیادہ سے زیادہ پانی پی کر اور واک سے ختم کی جا سکتی ہے۔ختم نا بھی ہو تو کم ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد کا مرحلہ دو سال کے بعد کا ہے۔جو لوگ افورڈ کر سکتے وہ بھینس رکھ لیں یہی سب سے بہترین راستہ ہے۔مہنگا کام ہے مگر بچوں سے زیادہ مہنگا نہیں۔جو لوگ یہ نہیں کر سکتے وہ قریبی گاوں سے جا کر لا سکتے ہیں۔

دودھ کے علاوہ بچوں کو جب ٹھوس غذا شروع کروائی جاتی ہے یہاں پھر کیمیکل موجود ہے سریلیک کی شکل میں، جو مہنگا بھی ہے اور معیاری بھی نہیں۔۔ سیریلیک کی جگہ روٹی کا ٹکڑا بھگو کر کھچھ دیر رکھ لیں۔پھر اس کو تھوڑا دودھ ڈال۔کر پکا لیں۔بہترین کاکھانا ہے۔اس کے علاوہ اگر آپ گھر میں نیچرل سیریلیک بنانا چاہیں تو گندم چاول جو ،چنے کی دال مونگ کی دال تھوڑے سے بادام کاجو ان سب کو صاف کر کے فرائی پین میں تھوڑا سا بھون کر گرینڈ کر لیں ۔بہترین سیریلیک تیار ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گی ہمارے بچے ہماری دنیا بھی اور آخرت بھی ہیں۔اگر ہم انھیں معیاری خوراک نہیں دے سکتے تو عمر بھر کی بیماریاں ان کا مقدر بن جائیں گیں۔حدیث مبارکہ ہے تم میں سے ہر ایک چرواہا ہے اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔۔تو کیا ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ۔ہم نے انھیں ماں کے دودھ کے لیے کتنا آمادہ کیا تھا ی نہیں،یا فیشن سمجھ کر فیڈر ہاتھ میں تھما دیا تھا۔یقینا ہوگا۔اس دن کی رسوائی سے بچیں۔آپ کے بچے آپ کی دنیا بھی ہیں۔ان کی خوشیاں آپکی خوشیاں ہیں اور انکے دکھ آپ کے دکھ۔۔۔سو غیر معیاری کھانوں اور دودھ پہ کمپرومائز مت کریں۔دعا اور کوشش سے ہر چیز کا حصول ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں