296

کیا مودی کے آنے سے مسلمان مضبوط ہوئے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

کیا مودی کے آنے سے مسلمان مضبوط ہوئے ہیں؟
صائمہ خرم

حجاب سے اگر سیکولرزم خطرے میں آرہا ہے، تو ٹھیک ہے بھائی آنے دیجئے، دلوں میں کدورتیں، نفرتیں چھپائے جو اب تک
پھر رہے تھے مودی جی کے آنے کے بعد ان کا سنگھی پن ظاہر ہورہا ہے/ہوچکا ہے، سوال ہر کوئی اٹھا رہا ہے کہ ایجوکیشنل
انسٹیٹیوشنز میں حجاب کا کیا کام؟ لیکن یہ سوال کوئی نہیں پوچھ رہا ہے کہ انہیں انسٹیٹیوشنز میں سرسوتی پوجا، سوریہ نمسکار،
کتابوں میں بھگوت گیتا کے چیپٹرز، لڑکوں کے ہاتھوں میں کالوے، لڑکیوں کے چہرے پر بندیا یا دیگر مذہبی نشانات یہ سب کیا
ہے؟ کیا یہ تعلیمی اداروں کا ہندو کرن نہیں ہے؟
ہندوستان کے ہر تھانے میں مندر دیکھنے کو مل جاتا ہے، ہر افسر کے آفس میں مورتی دکھ جاتی ہے، اور تو اور کسی بھی
سیکولر ادارے کی تعمیر سے پہلے پوجا ارچنا ہوتی ہے، افتتاح کے لئے ناریل پھوڑے جاتے ہیں، کیا یہ سب چیزیں سیکولر
اداروں کو زیب دیتیں ہیں؟ اگر آپ کو اسکولوں میں برقعہ یا حجاب سے پرابلم ہے، تو پھر ساری مذہبی نشان یوں سے ہونی
چاہئے، مسلمانوں کے تئیں سیلکٹیو اپروچ عصبیت ہی کو درشاتا ہے اور کچھ نہیں
۔نریندر مودی کی حکومت نے ہندوستان کے چہرے سے نام نہاد سیکولرزم کا نقاب اتار دیا ہے، مسلمانوں کو وزیراعظم نری ندر
مودی کا شکرگزار ہونا چاہیے، جن کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوستان کی حقیقی تصویر دی کھی۔
مودی کی آمد سے مسلمان سیاسی، سماجی اور تعلیمی طور پہ مضبوط ہوا ہے۔

کیا مودی کے آنے سے مسلمان مضبوط ہوئے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں