جدید سائنس مٹی کے برتن کو مفید قرار دے کر اسکے استعمال کی جانب توجہ دلا رہی ہے۔
نبی کی سنت اور سائنسی اعتراف
تحریر : لبنٰی جمشید
انسان کی زندگی میں مٹی اس لیے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ انسان خود اسی مٹی سے بنا ہے۔ اس پر فخر کرنے کے لیے کیا یہ بہت نہیں کہ مرنے کے بعد بھی مٹی ہونا ہے۔ مٹی سے انواع واقسام کی چیزیں بنانے کے ساتھ ساتھ صدیوں پہلے ضرورت کی سب سے اہم چیز برتن بھی مٹی کو گوندھ کر بناناسیکھ لیا۔ مٹی کے برتنوں کی تاریخ سب سے قدیم ہے۔ زمانہ ازل سے ہی مٹی سے بنے برتنوں میں کھانا پکانے اور کھانے کا رواج تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی جگہ شیشے, پلاسٹک , کرسٹل, میلامائن, سٹیل اور پتھر کے برتنوں نے لے لی لیکن پھر بھی مٹی کے برتنوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ہمارے نبی پاکﷺ کی سنت مٹی کے برتنوں میں کھانا ہے۔ آپﷺ مٹی کے پیالے میں پانی پیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اب سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ مٹی کے برتن میں کھانے سے معدنیات ضائع نہیں ہوتے. مٹی میں قدرتی طورالکائن کے ذرات پاۓ جاتے ہیں جس سے خوراک میں گیسٹرک اجزا۶ کی نمو کا عمل سست روی سے ہوتا ہے اور نتیجتاََ ہاضمے کا عمل درست رہتا ہے۔
کمہار کا چاک
کیا کبھی آپ نے کمہار کو پہیہ چلا کر اپنی انگلیوں کے فنِ جنبش سے مختلف برتن بناتے دیکھا ہے؟ جب وہ چاک گھما کر گیلی مٹی سے انواح واقسام کی ہانڈیاں, پیالے, جگ, گلاس اور دوسری اشیا۶ بنا رہا ہوتا ہے تو اس کے اندر مٹی کی مہک اور محبت کے احساسات بھی گندھ کر شامل ہو جاتا ہے جس سے اس کے اندر کے جذبات بھی برتنوں کی خوبصورتی میں جھلکتے ہیں۔
کھانے کی افادیت
مٹی کے برتن میں پکانے اور کھانے کے فوائد عام اسٹیل کے برتنوں سے کہیں زیادہ ہیں
ہانڈی میں کھانے بنتے ہوۓ آگ کی آنچ مٹی کے ذرات میں سے گزر کر مدہم لو میں پہنچتی ہے اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کھانے کی غذائیت ضائع نہیں ہو پاتی۔ کھانا مٹی کے برتن میں دیر تک گرم رہتا ہے۔ کھانے کا ذائقہ بھی کسی دوسری دھات سے بنے برتنوں کے مقابلے میں زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔
مٹی کی ہانڈی قدرتی طور پر چکنی ہوتی ہے اس لیے آئل اور گھی کی کم مقدار سے کھانا بن جاتا ہے۔
آجکل مختلف ریستورانٹس میں چکن ہانڈی, ویجی ہانڈی وغیرہ مٹی کی ہانڈیوں میں تیار کی جاتی ہیں اور لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔
مٹکے کا پانی
مٹی کے مٹکے میں پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے اور مٹی کے پیالے میں پینے کے قدرتی فوائد بھی ہیں۔ پلاسٹک یا دوسری دھاتوں کی نسبت اس میں ذہریلے مرکبات شامل نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے اسے پیور واٹر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
مٹکے کاپانی موسم کے بدلاؤ کے ساتھ ساتھ اپنی ٹھنڈک اور درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اس لیے فرج کے پانی کے مقابلے میں گلے کی سوزش اور نزلہ زکام سے محفوظ رکھتا ہے۔ مٹکے کا تازہ پانی گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے بے حد مددگار ہے۔
نبی ﷺ کی سنت
مٹی کے برتنوں میں کھانا ہمارے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔
امام احمد رضا خان سے روایت ہ حُضورِ اقدس ﷺ تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا پسند نہیں فرماتے تھے ۔ مٹی یا کاٹھ (یعنی لکڑی) کے برتن استعمال کرتے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔
کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں بے جا اِسراف اور اپنی امارات کی شیخی بگھارنا نہیں .
ایک اور حدیث مبارکہ ہے ”جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھےفرشتے اُس کی زیارت کریں گے۔“ امام بخاری شریف
مٹی کی کونسی صنف نقصان دہ ہے؟
یوں تو مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ڈاکٹرز کے ایک پینل نے 1980 فرانسس میں اس پر مذید تحقیق کی اور ثابت کیا کہ مٹی سے بنے وہ برتن جن پر پالش یا روغنی نقش و نگار بنے ہوں وہ جسمانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں اور بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ پالش کی وجہ سے مٹی کے مسام بند ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے خوراک کو آکسیڈنٹ مہیا نہیں ہو پاتی اور اس میں تیزابیت کے اجزا۶ شامل ہو جاتے ہیں۔
کم قیمت مگر فائدہ مند
مٹی کے برتن دوسری دھاتوں سے بنے برتنوں کی نسبت قیمت میں انتہائی کم ہوتے ہیں۔ اور با آسانی متوسط اور غریب طبقہ انکو خرید سکتا ہے۔ جس سے ان کے صحت کے مسائل کا بھی حل ہے ۔ یعنی کہ مٹی کے برتن معاشی اور طبی دونوں لحاظ سے مفید ہیں۔
مٹی کے بنے چولہے اور تنور
پاکستان کے شھر گجرات میں مٹی سے بنے چولہےاور تنور بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اندرون شہر صدیوں سےنسل در نسل ماہر کاریگر ان کو بناتے اور مختلف شہروں میں بیجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگثر بیرون ملک بھی گجرات کے بنے مٹی کے برتنوں کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ اس کو خاص قسم کی سرخ اور چکنی مٹی سے بنایا جاتا ہے جس میں کنکر ریت یا دوسرے ذرات بالکل بھی شامل نہ ہوں۔
خوبصورتی کا میعار
آجکل جہاں ان برتنوں کا استعمال کم ہونا شروع ہوا ہے وہیں اب مٹی کے برتنوں کو جدید شکل اور نقش و نگار سے مزین کر کے ڈیکوریشن پیسز کے طور پر سجایا جاتا ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں مٹی کے برتن سازی کا شعبہ ایک مکمل مضمون کی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کےبرتنوں کہ رنگ و روغن کے بعد دیہات میں شلف پر سجایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف قسم کے مٹی کے پاٹ , گلدان, گلک, مٹی سے بنی سجاوٹ کی گھنٹیاں , جو عموماََ گھروں کے لان میں لٹکائی جاتی ہیں۔ مٹی سے بنے مختلف کھلونے جو دیکھنے پر آنکھوں پر خوشگوار تاثر چھوڑتے ہیں۔
ہم چاہے کتنے بھی جدید اور مارڈرن کیوں نہ ہو جائیں۔ رنگ برنگ کی دھاتوں میں ڈائینگ ہال میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوۓ مٹی کی سوندھی خوشبو اور اس سے بنے برتنوں کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔