337

محفوظ عورت مستحکم معاشرہ

تحریر شئیر کریں

:محفوظ عورت مستحکم معاشرہ

تحریر کلثوم جاوید


ہم اس دین کو ماننے والے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو طہارت تک کے طریقے سکھاتا ہے ، جو راہ چلنے والوں پر ایک دوسرے کے حقوق پڑوسی ، دوستی ،رشتے داروں یہان تک کے جانوروں کے حقوق بھی دیتا ہے کیا اس نےاس اشرف مخلوقات میں شامل عورت کے حقوق بھی بتائے ہیں میں زمانہ جاہلیت پر غور کرنے لگی جب بیٹی کے پیدا ہونے پر چہرےغم و غصے سے سیاہ پڑ جایا کرتے تھے اور وہ اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھاایسے میں ملامت کرنے والا کوئی نہ تھا ،

یہ معمول کی بات تھی ،عورت کی خریدو فروخت جانوروں کی طرح ہوتی تھی ،ایک مرد جتنے چاہے نکاح کر سکتا تھا ،جتنی بار چاہے طلاق دے سکتا تھا کٸ بار طلاق دینے کے بعد رجوع کر لیتا تھا،عورت کی کوئی مرضی نہ تھی ،کسی بھی روپ میں کوئی حیثیت نہ تھی ،وہ وراثت کی طرح تقسیم ہوتی تھی ،باپ کے مرنے کے بعد بیٹا ماں سے نکاح کر لیتا کسی کو کو عورت کے حق میں بات کرنے کی جرات نہ تھی

،پھر رب العالمین نےانسانیت پر رحم کھایا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ،تب غلاموں اور کمزوروں کو بھی حقوق ملے،عورت کو جو حقوق اسلام نے چودہ سو سال پہلے دیے،آج تک کوئی نہ دے سکا،اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے عورت کو بری الذمہ کیا ،گھر کی چار دیواری کا تحفظ فراہم کیا ،اسے گھر کی ملکہ بنایا ،نیک بیوی کو دنیا کی متاع قرار دیا

،بیٹی کو گھر کی شہزادی بنایا اس کی پرورش پر جنت کی بشارت دی گئی ،پھوپھی کو باپ کا قائم مقام اور خالہ کو ماں کا نعم البدل قرار دیا ،ماں کے قدموں میں جنت لاکر رکھ دی گئی اولاد پر اس خدمت فرض کر دی گئی باپ سے تین درجے زیادہ ماں کی خدمت کا حکم دیا گیا

،بیٹی جب گھر آتی میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استقبال کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ انہیں بٹھاتے ،رضائی والدہ کے لیے اپنے کندھوں سے چادر اتار کر ان کے بیٹھنے کے لیے بچھا دیتے،کروڑوں درود میرے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ عورت کو وہ مقام و منزلت دی کہ آج تک کوئی نہ دے سکا ،کمانے کا کام مرد کے ذمہ لگا کر عورت کو وراثت میں حق بھی دلوایا گیا ،نکاح کرنے کے لئے اس کی مرضی کو اہمیت دی گئی ،اسی کی عزت و تکریم کی خاطر اسے پردے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی کی بری نظر ان آبگینوں کو پراگندہ نہ کردے ،غیرمحرم سے بات کرتے ہوئے لہجہ سخت رکھنے کا حکم دے کر مخالف کے دل میں اٹھنے والے برے جذبات تک سے اس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا،پھر ان سب باتوں پر عمل کرکے دکھایا،

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ عرب کی ایک بڑی اور بہترین بزن
وومین تھیں ،ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا ٹوپیاں بنا کر فروخت کرو آیا کرتی تھیں اور آمدنی صدقہ کر دیا کرتی تھیں ،ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ بہترین جنگجو سپاہی تھیں ،ہماری تاریخ خواتین کے بہترین اور قابل تقلید کارناموں سے بھری پڑی ہے ،جس کا مقابلہ کرنے کا آج کی لبرل اورنام نہاد پڑھی لکھی خواتین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں ،اسلام کے دیے گئے حقوق کے تحت عورتوں نے بہترین نسل کی آبیاری اور بہترین معاشرہ کی تشکیل کی،

آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم شعور کے ساتھ اپنے دین پر عمل پیرا ہو جائیں ، اپنی تواناٸ اسلام کی اقامت کے لئے صرف کریں اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کریں،معاشرے میں آپ کو ہر طرف خیر و بھلائی ہی نظر آئیگی ،جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں دیکھنے کو ملتی ہیں،یقین کریں یہ دین آج بھی اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ موجود ہے صرف عمل کرنے کی کمی ہے ۔

محفوظ عورت مستحکم معاشرہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں