
“تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔”
(الاسراء: 23)
—
پیش لفظ
یہ چند اوراق ایک تیرہ سالہ بچی کے خوابوں، آنسوؤں اور اس کے اٹل یقین کی داستان ہیں۔ ‘مریم کی ڈائری’ محض ایک بچی کی یادداشتیں نہیں، بلکہ اس پاک سرزمین کا نوحہ ہے جسے تاریخ نے بارہا لہو رنگ دیکھا، مگر اس کے حوصلے کبھی پست نہ ہوئے۔ انسانی فطرت کا یہ عجیب خاصہ ہے کہ جب ہر طرف اندھیرا چھا جائے، تو ننھے چراغوں کی روشنی سورج سے زیادہ دکھائی دینے لگتی ہے۔
مریم نے اپنے قلم سے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جب آسمان سے بارود برس رہا ہو اور زمین تپ رہی ہو، تب بھی ایک مومن کا دل اللہ کی یاد سے کیسے پرسکون رہ سکتا ہے۔ اس ڈائری کا ایک ایک حرف پکار کر کہہ رہا ہے کہ فلسطین صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ انبیاء کی وراثت اور ایمان کا مرکز ہے۔ یہاں کے بچے بموں کے شور میں بھی اس لیے مسکرا لیتے ہیں کیونکہ ان کا رشتہ اس ماضی سے جڑا ہے جہاں صبرِ ایوبؑ اور استقامتِ موسیٰؑ کی مثالیں موجود ہیں۔
آج کی بظاہر مہذب دنیا، جو انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، مریم کے ان سادہ سوالوں کے سامنے خاموش اور شرمندہ ہے۔ ایک طرف جدیدیت کا لبادہ اوڑھے مغربی منافقت ہے اور دوسری طرف ایک بچی کا وہ ایمان جو اسے ٹوٹے ہوئے خیمے میں بھی معراجِ انسانیت پر کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں بتاتا ہے کہ اصل طاقت اسلحے میں نہیں، بلکہ اس حیا اور اخلاقیات میں ہے جو کڑے وقت میں بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جاتی۔
یہ ڈائری ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانیں۔ یہ ایک پکار ہے کہ کامیابی صرف دنیا کی آسائشوں میں نہیں، بلکہ اللہ کے حضور سرخرو ہونے میں ہے۔ مریم کی کہانی ہمیں واپسی کی امید دلاتی ہے—اس یقین کے ساتھ کہ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، حق کا سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔ آئیے، ہم بھی مریم کے ساتھ اس سفر میں شامل ہوں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں جو مظلوموں کا بہترین کارساز ہے۔
دیباچہ
یہ ورقِ اطوار مریم کی ڈائری ہے۔ مریم غزہ کی رہنے والی ایک تیرہ برس کی بچی ہے۔ اس نے جنگ کی ہولناکیوں کے درمیان قلم اٹھایا اور روزِ اول سے اپنے احساسات کو کاغذ کے سپرد کیا۔
مریم کی ڈائری محض ایک بچی کے روزمرہ کے نوٹس نہیں، بلکہ اس سرزمینِ مقدس کی داستانِ غم ہے جہاں انبیاء کرام علیہم السلام نے قدم رکھا، جہاں انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا، جہاں انہوں نے صبر کے پہاڑ توڑے، اور جہاں آج ان کے روحانی وارث بم گرنے کے بعد بھی مسکرا رہے ہیں۔
فلسطین صرف مٹی کے ڈھیر کا نام نہیں۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں:
خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام نے قیام فرمایا
اسحاق و یعقوب علیہما السلام کا مسکن رہا
یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا
ایوب علیہ السلام نے صبر کا مینارہ قائم کیا
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے طورِ سینا پر کلامِ الٰہی سنا
داود و سلیمان علیہما السلام نے عدل و حکمت کی مثالیں قائم کیں
زکریا و یحییٰ علیہما السلام نے عبادت گزاری
روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام نے آنکھ کھولی· اور سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم معراج الٰہی پر روانہ ہوئے
یہ سرزمین انبیاء کی وراثت ہے۔ اور آج اس کے بچے بم گرنے کے بعد بھی اس وراثت کو تھامے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ محمود درویش نے کہا تھا:
“ہمیں ایک لاعلاج بیماری لگ گئی ہے… امید!”
اور جیسا کہ فدوی طوقان نے لکھا:
“میرے وطن کی مٹی میں ایسی خوشبو ہے کہ میں بارہا مرتی ہوں اور پھر جی اٹھتی ہوں۔”
—
نقشہ: انبیاء کی سرزمین

الخلیل – شہرِ خلیل، ابراہیم علیہ السلام کا مسکن
·بیت المقدس – قبلۂ اول، مسجد اقصیٰ، انبیاء کا مرکز
بیت لحم – ولادت گاہِ عیسیٰ علیہ السلام
نابلس – شہرِ یوسف علیہ السلام
اریحا – قدیم ترین شہر، موسیٰ علیہ السلام کا مقام
غزہ – شہرِ صابرین، مریم کا مسکن
—
پہلی تحریر: میری ڈائری کا آغاز
۱۵ ستمبر ۲۰۲۴
آج میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایک ڈائری لکھنا شروع کروں۔ امی نے کہالکھو، یاد رکھو، کیونکہ تحریر ہی وہ چیز ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔
میرا نام مریم ہے۔ میں تیرہ برس کی ہوں۔ ہم غزہ میں بستے ہیں، رفح کے مضافات میں۔ پہلے ہم غزہ شہر میں آباد تھے، لیکن جنگ کی آندھی نے اُکھاڑ دیا۔ اب ایک خیمے میں زندگی بسر ہے۔
میری ڈائری کا رنگ گلابی ہے۔ مرحومہ خالہ کا تحفہ تھا۔ خالہ اس جنگ میں جاں بحق ہو گئیں۔ ان کی بھی ڈائری ہوا کرتی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ میں لکھتی رہوں۔
آج رات بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید دھماکوں کی آوازیں۔ چھوٹا بھائی یوسف سہم گیا ہے، رورہا ہے۔ میں نے اسے ایک کہانی سنائی۔ کہانی یوسف علیہ السلام کی۔ انہوں نے بھی بے پناہ مصائب دیکھے تھے۔ کنویں کی تاریکی، غلامی کی ذلت، قید کی تنہائی۔ مگر آخر کار انہیں عزت ملی۔
یوسف نے پوچھا “آپی، کیا ہم بھی نجات پا جائیں گے؟”میں نے جواب دیا “ہاں یوسف، ان شاء اللہ۔ یہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ یہاں ہر غم کے بعد خوشی آتی ہے، اور اندھیرے کے بعد اجالا۔”
فدوی طوقان کا ایک شعر ہے جو میری من پسند شاعرہ ہیں
“میرے وطن کی مٹی میں ایسی خوشبو ہےکہ میں بارہا مرتی ہوں اور پھر جی اٹھتی ہوں”
—
۱۶ ستمبر ۲۰۲۴
صبح سویرے امی نے پانی لانے کا حکم دیا۔ پانی کا چشمہ بہت دور ہے۔ پیدل چل پڑی۔ راستے میں دیکھا کہ ایک مسجد کا مینار ڈھا دیا گیا ہے۔ وہ مسجد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور کی تھی۔ ایک بزرگ اس کے ملبے پہ بیٹھے تھے۔ دریافت کیا تو بولے “بیٹی، یہ مسجد کئی صدیوں سے کھڑی تھی۔ اب بس چند اینٹیں رہ گئی ہیں۔”
دل میں خیال آیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو عیسائیوں کو امن دیا، ان کے گرجا گھر محفوظ رکھے۔ مگر آج ہماری مسجدیں بھی محفوظ نہیں۔
پانی لے کر واپس آرہی تھی کہ ایک چھوٹی بچی روتی ہوئ دکھائی دی۔ اس کی گڑیا کھو گئی تھی۔ جیب سے کھجوریں نکال کر دیں تو خوش ہو گئی۔
گھر پہنچ کر یوسف نے پوچھا “آپی، کھجوریں کہاں سے آئیں؟”میں نے کہا “یہ کھجوریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مریم علیہا السلام نے کھجور کے تنے سے لگ کر عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا تھا۔ کھجور میں برکت ہے۔”میرے پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم بھی تو کھجور کو پسند فرماتے تھے۔
سمیح القاسم کا شعر ہے
“میرا وطن میری آنکھوں میں بسا ہوا ہےمیں اسے کھو نہیں سکتا
چاہے مجھے اس سے جلا وطن کر دو
وہ میری رگوں میں دوڑتا ہے”
—
۲۰ ستمبر ۲۰۲۴
آج ایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔ ایک پرندہ ہمارے خیمے پہ آیا اور قریب بیٹھ گیا۔ یوسف نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو میں نے روک دیا۔
“یوسف، مت پکڑو۔ ہو سکتا ہے یہ پرندہ کسی نبی کا قاصد ہو۔”
یوسف ہنسنے لگا “آپی، پرندے قاصد نہیں ہوتے۔”
میں نے سمجھایا “کیوں نہیں؟ سلیمان علیہ السلام پرندوں کی زبانیں جانتے تھے۔ ہدہد ان کے پاس خبریں لایا کرتا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ پرندہ بھی کوئی پیغام لا رہا ہو۔”
پرندہ کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر پرواز کر گیا۔ یوسف اداس ہو گیا۔ میں نے تسلی دی “وہ کل پھر آئے گا، اور خوشخبری لائے گا۔”
شام کو پتہ چلا کہ جنگ میں تین گھنٹے کی عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ لوگ گھروں سے نکل آئے، کچھ مساجد کی طرف دوڑے، کچھ اپنے ملبے تلاش کرنے۔
میں نے سوچا، شاید وہ پرندہ واقعی امن کا پیغام لایا تھا۔
محمود درویش کا شعر:
“ہم امید بو رہے ہیں
جیسے کسان بیج بوتا ہے
تاریکی میں، تھکن میں
مگر یقین کے ساتھ
کہ ایک دن سورج نکلے گا”
—
۲۵ ستمبر ۲۰۲۴
خواب میں مسجد اقصیٰ دیکھی۔ اس کا سنہری گنبد چمک رہا تھا۔ میں وہاں کھڑی تھی کہ ایک بزرگ نمودار ہوئے۔ فرمایا “مریم، جانتی ہو اس جگہ کون کون آیا ہے؟”
میں نے جواب دیا “نہیں، بتائیے۔”
فرمایا “یہاں ابراہیم خلیل اللہ آئے، اسحاق و یعقوب آئے، یوسف آئے، موسیٰ کلیم اللہ آئے، داود و سلیمان آئے، زکریا و یحییٰ آئے، عیسیٰ روح اللہ آئے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور یہیں سے معراج پر گئے۔”
پوچھا “اور آج؟”
فرمایا “آج یہ مسجد تنہا ہے۔ مگر ایک دن پھر سے معمور ہو گی۔ کیونکہ یہ انبیاء کی سرزمین ہے، اور انبیاء کا وعدہ سچا ہے۔”
آنکھ کھلی تو باہر بمباری کا شور تھا۔ مگر دل میں عجیب سکون تھا
تمیم البرغوثی کا شعر:
“میں نے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی
تو محسوس ہوا جیسے میرے پیچھے
تمام انبیاء صف بستہ ہیں
اور مجھ سے کہہ رہے ہیں:
تم اکیلے نہیں ہو”
—
۳۰ ستمبر ۲۰۲۴
ایک بزرگ خاتون ہمارے خیمے میں آئیں۔ ان کے پاس ایک پرانی زنگ آلود چابی تھی۔ دریافت کیا تو بولیں “بیٹی، یہ ہمارے گھر کی چابی ہے۔ یافا میں تھا۔ ۱۹۴۸ میں جب ہم بھاگے تو یہ چابی ساتھ لے آئے۔ میں نے سمجھا تھا کہ ایک ہفتے میں واپس چلی جاؤں گی۔ ستتر برس بیت گئے۔”
میں خاموش رہی۔ وہ پھر بولیں “تم جانتے ہو، یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ وہ کئی برس بعد واپس آئے۔ ہم بھی واپس جائیں گے۔”
پوچھا “اتنا یقین کیسے؟”
مسکرا کر بولیں “کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ زمین اللہ کی ہے، وہ جسے چاہے دے۔ اس نے یہ زمین ہمیں دی تھی، چھن گئی، مگر واپس ملے گی۔”
چابی دکھائی تو آنکھوں میں روشنی تھی۔
توفیق زیاد کا شعر:
“ہم واپس جائیں گے
چاہے کتنے ہی برس گزر جائیں
چاہے کتنی ہی نسلیں بدل جائیں
ہم واپس جائیں گے
کیونکہ یہ زمین ہماری ہے
اور ہم اس کی روح ہیں”
—
۵ اکتوبر ۲۰۲۴
آج رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہے۔ رمضان یہاں پہلے جیسا نہیں۔ پہلے افطار کے وقت سارے گھرانے جمع ہوتے تھے، تراویح کی رونق ہوتی تھی۔ اب خیمے میں ہیں۔ کھانے کو کچھ نہیں سوائے چند کھجوروں اور پانی کے۔
امی نے کہا “بیٹی، آج افطار میں صرف کھجوریں اور پانی ہے۔”
میں نے کہا “امی، مریم علیہا السلام نے بھی کھجوریں کھائی تھیں۔ یہ برکت والی ہیں۔”
یوسف بولا “آپی، کھجوریں تو بہت مزیدار ہیں۔”ہم نے کھجوروں سے روزہ افطار کیا، پانی پیا، پھر باہر نکل کر چاند دیکھا۔ رمضان کا نیا چاند بہت خوبصورت تھا۔
یوسف نے پوچھا “چاند ماموں بھی روزے سے ہیں؟”میں ہنسی “نہیں یوسف، چاند تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔ وہ گواہ ہے ہمارے روزوں کا۔”
محمود درویش کا شعر:
“رمضان آیا
اور ہم نے چاند دیکھا
محاصرے کے باوجود
چاند تو آیا ہی
کیونکہ چاند
محاصروں میں نہیں آتا”
—
۱۰ اکتوبر ۲۰۲۴
آج ایک غیرملکی صحافی آیا۔ اس نے مجھ سے باتیں کیں۔ پوچھا “تم کیا بننا چاہتی ہو؟”جواب دیا “ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔””کیوں ڈاکٹر؟””کیونکہ یہاں مریضوں کی کمی نہیں۔ میرے والد بیمار تھے، دوا نہ مل سکی۔ وہ چلے گئے۔ میں مفت میں دوا دوں گی۔”
صحافی خاموش ہو گیا۔ پھر بولا “اور کیا بننا چاہتی ہو؟”کہا “ادیبہ بننا چاہتی ہوں۔ انبیاء کے حالات لکھنا چاہتی ہوں، اس سرزمین کی داستانیں قلمبند کرنا چاہتی ہوں۔”کیوں؟”
“کیونکہ لوگ بھول گئے ہیں کہ یہ کون سی زمین ہے۔ لوگ بھول گئے کہ یہاں ابراہیم رہے، یوسف رہے، عیسیٰ رہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ جب لوگ بھول گئے تو بم گرنے لگے۔”
صحافی نے میری تصویر بنائی۔ شاید وہ میری بات دنیا تک پہنچائے۔
فدوی طوقان کا شعر:
“میں نے اپنی ماں سے پوچھا
ہماری زمین اتنی پیاری کیوں ہے؟
ماں نے کہا
کیونکہ اس کی مٹی میں انبیاء کا خون ہے
اور شہداء کا پسینہ”
—
۱۵ اکتوبر ۲۰۲۴
آج الخلیل کا خیال آیا۔ الخلیل وہ شہر ہے جہاں ابراہیم علیہ السلام آرام فرما ہیں۔ ان کے پہلو میں اسحاق و یعقوب بھی ہیں، اور ان کی بیویاں بھی۔
امی فرماتی ہیں الخلیل بہت خوبصورت شہر ہے۔ وہاں کی مسجد بہت بڑی ہے، لوگ دور دور سے زیارت کو آتے ہیں۔
آج الخلیل پر بھی قبضہ ہے۔ مسجد کے گرد فوجی پہرہ ہے۔ مگر مسجد قائم ہے، ابراہیم علیہ السلام کی روح وہاں موجود ہے۔
خیال آیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے حکمِ الٰہی پر سر تسلیم خم کیا۔ آج ہم اپنے بیٹوں کو قربان کر رہے ہیں۔ ہماری قربانی بھی اللہ ہی کے لیے ہے۔
حضرت ابراہیم کی دعا:
“رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا”
“اے میرے رب، اس شہر کو امن والا شہر بنا دے”
یہ دعا آج بھی سنی جا رہی ہے۔
سمیح القاسم کا شعر:
“ہم ابراہیم کی اولاد ہیں
قربانی ہمارے رگوں میں دوڑتی ہے
ہم اپنے بیٹوں کو قربان کرتے ہیں
تاکہ یہ زمین زندہ رہے”
—
۲۰ اکتوبر ۲۰۲۴
آج بیس دن ہو گئے جنگ شروع ہوئے۔ دودھ نہ مل سکا۔ یوسف رو رہا ہے، بھوک سے بے حال ہے۔ میں نے اسے کہانی سنائی، یوسف علیہ السلام کی کہانی۔
“یوسف، ایک بچہ تھا جس کا نام بھی یوسف تھا۔ اس کے بھائی اس سے حسد کرتے تھے۔ انہوں نے اسے کنویں میں پھینک دیا۔ وہ بہت ڈرا تھا، بہت رویا تھا۔ مگر اللہ نے اسے بچا لیا۔ پھر وہ غلام بنا، پھر قید ہوا، پھر عزیز مصر بنا۔”
یوسف نے پوچھا “پھر کیا ہوا آپی؟”
“پھر اس کے بھائی اس کے سامنے حاضر ہوئے، اور اس نے انہیں معاف کر دیا۔”
“آپی، میں بھی یوسف ہوں نا؟ کیا میں بھی بڑا آدمی بنوں گا؟”
میں نے کہا “ہاں یوسف، ہر وہ بچہ جو صبر کرتا ہے، عزت پاتا ہے۔”یوسف سو گیا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
محمود درویش کا شعر:
“صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
یہ ہم نے یوسف سے سیکھا
کنویں کے اندھیرے کے بعد
تخت کی روشنی آتی ہے”
—
۲۵ اکتوبر ۲۰۲۴
آج والد صاحب گھر واپس آئے، نہایت تھکے ہوئے۔ پانی لے کر آ رہے تھے کہ راستے میں بمباری ہو گئی۔ وہ بھاگے، پانی گر گیا۔
والد صاحب رو پڑے۔ میں نے پہلی بار والد کو روتے دیکھا۔
انہیں گلے لگا کر کہا “ابو، پھر چلیں گے، کل پھر لے آئیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی پانی کے لیے دعا کی تھی، اللہ نے پانی دیا تھا۔ وہ دیں گے۔”
والد صاحب نے میری طرف دیکھا، پھر مسکرانے کی کوشش کی۔
“تم ٹھیک کہتی ہو بیٹی۔ کل پھر چلیں گے۔”
فدوی طوقان کا شعر:
“باپ کا رونا
سب سے بھاری ہوتا ہے
کیونکہ وہ چٹان ہوتا ہے
اور جب چٹان بھی روئے
تو سمجھو قیامت قریب ہے”
—
۲ نومبر ۲۰۲۴
آج سکول جانے کا دن تھا۔ مگر سکول نہیں رہا۔ وہ بھی ڈھا دیا گیا۔ میری دوست سارہ وہاں پڑھتی تھی۔ وہ زندہ ہے؟ پتہ نہیں۔ اس کے گھر کا رابطہ نہیں مل رہا۔
سارہ بہت اچھی نعت پڑھتی تھی۔ عیدوں پر وہ سب سے آگے ہوتی، نشید بلند کرتی۔
خیال آیا کہ داود علیہ السلام بھی خوشی میں اللہ کی حمد پڑھا کرتے تھے۔ وہ اللہ کی رضا میں وجدانی کیفیت میں آ جاتے تھے۔ان کو دیکھنے کے لیے پرندے اکٹھے ہو جایا کرتے تھے آج ہماری خوشیاں غائب ہیں،کیو کہ ہم حمد کرنا بھول گئے ہیں۔
مگر ایک دن پھر دبکہ ہو گا۔ ایک دن پھر عید آئے گی۔
تمیم البرغوثی کا شعر:
“ہم شکر کے نغمے گنگنائیں گے
چاہے پاؤں میں بیڑیاں ہوں
کیونکہ شکر کرنا
ہماری فطرت ہے
اور بیڑیاں عارضی ہیں”
—
۵ نومبر ۲۰۲۴
آج میں نے ڈائری میں تحریر کیا کہ انبیاء کی سرزمین سے میری کیا مراد ہے۔
انبیاء کی سرزمین کا مطلب یہ کہ یہاں کا ہر پتھر گواہ ہے، ہر درخت گواہ ہے، ہر ذرہ گواہ ہے۔
یہاں ابراہیم علیہ السلام نے قبلۂ اول کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔
یہاں یعقوب علیہ السلام نے یوسف کے غم میں آنسو بہائے۔
یہاں یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا اور خواب سچ ہوا۔
یہاں ایوب علیہ السلام نے صبر کے ستارے توڑے۔
یہاں موسیٰ علیہ السلام نے طورِ سینا پر کلامِ الٰہی سنا۔
یہاں داود علیہ السلام نے زبور کی تلاوت کی۔
یہاں سلیمان علیہ السلام نے جنوں اور پرندوں سے گفتگو کی۔
یہاں زکریا علیہ السلام نے بیٹے کی دعا مانگی۔
یہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور شہید ہوئے۔
یہاں عیسیٰ علیہ السلام نے آنکھ کھولی، اور یہیں سے آسمان پر اٹھائے گئے۔
یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہیں سے معراج ہوئی، یہیں مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی۔
یہ سب کچھ یہاں ہوا۔ اور آج ہم یہاں ہیں۔ ہم انہی کی زمین کے وارث ہیں۔ ہم انہی کی مٹی پر چل رہے ہیں۔
اور اگر آج بم گر رہے ہیں، تو کل امن ہو گا۔ کیونکہ انبیاء کی سرزمین پر امن ہی قائم رہنا چاہیے۔
محمود درویش کا شعر:
“اس سرزمین کا رب
ابھی تک زندہ ہے
اور وہ دیکھ رہا ہے
کہ ہم کیسے مرتے ہیں
اور کیسے جیتے ہیں”
—
۱۰ نومبر ۲۰۲۴
آج یوسف نے پوچھا “آپی، ابا کب آئیں گے؟”
والد صاحب تین دن پہلے پانی لینے گئے تھے۔ واپس نہیں آئے۔
میں نے کہا “جلد آ جائیں گے۔”
مگر دل میں خوف ہے۔ بہت خوف۔
رات کو ڈائری میں ایوب علیہ السلام کا حال لکھا۔ ان پر کیا کچھ نہ گزری۔ صحت چھن گئی، خاندان بچھڑ گیا، مال و زر جاتا رہا۔ مگر انہوں نے اللہ سے شکوہ نہ کیا۔ صبر کیا۔ اور آخر میں اللہ نے سب کچھ واپس دیا، اور بڑھا کر دیا۔
میں نے اللہ سے دعا مانگی کہ والد صاحب سلامت واپس آ جائیں۔
—
ایوب علیہ السلام کی دعا:
“أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ”
“مجھے مصیبت پہنچی ہے، اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے”
—
۱۵ نومبر ۲۰۲۴
امی رو رہی ہیں۔ بہت دیر سے رو رہی ہیں۔میں سمجھ گئی۔ والد صاحب نہیں آئیں گے۔امی کو چھوڑ کر باہر نکل آئی۔ آسمان پر بادل تھے۔ میں نے سوچا: ابا وہاں ہوں گے۔ بادلوں میں، آسمان پر، ہمیں دیکھ رہے ہوں گے۔
وہ ابراہیم علیہ السلام کے پڑوس میں ہوں گے، یوسف علیہ السلام کے قریب ہوں گے، عیسیٰ علیہ السلام کی صحبت میں ہوں گے۔یہ سوچ کر دل کو تسلی ہوئی۔
محمود درویش کا شعر:
“شہید نہیں مرتے
وہ بس زمین سے آسمان کی طرف کوچ کر جاتے ہیں
اور وہاں سے ہم پر مسکراتے ہیں”
—
۲۰ نومبر ۲۰۲۴
ایک بزرگ ہمارے خیمے میں آئے۔ بتایا کہ الخلیل سے بے گھر ہو کر آئے ہیں۔ ان کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی مسجد کی تصویر تھی۔
کہنے لگے “بیٹی، میں تمہیں ایک راز بتاؤں؟””ضرور بتائیں۔”
“ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں ایک پتھر ہے، جس پر ان کے قدم مبارک کا نشان ہے۔ میں نے اس پتھر کو چوما ہے، اس سے اپنا سر لگایا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ پتھر اب بھی وہاں ہے۔ بم گر سکتے ہیں، مگر وہ پتھر نہیں ہلے گا۔ کیونکہ وہ انبیاء کا نشان ہے۔”اس پتھر کی یاد دل میں بسی رہے گی۔
تمیم البرغوثی کا شعر:
“ہم پتھر ہیں
ہم نہیں ہلتے
چاہے جتنے بم گر جائیں
کیونکہ ہماری جڑیں
انبیاء کی قبروں سے جڑی ہیں”
—
۲۵ نومبر ۲۰۲۴
آج اپنے شہر رفح کے بارے میں لکھا۔ رفح بہت قدیم شہر ہے۔ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام بھی یہاں سے گزرے تھے۔
رفح مصر کی سرحد پہ واقع ہے۔ خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام بھی یہاں سے گزرے تھے جب مصر سے نکلے تھے۔
یہاں ۱۹۴۸ کے پناہ گزین بستے ہیں۔ ان کے پاس چابیاں ہیں۔ وہ یافا کی باتیں کرتے ہیں، حیفا کی، عکا کی۔
وہ کہتے ہیں “ہم واپس جائیں گے۔ جیسے یوسف علیہ السلام واپس گئے۔”
فدوی طوقان کا شعر:
“رفح کی ریت
گواہ ہے
ان قافلوں کی
جو گزر گئے
اور ان خوابوں کی
جو ابھی پورے نہیں ہوئے”
—
۳۰ نومبر ۲۰۲۴
آج رمضان کا آخری دن ہے۔ کل عید الفطر ہے۔عید کی کوئی تیاری نہیں۔ نئے کپڑے نہیں، مٹھائیاں نہیں، عیدی نہیں۔
مگر امی نے کہا “بیٹی، عید منانی ہے۔””کیسے امی؟”
امی نے میرے پرانے کپڑے دھوئے، استری کیے، اور ان پر پھول کڑھ دیے۔ خوبصورت لگ رہے تھے۔
“دیکھو، نئے کپڑے مل گئے۔”یوسف کی پرانی ٹوپی پہ نئے رنگ بھر دیے۔
رات کو امی نے کھجوروں کی مٹھائی بنائی۔ کھجوروں کو پیس کر تھوڑے سے تیل میں ملا کر۔ بہت مزیدار تھی۔
امی نے بتایا “یہ وہی مٹھائی ہے جو مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پہ بنائی تھی۔ برکت والی مٹھائی ہے۔”
ہم نے مٹھائی کھائی اور عید کی تیاری مکمل کی۔
—
محمود درویش کا شعر:
“عید آتی ہے
چاہے ہم خیموں میں ہوں
چاہے ملبے پہ ہوں
عید آتی ہے
کیونکہ عید
اللہ کا تحفہ ہے
اور اللہ اپنے بندوں کو نہیں بھولتا”
—
۱ دسمبر ۲۰۲۴ – عید الفطر
آج عید الفطر ہے۔
صبح سویرے اٹھے۔ پرانے مگر صاف ستھرے کپڑے پہنے۔ خیموں سے باہر نکلے۔
بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بچوں میں خوشی تھی۔ بعض کے پاس نئے کپڑے تھے، بعض کے پرانے۔ مگر سب کے چہروں پہ مسکراہٹ تھی۔
ایک جگہ جمع ہو کر عید کی نماز پڑھی۔ امام صاحب نے خطبہ دیا۔ فرمایا “آج عید ہے۔ غم کرو، مگر خوش بھی رہو۔ کیونکہ عید اللہ کی طرف سے انعام ہے، اور اللہ چاہتا ہے کہ ہم خوش رہیں۔”
نماز کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ “عید مبارک! عید مبارک!”
پھر قبرستان گئے۔ والد صاحب کی قبر پہ فاتحہ پڑھی۔ یوسف نے کہا “ابا، عید مبارک! ہم آپ کو یاد کرتے ہیں۔”
آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل تھے۔ شاید والد صاحب وہاں سے ہمیں دیکھ رہے ہیں، مسکرا رہے ہیں۔
واپس آ کر امی نے مٹھائی تقسیم کی۔ پڑوسیوں میں بانٹی، خاص کر ان خاندانوں میں جن کے پاس کچھ نہیں تھا۔
امی نے فرمایا “عید میں بانٹنے سے برکت بڑھتی ہے۔”شام کو خواتین نے زغارید بلند کیں، کچھ لوگوں نے دبکہ ڈانس کیا۔ تھوڑی دیر کے لیے، جنگ بھول گئے۔ عید آ گئی تھی۔
تمیم البرغوثی کا شعر:
“عید وہ دن ہے
جب ہم اپنے دکھ بھول جاتے ہیں
اور یاد رکھتے ہیں
کہ ہم زندہ ہیں
کہ ہم خوش ہو سکتے ہیں
کہ ہم انسان ہیں”
—
۵ دسمبر ۲۰۲۴
ایک خط موصول ہوا۔ خالہ کے بیٹے کا خط، جو اردن کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہے۔
اس نے لکھا تھا “مریم، ہم تمہیں یاد کرتے ہیں۔ ہم غزہ کو یاد کرتے ہیں۔ ہم سمندر کو یاد کرتے ہیں، زیتون کے درختوں کو یاد کرتے ہیں، مسجد اقصیٰ کو یاد کرتے ہیں۔”
“ہمارے دادا کے پاس اب بھی چابی ہے۔ وہ روز اسے دیکھتے ہیں، روز چومتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم واپس جائیں گے۔”
خط پڑھ کر امی کو سنایا۔ امی رو پڑیں۔ پھر بولیں “ہاں بیٹی، ہم واپس جائیں گے۔ یہ انبیاء کی سرزمین ہے، ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا۔”
میں نے سوچا، یوسف علیہ السلام جب کنویں میں تھے، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ واپسی ہو گی۔ مگر واپسی ہوئی۔ اور عزت سے ہوئی۔
ہم بھی واپس جائیں گے۔
فدوی طوقان کا شعر:
“چابی
صرف دھات کا ٹکڑا نہیں
یہ امید ہے
یہ وعدہ ہے
یہ واپسی کا راستہ ہے”
—
۱۰ دسمبر ۲۰۲۴
سخت سردی ہے۔ بارش ہو رہی ہے۔ خیمے میں پانی آنے لگا ہے۔ ہم نے بالٹیاں رکھ لی ہیں۔ پانی قیمتی ہے، ہر قطرہ جمع کر رہے ہیں۔
یوسف کو بخار ہے۔ وہ کانپ رہا ہے۔ امی پریشان ہیں۔ دوا نہیں، ڈاکٹر نہیں۔
میں نے دعا کی۔ زکریا علیہ السلام کی دعا پڑھی:
“رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ”
“اے میرے رب، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو بہترین وارث ہے۔”
یوسف کو اپنے پاس بٹھایا، گرم کپڑے اوڑھائے۔ اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔
یوسف بولا “آپی، مجھے ڈر لگتا ہے۔”
میں نے کہا “مت ڈر یوسف۔ اللہ ہے نا۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ وہ بچائے گا۔”
رات بہت لمبی تھی۔ مگر گزر گئی۔
ایوب علیہ السلام کی دعا:
“أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ”
—
۱۵ جنوری ۲۰۲۵
یوسف تندرست ہو گیا۔ بخار اتر گیا۔ امی نے کہا دعا قبول ہوئی۔
آج دھوپ نکلی ہے۔ بہت خوبصورت دھوپ۔ ہم خیمے سے باہر نکلے۔ یوسف دوڑنے لگا۔
دھوپ میں بیٹھ کر ڈائری لکھی:
“آج دھوپ ہے۔ یوسف ٹھیک ہے۔ امی خوش ہیں۔ جنگ ابھی جاری ہے، بم ابھی گر رہے ہیں۔ مگر آج دھوپ ہے، اور یوسف ٹھیک ہے، اور یہی بہت ہے۔”الحمدللہ۔
محمود درویش کا شعر:
“دھوپ نکلی
تو ہم بھول گئے
کہ رات کتنی لمبی تھی
دھوپ نکلی
تو ہمیں یاد آیا
کہ زندگی ابھی باقی ہے”
—
۲۰ جنوری ۲۰۲۵
ایک عالم دین ہمارے خیمے میں تشریف لائے۔ انہوں نے ڈائری دیکھی، چند صفحات پڑھے۔ فرمایا “بیٹی، تم بہت عمدہ لکھ رہی ہو۔ تمہیں معلوم ہے، یحییٰ علیہ السلام بھی کتابت کیا کرتے تھے۔ وہ اللہ کے کلام کو لکھتے تھے۔”
پھر فرمایا “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرو، خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ تم علم حاصل کر رہی ہو، لکھ کر۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے۔”
انہوں نے دعا دی۔ کہا “اللہ تمہیں سلامت رکھے، اور تمہاری ڈائری کو سلامت رکھے۔”
—
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
“طلب العلم فريضة على كل مسلم”
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”
—
۲۵ جنوری ۲۰۲۵
آج رات ڈائری میں ایک نظم لکھی۔ میری پہلی نظم۔
“سرزمینِ انبیاء”
یہ سرزمین انبیاء کی ہے
یہاں ابراہیم نے قربانی دی
یہاں یوسف نے خواب دیکھا
یہاں ایوب نے صبر کیا
یہاں موسیٰ نے کلام سنا
یہاں داود نے زبور پڑھی
یہاں سلیمان نے پرندوں سے باتیں کیں
یہاں زکریا نے بیٹے کی دعا مانگی
یہاں یحییٰ نے شہادت پائی
یہاں عیسیٰ نے آنکھ کھولی
یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم معراج پہ گئے
یہ سرزمین انبیاء کی ہے
اور آج ہم یہاں ہیں
ہم انہی کی زمین پہ
ہم انہی کی مٹی پہ
ہم انہی کی امید پہ
بم گرتے ہیں
گھر گرتے ہیں
مسجدیں گرتی ہیں
گرجا گھر گرتے ہیں
مگر یہ سرزمین
انبیاء کی سرزمین
نہیں گرتی
کیونکہ اس کی مٹی میں
انبیاء کا پسینہ ہے
شہداء کا خون ہے
اور اللہ کا وعدہ ہے
یہ سرزمین
انبیاء کی سرزمین
ہماری ہے
اور رہے گی
—
فدوی طوقان کا شعر:
“شاعری وہ زبان ہے
جس میں زخم بولتے ہیں
اور امید ہنستی ہے”
—
آخری باب: مریم کا آخری خط
۵ فروری ۲۰۲۵
عزیز قارئین،
اگر تم یہ ڈائری پڑھ رہے ہو تو جان لینا کہ میں نے یہ سب لکھا ہے۔ یہ میری داستان ہے، میرے خاندان کی داستان ہے، میرے شہر کی داستان ہے، میری سرزمین کی داستان ہے۔
میرا نام مریم ہے۔ میں نے تیرہ برس کی عمر میں یہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔ اب چودہ برس کی ہو گئی ہوں۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بم ابھی گر رہے ہیں۔ بھوک ابھی ہے، پیاس ابھی ہے۔
مگر امید ابھی ہے۔
یہ سرزمین انبیاء کی سرزمین ہے۔ یہاں ابراہیم علیہ السلام رہے۔ یہاں یوسف علیہ السلام پیدا ہوئے۔ یہاں موسیٰ علیہ السلام آئے۔ یہاں عیسیٰ علیہ السلام نے آنکھ کھولی۔ یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔
یہ سرزمین مقدس ہے۔ اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ہم شاید نہ بچیں۔ میری ڈائری شاید نہ بچے۔ مگر یہ سرزمین بچے گی۔ کیونکہ اللہ نے اسے برکت دی ہے۔
تم جو یہ پڑھ رہے ہو، جان لینا کہ ہم تھے۔ ہم نے دیکھا، ہم نے محسوس کیا، ہم نے صبر کیا، ہم نے امید رکھی۔
اور ہم چاہتے ہیں کہ تم بھی امید رکھو۔کیونکہ امید ہی وہ چیز ہے جو ہمیں زندہ رکھتی ہے۔ امید ہی وہ چیز ہے جو اس سرزمین کو زندہ رکھتی ہے۔
تمہاری بہن،
مریم
غزہ، فلسطین
سرزمینِ انبیاء
محمود درویش کا آخری پیغام:
“ہمیں ایک لاعلاج بیماری لگ گئی ہے… امید!”
اور یہ بیماری مریم کو ہے۔
یہ بیماری غزہ کے ہر بچے کو ہے۔
یہ بیماری پورے فلسطین کو ہے۔
اور خدا کرے یہ بیماری کبھی ختم نہ ہو۔
ختم شد
اللہ مریم اور تمام غزہ کے بچوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
—
روبینہ شاہین
مدیرہ قلم کتاب
رمضان المبارک 2026