4

باب 8 شکر میں رکاوٹیں: شکایت، حسد، توقعات

تحریر شئیر کریں

—

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ شکر کرنے کے باوجود دل مطمئن نہیں ہوتا؟

لکھتے ہیں: “الحمد للہ”
مگر اندر ایک بے چینی رہتی ہے۔
ایک سوال، ایک شکایت، ایک کمی۔

کیوں؟

کیونکہ شکر کے راستے میں رکاوٹیں ہوتی ہیں۔
اور جب تک یہ رکاوٹیں دور نہ ہوں، شکر دل تک نہیں پہنچتا۔

آج ہم جانیں گے:

· شکر کی راہ میں کون سی رکاوٹیں آتی ہیں؟
· شکایت، حسد، اور توقعات — یہ شکر کو کیسے روکتے ہیں؟
· اور ان رکاوٹوں کو کیسے دور کریں؟

—

پہلی رکاوٹ: شکایت

شکایت کیا ہے؟

شکایت یہ کہنا ہے: “یہ کیوں ہوا؟”
یہ نہیں کہنا: “الحمد للہ، جو ہوا اچھا ہوا۔”

شکایت — شکر کی ضد ہے۔
جہاں شکایت ہے، وہاں شکر نہیں۔
جہاں شکر ہے، وہاں شکایت نہیں۔

دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

شکایت کیسے شکر کو روکتی ہے؟

جب آپ شکایت کرتے ہیں:

· “کام بہت ہے” — تو کام کی نعمت نظر نہیں آتی
· “تنخواہ کم ہے” — تو رزق کی برکت نظر نہیں آتی
· “بیوی سمجھتی نہیں” — تو ساتھ کی نعمت نظر نہیں آتی
· “بچے شرارتی ہیں” — تو اولاد کی نعمت نظر نہیں آتی

شکایت — نعمتوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

قرآن کیا کہتا ہے؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور تم اپنے رب کی نعمتوں کو کیوں جھٹلاتے ہو؟”
(سورۃ النجم: 18)

جھٹلانا — یعنی نعمت کو ماننا ہی نہیں۔
اور شکایت — نعمت کو جھٹلانے کا پہلا قدم ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

ڈاکٹر رابرٹ ایمونز اپنی کتاب “Thanks!” میں لکھتے ہیں:

“شکر اور شکایت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جب آپ شکر کرتے ہیں، تو شکایت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔”

ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ روزانہ شکایت کرتے ہیں، ان میں تناؤ کا ہارمون کورٹیسول 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

اور جب آپ شکایت چھوڑتے ہیں، تو:

· تناؤ کم ہوتا ہے
· نیند بہتر ہوتی ہے
· تعلقات سنورتے ہیں

شکایت کا حل

حل 1: شکایت کو شکر میں بدلیں

شکایت: “کام بہت ہے۔”
شکر: “شکر ہے، کام ہے — بہت لوگوں کو یہ بھی نہیں ملا۔”

شکایت: “تنخواہ کم ہے۔”
شکر: “شکر ہے، تنخواہ ہے — کچھ تو ہے۔”

شکایت: “بچے شرارتی ہیں۔”
شکر: “شکر ہے، بچے ہیں — کتنے گھر ویران ہیں۔”

حل 2: شکایت کی ڈائری

ایک ڈائری بنائیں — شکایت نامہ۔
ہر شکایت لکھیں۔
پھر اس کے سامنے شکر لکھیں۔

مثال:

شکایت شکر
کام بہت ہے شکر ہے، کام ہے
تنخواہ کم ہے شکر ہے، تنخواہ ہے
بیوی سمجھتی نہیں شکر ہے، بیوی ہے
بچے شرارتی ہیں شکر ہے، بچے ہیں

حل 3: شکایت کے بعد فوراً شکر

جب بھی شکایت آئے — فوراً ایک شکر لکھیں۔
یہ عادت بنائیں۔
چند دنوں میں شکایت کم ہو جائے گی۔

—

دوسری رکاوٹ: حسد

حسد کیا ہے؟

حسد یہ ہے: “فلاں کے پاس کیوں ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟”

حسد — شکر کو جلا دیتا ہے۔
جس دل میں حسد ہو، وہاں شکر نہیں اگتا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔”
(ابو داؤد)

حسد کیسے شکر کو روکتا ہے؟

حسد — آپ کی نظر دوسروں پر لگاتا ہے۔
اور جب نظر دوسروں پر ہو، تو اپنی نعمتیں نظر نہیں آتیں۔

· “فلاں کا گھر بڑا ہے” — اپنے گھر کی نعمت نہیں دکھتی
· “فلاں کی نوکری اچھی ہے” — اپنی نوکری کی برکت نہیں دکھتی
· “فلاں کے بچے ذہین ہیں” — اپنے بچوں کی خوبی نہیں دکھتی

حسد — نعمت کو چھپا دیتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

ایک تحقیق کے مطابق:

“حسد — دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو جسمانی درد سے جڑا ہے۔ یعنی حسد — درد دیتا ہے۔”

اور شکر — دماغ کے انعام والے حصے کو متحرک کرتا ہے۔
یعنی شکر — سکون دیتا ہے۔

حسد کا حل

حل 1: حسد کو دعا میں بدلیں

حسد: “فلاں کے پاس کیوں ہے؟”
دعا: “یا اللہ، اسے مزید دے — اور مجھے بھی اپنے فضل سے دے۔”

حل 2: اپنی نعمتیں گنیں

جب حسد آئے — فوراً اپنی تین نعمتیں لکھیں۔
یہ حسد کو توڑ دیتا ہے۔

حل 3: دوسروں کے لیے دعا کریں

جو آپ کو حسد ہو — اس کے لیے دعا کریں۔
یہ دل کو صاف کرتا ہے۔

حل 4: اللہ کی تقسیم پر راضی ہوں

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔”
(سورۃ النساء: 32)

یعنی: ہر ایک کا حصہ مختلف ہے۔
آپ کا حصہ — آپ کے لیے بہترین ہے۔

—

تیسری رکاوٹ: توقعات

توقعات کیا ہیں؟

توقعات یہ ہیں: “مجھے یہ ملنا چاہیے تھا۔”
یہ ہیں: “یہ تو ہونا ہی چاہیے تھا۔”
یہ ہیں: “یہ میرا حق تھا۔”

توقعات — شکر کو مار دیتی ہیں۔
کیونکہ جو چیز حق لگے، اس پر شکر نہیں آتا۔

مثال:

· اگر آپ سمجھیں: “ماں کا کھانا بنانا فرض ہے” — تو شکر نہیں آئے گا
· اگر آپ سمجھیں: “یہ ماں کی محبت ہے” — تو شکر آئے گا

توقعات کیسے شکر کو روکتی ہیں؟

توقعات — نعمت کو حق بنا دیتی ہیں۔
اور جو حق ہو، اس پر شکر نہیں ہوتا۔

· “مجھے ترقی ملنی چاہیے تھی” — ترقی پر شکر نہیں
· “مجھے صحت مند ہونا چاہیے” — صحت پر شکر نہیں
· “مجھے خوش ہونا چاہیے” — خوشی پر شکر نہیں

توقعات — شکر کا زہر ہیں۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

ڈاکٹر مارٹن سیلگ مین اپنی کتاب “Flourish” میں لکھتے ہیں:

“توقعات — خوشی کو کم کرتی ہیں۔ جو چیز متوقع ہو، وہ خوشی نہیں دیتی۔”

ایک تحقیق میں دیکھا گیا:

· جو لوگ توقعات رکھتے ہیں — وہ کم خوش ہیں
· جو لوگ شکر کرتے ہیں — وہ زیادہ خوش ہیں

توقعات کا حل

حل 1: توقعات کو شکر میں بدلیں

توقع: “مجھے ترقی ملنی چاہیے تھی۔”
شکر: “شکر ہے، مجھے نوکری ملی — بہت لوگ بے روزگار ہیں۔”

توقع: “مجھے صحت مند ہونا چاہیے۔”
شکر: “شکر ہے، میں بیمار نہیں ہوں — صحت ایک نعمت ہے۔”

حل 2: “چاہیے” کو “شکر ہے” میں بدلیں

جب بھی “چاہیے” آئے — فوراً “شکر ہے” کہیں۔
یہ عادت بنائیں۔

حل 3: نعمت کو حق نہ سمجھیں

ہر نعمت — عطیہ ہے۔
ہر نعمت — فضل ہے۔
ہر نعمت — اللہ کی طرف سے ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور جو نعمت بھی تمہارے پاس ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔”
(سورۃ النحل: 53)

—

چوتھی رکاوٹ: جلد بازی

جلد بازی کیا ہے؟

جلد بازی یہ ہے: “شکر کیا، اب نتیجہ کہاں ہے؟”

یعنی: شکر کو ایک سودا سمجھنا۔
“میں نے شکر کیا — اب اللہ کو کچھ دینا چاہیے۔”

یہ شکر نہیں — یہ سودا ہے۔

جلد بازی کیسے شکر کو روکتی ہے؟

شکر — بیج ہے۔
بیج — آج بوئیں، پھل — بعد میں آئے گا۔

اگر آپ بیج بونے کے اگلے دن پھل مانگیں — تو یہ بے وقوفی ہے۔

شکر بھی ایسا ہی ہے:

· آج لکھیں
· ہفتے بھر لکھیں
· مہینے بھر لکھیں
· پھر نتیجہ دیکھیں

قرآن کیا کہتا ہے؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور انسان جلد باز پیدا ہوا ہے۔”
(سورۃ الانبیاء: 37)

یہ ہماری فطرت ہے۔
مگر ہمیں صبر سیکھنا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

ڈاکٹر رابرٹ ایمونز لکھتے ہیں:

“شکر نامہ لکھنے کے پہلے دن کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آتی۔ مگر ہفتے بعد، جب آپ ماضی کے صفحے پلٹتے ہیں، تو ایک انقلاب محسوس ہوتا ہے۔”

یعنی: صبر ضروری ہے۔

جلد بازی کا حل

حل 1: 30 دن کا وعدہ

اپنے آپ سے وعدہ کریں:
“میں 30 دن مسلسل شکر لکھوں گا — نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو۔”

حل 2: نتیجہ نہ دیکھیں — عمل دیکھیں

روز لکھیں — اور بس۔
نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

حل 3: صبر کی دعا کریں

“یا اللہ، مجھے صبر دے۔ میں نے شکر شروع کیا ہے — تو مجھے ثابت قدم رکھ۔”

—

پانچویں رکاوٹ: موازنہ

موازنہ کیا ہے؟

موازنہ یہ ہے: “فلاں کے پاس زیادہ ہے، میرے پاس کم۔”

موازنہ — شکر کو توڑ دیتا ہے۔
کیونکہ جب نظر دوسروں پر ہو، تو اپنی نعمتیں نظر نہیں آتیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“اپنے سے اوپر والے کو دیکھو — تو تم اپنی نعمتوں کو حقیر سمجھو گے۔ اور اپنے سے نیچے والے کو دیکھو — تو تم شکر کرو گے۔”
(بخاری)

موازنہ کیسے شکر کو روکتا ہے؟

موازنہ — آپ کی نظر اوپر لگاتا ہے۔
اور جب نظر اوپر ہو، تو:

· اپنی نعمتیں چھوٹی لگتی ہیں
· دوسروں کی نعمتیں بڑی لگتی ہیں
· شکر — مر جاتا ہے

موازنہ کا حل

حل 1: نیچے دیکھیں، اوپر نہیں

اپنے سے کم والوں کو دیکھیں:

· جو بے گھر ہیں
· جو بھوکے ہیں
· جو بیمار ہیں
· جو بے روزگار ہیں

پھر آپ کی نعمتیں نظر آئیں گی۔

حل 2: اپنی نعمتوں کی فہرست

ایک کاغذ پر اپنی 50 نعمتیں لکھیں۔
جب موازنہ آئے — یہ فہرست پڑھیں۔

حل 3: دعا کریں

“یا اللہ، مجھے اپنی نعمتوں کی قدر کرنے والا بنا۔ دوسروں کی نعمتوں پر حسد نہ کرنے والا بنا۔”

—

چھٹی رکاوٹ: بھول جانا

بھول جانا کیا ہے؟

بھول جانا یہ ہے: “مجھے یاد ہی نہیں رہا۔”

یہ سب سے عام رکاوٹ ہے۔
ہم شکر کرنا بھول جاتے ہیں۔
ہم لکھنا بھول جاتے ہیں۔
ہم دعا بھول جاتے ہیں۔

بھول جانا کیسے شکر کو روکتا ہے؟

جو بھولا جاتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔
اگر آپ شکر بھولیں گے — تو نعمتیں بھی بھول جائیں گی۔
اور جب نعمتیں بھول جائیں — تو شکایت شروع ہو جائے گی۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

دماغ کی فطرت ہے: وہ منفی چیزیں یاد رکھتا ہے، مثبت چیزیں بھول جاتا ہے۔
اسے Negativity Bias کہتے ہیں۔

ڈاکٹر رک ہینسن اپنی کتاب “Buddha’s Brain” میں لکھتے ہیں:

“دماغ — منفی تجربات کو زیادہ آسانی سے یاد رکھتا ہے، مثبت تجربات کو بھول جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکر کو بار بار دہرانا ضروری ہے۔”

بھول جانے کا حل

حل 1: یاد دہانی لگائیں

موبائل میں تین یاد دہانیاں لگائیں:

· صبح 7 بجے
· دوپہر 2 بجے
· رات 9 بجے

پیغام: “شکر لکھیں — تین چیزیں”

حل 2: شکر نامہ ہر وقت سامنے رکھیں

کاپی — بستر کے پاس
موبائل — ہر وقت ساتھ

حل 3: عادت سے جوڑیں

شکر کو کسی موجود عادت سے جوڑیں:

· چائے پیتے وقت
· نماز کے بعد
· سونے سے پہلے

جیمز کلیئر لکھتے ہیں:

“نئی عادت کو پرانی عادت سے جوڑیں — تو وہ جلدی بن جاتی ہے۔”

—

ساتواں سوال: رکاوٹوں کا مکمل حل

یہاں ایک جامع حل ہے — تمام رکاوٹوں کے لیے:

ہر رکاوٹ — ایک نعمت چھپاتی ہے۔
ہر رکاوٹ — ایک شکر روکتی ہے۔

حل:

1. رکاوٹ کو پہچانیں — کون سی رکاوٹ ہے؟
2. اسے لکھیں — “مجھے شکایت ہے کیونکہ…”
3. اسے شکر میں بدلیں — “شکر ہے کہ…”
4. محسوس کریں — 10 سیکنڈ
5. دل سے کہیں — “الحمد للہ”

—

آٹھواں سوال: شکر میں رکاوٹوں کا نمونہ

تاریخ: 8 اکتوبر

آج کی رکاوٹیں اور ان کا حل:

1. شکایت — کام بہت ہے
شکر: شکر ہے، کام ہے — بہت لوگ بے روزگار ہیں۔
الحمد للہ۔

(10 سیکنڈ رکا، کام کی نعمت کا تصور کیا۔ دل سے کہا: یا اللہ، تیرا شکر۔)

2. حسد — فلاں کو ترقی ملی
شکر: شکر ہے، میری اپنی نوکری ہے — اور میرا رزق میرا ہے۔
الحمد للہ۔

(10 سیکنڈ رکا، اپنی نوکری کا تصور کیا۔ دل سے کہا: یا اللہ، تیرا شکر۔)

3. توقع — مجھے ترقی چاہیے تھی
شکر: شکر ہے، اللہ نے جو دیا — وہ بہتر ہے۔
الحمد للہ۔

(10 سیکنڈ رکا، اللہ کی حکمت کا تصور کیا۔ دل سے کہا: یا اللہ، تیرا شکر۔)

آج کا سبق:
ہر رکاوٹ — ایک شکر چھپاتی ہے۔

—

نواں سوال: رکاوٹوں کے خلاف فارمولا

رکاوٹ کو پہچانیں + اسے لکھیں + شکر میں بدلیں + محسوس کریں + دہرائیں = رکاوٹ کا خاتمہ

یہ شکر کا اصول ہے۔
یہ رکاوٹوں کا حل ہے۔

—

خلاصہ

اول: شکایت — شکر کی ضد ہے
دوم: حسد — شکر کو جلا دیتا ہے
سوم: توقعات — شکر کو مار دیتی ہیں
چہارم: جلد بازی — شکر کا سودا ہے
پنجم: موازنہ — شکر کو توڑ دیتا ہے
ششم: بھول جانا — شکر کو ختم کرتا ہے
ہفتم: ہر رکاوٹ کا حل — شکر میں تبدیلی
ہشتم: فارمولا: پہچانیں + لکھیں + بدلیں + محسوس کریں

—

آج کا کام

یہ پوسٹ پڑھ کر بس ایک کام کریں:

1. اپنی تین رکاوٹیں لکھیں
2. ہر ایک کو شکر میں بدلیں
3. ہر ایک پر 10 سیکنڈ رکیں
4. دل سے کہیں: “یا اللہ، تیرا شکر”
5. یہ روز کریں — 30 دن

پھر خود دیکھیں — کیا بدلتا ہے۔

—

آپ کا سوال

آپ کے شکر میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

—

اگلی پوسٹ

30 دن کا شکر چیلنج: عادت بناناباب 8 شکر میں رکاوٹیں: شکایت، حسد، توقعات

کل ہم جانیں گے کہ 30 دن کا شکر چیلنج کیسے مکمل کریں، اور اسے اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنائیں۔

—

شکر لکھیں، زندگی بدلیں۔ 🌸

مصنفہ: روبینہ شاہین
تاریخ: 8 اکتوبر 2026

—

لیبلز: #شکر #رکاوٹیں #شکایت #حسد #توقعات #صبر #اسلامی #نفسیات #شکر_گزاری

—

🌸

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں