397

استحکام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری؟

تحریر شئیر کریں

استحکام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری؟

استحکام خاندان کے حوالے سے آج کل سوشل میڈیا پہ مباحث جاری ہیں۔جنہیں پڑھ کر دل کافی رنجیدہ بھی ہوتا ہے کہ امت زوال خاندان کی طرف رواں دواں ہیں۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاقیں لمحہ فکریہ ہیں۔یقینا اس میں دونوں فریقین کہیں نا کہیں غلط ہوتے ہیں جبھی گھر ٹوٹتے ہیں ۔اوپر سے صلح کروانے والے خیر چاہنے والے بہت کم ہو کر رہ گۓ ہیں۔مصالحتی کمیٹیوں کے قیام سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
کچھ نکات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی وہ یہ کہ ہمارے ہاں گھر کی ساری ذمہ داری عورت پہ ڈال دی جاتی ہے کہ اس کو ٹوٹنے سے بچانا تمہاری ذمہ داری ہے۔جو کہ سراسر غلط ہے۔جب نکاح ہوتا ہے دونوں کے ایجاب وقبول سے رشتہ قائم ہوتا ہے تو پھر ٹوٹنے سے بچانا عورت اکیلی کی ذمہ داری کیسے ہوگی۔

جب معاشرہ عورت پہ سب کچھ ڈال کر مردوں کو فارغ چھوڑ دیتا ہے تو پھر مرد وہی کرتے جو کر رہے ہیں۔میں نے بڑے دھڑلے سے ایسے مردوں کو کہتے سنا ہے کہ ہم جو مرضی کرے تمہارا کام ہے بسنا ۔۔۔تم بس کر دکھاؤ۔۔۔ ایسے میں عورت بیچاری کہاں جاۓ؟

خدارا ہوش کے ناخن لیں۔مردوں کو بتایا جاۓ کہ گھر سنبھالنا تمہاری بھی ذمہ داری ہے جتنی عورت کی۔بلکہ متد کو اللہ نے مضبوط بنایا ہے وہ زیادہ اچھے طریقے سے اس کو مینج کر سکتا۔نبی کریمﷺ کا فرمان کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے پر سیدھی نہیں ہوتی.اس کے ٹیڑھ پن کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہوتا۔یہ حدیث بھی عورت سے زیادہ مرد کو ذمہ دار بناتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں عورت ذمہ دار نہیں۔ذمہ دار ہے مگر اس معاملے میں مرد پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جیسا کہ عورت کو پریشرائز کیا جاتا ہے۔اصل میں ایسے مرد کو کرنا چاہیے تھا۔

استحکام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری ہے کہ ضمن میں
ایک بات اور کہ عورت کو مرد کے لیے سجنا سنورنا چاہیے۔بالکل چاہیے۔لیکن اگر کوئی عورت ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی نہیں کر پاتی تو لٹھ لے کر اس کے پیچھ پڑ جانا کہاں کی عقل مندی ہے۔۔مرد کو گھر بھی اپ ٹو ڈیٹ چاہیے ،بچے بھی اور ساتھ میں وہ یہ بھی چاہتا کہ کما کر بھی لاۓ اور ساس سسر نندوں کی بھی خدمت کرے۔۔۔تو میرا نہیں خیال کہ یہ سارے کام تن تنہا عورت کر سکتی۔لوئر مڈل کلاس گھرانوں میں جب بچے چھوٹے ہوں تو ماں کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔جہاں عورت کو سہولتیں میسر ہیں وہاں ضرور بننا سنورنا چاہیے۔مگر ہر

عورت کے حالات مختلف ہیں۔
استحام خاندان صرف عورت کی ذمہ داری بالکل نہیں ہے۔اس چیز سے باہر آئیں۔مردوں کو ذمہ دار بنائیں۔

معاشرہ میں ہر چیز زوال کی طرف رواں دواں ہیں انہی میں سے ایک گھر بھی ہے۔ہمیں بحثیت مجموعی اس امت کو زوال سے بچانا ہے۔اس کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔تعلیم کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔صرف پیٹ پالنے کے لیے ڈگریاں لینے والی قوم میں انقلاب کیسے رونما ہو گا۔انقلاب دل سے آیا کرتے۔دل بدلے گا تو جہاں بدلے گا۔اور دلوں کا علاج قرآن میں ہے۔نبی کریم ﷺ کی سیرت میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں