359

ہم پر ظلم ہو تو ہم کیا کریں؟

تحریر شئیر کریں

ہم پر ظلم ہو تو ہم کیا کریں؟
صبر کریں۔
(صحيح مسلم : ٢٨٣٦)

آخر کب تک؟
جب تک موت نہیں آ جاتی۔
(صحيح البخاري : ٣٧٩٢)

تو حکمرانوں کو کون پوچھے گا؟
اللہ تعالیٰ۔
(صحيح البخاري : ٣٤٥٥)

اپنے حقوق کیلیے نکلنا بھی غلط ہے؟
جی ہاں!
(صحيح مسلم : ١٨٤٦)

ہم تو اپنا حق چھین کر لیں گے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔
(صحيح البخاري : ٧١٩٩)

لیکن پر امن احتجاج تو کیا جا سکتا ہے۔
اپنا احتجاج اللہ کی بارگاہ میں رکھیں۔
(صحيح البخاري : ٣٦٠٣)

اور کلمۂ حق کون کہے گا؟
وہ حکمران کے منہ پر کہا جائے گا، سڑکوں پر نہیں۔
(سنن أبي داؤد : ٤٣٤٤)

یہ تو ہمارے ہاں ممکن نہیں۔
پھر آپ اس کے مکلف بھی نہیں۔
(مسند أحمد : ١٩٤١٥)

لیکن یہ جمہوری ریاست ہے۔
جمہوری ریاست شرعی احکام سے ماورا نہیں ہوتی۔
(صحيح البخاري : ٧١٤٢)

قانون خود اجازت دیتا ہے۔
اللہ کا قانون اجازت نہیں دیتا۔
(صحيح البخاري : ٧٢٥٧)

پھر انکارِ منکر کیسے ہو گا؟
بھڑکاؤ پروگرام اور فتنۂ و فساد کے بغیر۔
(صحيح البخاري : ٧٠٩٨)

لیکن یہ حکمران تو شریعت پر نہیں چلتے۔
بھلے نہ چلتے ہوں۔
(صحيح مسلم : ١٨٤٧)

یہ ظالم و جابر، چور لٹیرے ہیں۔
بھلے ہوں۔
(صحيح مسلم : ١٨٤٧)

یہ استعمار کے آلہ کار ہیں۔
بھلے ہوں، جب تک دائرہ اسلام میں ہیں تو یہی حکم ہے۔
(صحيح البخاري : ٨٠٥٦)

یہ طاغوت / قاافر ہیں۔
ٹھیک ہے! اب ہماری اور آپ کی بحث نہیں۔ جو چاہیں کریں۔

  • آپ بزدلی کا سبق دے رہے ہیں۔ آپ حدیثوں کو غلط فِٹ کرتے ہیں۔ آپ سرکاری مولوی ہیں۔ آپ کو حکومت پیسے دیتی ہے۔ آپ مدخلی ہیں۔ آپ یہودیوں کے ٹاؤٹ ہیں۔ آپ حریتِ فکر کے مخالف ہیں۔ آپ حکمرانوں کو پُوجتے ہیں۔
  • آپ نے جو کہنا ہے کہیں۔ یہی ہمارا دین ہے اور ہم اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ دین جذبات سے نہیں، دلائل سے اخذ کیا جاتا ہے۔ وإلى الله ترجع الأمور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں