797

سنامکی اسلام اور جدید سائنس

تحریر شئیر کریں

سنامکی اسلام اور جدید سائنس کے حوالے سے معلومات ملاحظ کیجیے۔

تحریر : لبنٰی جمشید

سنامکی کیا ہے؟

سنامکی ایک خود رو پودا ہے.، جس کے پتوں کا رنگ زردی مائل سبز ہوتا ہے۔ اس کی تاثیر گرم اور خشک ہے، اس پودے کی عمدہ ترین قسم مکہ سعودی عرب میں پائی جاتی ہے۔
حکیم اس پودے کو کئی بیماریوں کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔ اس پودے کو عربی اور فارسی میں سنامکی ، بنگالی میں سونا مکی ، اور انگریزی میں سنا کہتے ہیں۔

کرونا وبا کی موجودہ صورتحال میں برطانیہ میں مقیم پی ایچ ڈی ڈاکٹر ناظر نے دعوی کیا ہے کی سنا مکی کے استعمال سے کرونا کا مریض چند گھنٹوں میں صحتیاب ہو سکتا ہے۔ ہم اس دعوے کی حقیقت طب نبوی اور مریضوں پر کیے تجربات کی روشنی میں بیان کریں گے۔

سنا مکی سنت نبویﷺ‎ روشنی میں

حضرت اسما۶ بنتِ عمیسؓ فرماتی ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ میں کونسا مسہل استعمال کرتی ہوں ؟
میں نے عرض کی شبرم
انہوں نے فرمایا وہ تو بہت گرم ہے.آپ سنا کا استعمال کیا کریں کیونکہ اگر کوئی چیز موت سے شفا دے سکتی ہوتی تو وہ سنا تھی۔( ابن ماجہ )
حضرت عبداللہ بن ام حزامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ‎ نے فرمایا تمہارے لیئے سنا اور سنوت میں ہر بیماری سے شفا ہے سوا ئے سام کے۔ میں نے پوچھا حضورؐ سام کیا ہے فرمایا موت۔ ( ابنِ ماجہ، )

سناء کا مزاج گرم تر ہے ۔ لیکن اسے بیان نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں ہر مرض کی شفاء ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں روایت ہے کہ
’’اگر مردے کا علاج ہوتا تو سناء مکی سے ہوتا‘‘

ابو ایوب انصاریؓ بھی روایت فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا سنا اور سنوت میں ہر بیماری سے شفا ہے(ابن ِعساکر)

خواص

رنگ زردی مائل = سبز
پھولوں کارنگ = زرد

طبی ماہرین کے مطابق مقدار استعمال

کیلی فورنیا کی یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن رائڈ نے سنامکی پر حالیہ ریسرچ کی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی خوراک عمر کی مطابق ایک سے پانچ گرام تک متعین کی جانی چا ہیے۔ مقررہ مقدار سے زیادہ استعمال کرنے سے مذکورہ منفی اثرات ظاہر ہونے کا اندیشہ ۔ہوتا ہےسنامکی اسلام اور جدید سائنس۔

سنامکی کے فوائد

قبض کشا

ذہبیؒ کی تحقیقات کے مطابق سنا کے فوائد بے شمار ہیں لیکن دیسی طب کی دنیا نے جہاں سمجھ نہ آئی وہاں سنا کا استعمال کیا۔ ان کے خیال میں سنا کے استعمال سے فاسد اور غلیظ مادے جسم سے خارج ہوجاتے ہیں اور جسم تندرست ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یعنی کہ اس بات سے ثابت ہے کہ سنا مکی قبض کشا ہے۔
قبض، پیٹ ، دانت اور گلے کے امراض کیلئے لاجواب نسخہ
سناکے پتے 100گرام، گندھک 50 گرام ، ملٹھی 100گرام ، سونف 50گرام ، چینی 300گرام۔کو ملا کر پیس کر ایک ٹی اسپون روزانہ صبح استعمال کریں۔

امراض قلب

ابنِ سینا نے اسے امراضِ قلب میں کام آنے والی ادویات میں بہت اہم قرار دیا ہے۔ یہ وسوسوں کو دور کرتی ہے اور جوڑوں کے درد کیلئے بہت مفید ہے۔

قہوے کا استعمال

الرازی کے مطابق سنا کا جوشاندہ سفوف سے بہتر ہے ۔ اگر جوشاندہ بناتے وقت اس مین شاہترہ، منقٰی اور بنفشہ شامل کرلیا جائے اور مٹھاس کیلئے چینی ڈال لی جائے تو اس سے فوائد مین کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

دماغی امراض میں مفید

عرق نسا۶ گٹھیا اور پرانے سر درد میں مفید ہونے کے ساتھ ساتھ دماغ سے وہم اور وسواس کو دور کرتی ہے۔
اس کے علاوہ خون صاف کر کے پیٹ کے کیڑے مار دیتی ہے۔

نظام انہضام کے لیے

ہاضمہ کی خرابی کی وجہ سے آکسلیٹ اور یوریٹ زیادہ مقدار میں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ پیشاب میں آکسلیٹ آنا آئندہ پتھریوں کے پیدا ہونے کا پیش خیمہ ہونے کے ساتھ ساتھ جلن اور ذہنی پریشانی کا باعث ہوتے ہیں، کیونکہ یوریٹ , آکسلیٹ پیشاب میں حل نہیں ہو پاتے۔ اس صورت میں
مریض کو سفید رطوبت کی الگ نظر آتے ہین جسے بعض معالج جریان قرار دیتے ہین، ایسے مریضون کیلئے سنا مکی کا ملٹھی اور سونف کے ساتھ سفوف بہت فائدہ مند ہے۔
سنا مکی کا مسلسل استعمال گردوں پتہ اور مثانے سے پتھری کوحل کرکے نکالنے میں مفید ہے۔

سنامکی میں کرونا کا علاج؟

آجکل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر برطانوی نژاد ڈاکٹر کی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ سنا مکی اور شہد سے ایک قہوہ بنانے کا دعوی کر رہے ہیں ۔ ان کے مطابق اس طریقہ علاج سے 80 سے زیادہ مریض صحتیاب ہوۓ ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ سنا مکی طب نبوی کے مطابق شفا ہے مگر ہر چیز کے استعمال کی ایک مقررہ خوراک اور مدت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہر انسان کا نظام انہضام اور مزاج مختلف ہوتا ہے.

اس ویڈیو پر تحقیق کی گئی تو قہوے کے استعمال سے کرونا کے مریض ڈا ئیریا کا شکار ہو کر مذید تکلیف دہ کیفیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اس وقت برطانیہ کرونا کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قہوے کا درست طریقہ کار اور اوقات پر کاربند نہ ہوتے ہوۓ بے دریغ استعمال تھا۔

کروناکے مریضوں کے لیے قہوہ بنانے کا درست طریقہ

مردان کے رہائشی یاسر مختار اپنی اہلیہ کو کووڈ۔19 کی علامات ظاہر ہونے پر سنا مکی کے پتوں کا قہوہ ، انجیر، لونگ، دارچینی، کالی مرچ اور منکا شامل کر کے دے رہے ہیں۔ اور ان کے خیال میں ان چیزوں سے افاقہ ہو رہا ہے۔ قہوے کی مقدار روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک اونس رات کو سونے سے قبل ہے

انہوں نے ویب سائٹ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری چیزیں واحد حل نہیں ہیں۔ ہم اپنے مریض کو ڈاکٹر کی دوائیاں بھی دے رہے ہیں۔ جن سے میری بیوی کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے۔

برطانوی ڈاکٹر نے بھی یہی مقدار تجویز کی ہے اور قہوہ بنانے کا طریقہ یہ ہے۔

ڈیڑھ کپ / دو کپ پانی میں ایک چمچہ سنا بھرا ہوا آدھی چمچی، کچی شکر یا سونف ڈال کر ابال لیں اور پھر ہلکی آنچ پر دم کے لیئے پتیلی پر ڈھکن رکھ کر پانچ منٹ سے دس منٹ کے لیئے چھوڑ دیں۔ آپ سنا مکی کے قہوہ میں سونف، زیرہ، منقیٰ، گلاب کی پتیاں، ملٹھی یا کچی شکر بھی ڈال سکتے ہیں یعنی ان میں سے جو بھی میسر ہو، حسب طبیعت ضرور ڈالیں

سنامکی کے بے دریغ استعمال سے کروناکے مریضوں پر اثرات

پاکستانيوں نے سنامکی کا طریقہ علاج تو سن لیا مگر اس پر کمل اور درست طریقے سے کاربند نہ رہ سکے اور قہوے کا بے دریغ استعمال ان کو پیٹ کی بیماریاں اسہال اور ڈائیریا میں مبتلا کر گیا۔۔

لاہور کے میو ہسپتال میں پھیپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر سلمان ایاز کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کرونا کے بہت سے ایسے مریض آئے جنہوں نے سنا مکی کے قہوے کا بے پناہ استعمال کیا اور اس کے بعد ان کی حالت ڈائیریا سے مزید خراب ہو گئی۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بتائی گئی مقدار سے ذیادہ یہ قہوہ پینے سے پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور دست آنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مریض جسے پہلے ہی وٹامن اور اپنے جسم میں نمکیات بہتر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اسہال کی وجہ سے مزید بیمار ہو جاتا ہے۔

ہر انسان کی قوت مدافعت اور اس کا جسم مختلف انداز میں ہر دوائی یا ہربل علاج پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کورونا کے مریض خصوصاََ طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ایسے ٹوٹکے آزمانے سے بھی گریز کریں

ہومیو ڈاکٹر سیماسعید اپنےبلاگ میں اس قہوے کے استعمال کا مشورہ دیتی نظر آئیں ۔ان کے مطابق قہوہ درج ذیل اجزا۶ کے مطابق بنانا مفید ہے۔

ڈیڑھ کپ / دو کپ پانی میں ایک چمچہ سنا بھرا ہوا آدھی چمچی، کچی شکر یا سونف ڈال کر ابال لیں اور پھر ہلکی آنچ پر دم کے لیئے پتیلی پر ڈھکن رکھ کر پانچ منٹ سے دس منٹ کے لیئے چھوڑ دیں۔ آپ سنا کے قہوہ میں ساتھ سونف ، زیرہ ، منقیٰ ، گلاب کی پتیاں، ملٹھی یا کچی شکر ڈال سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ انہوں نے متنبہ بھی کیا ہے کہ زیادہ مقدار اور زیادہ دن مسلسل استعمال نہ کیا جاۓ اور حاملہ خواتین اور بچے ۔بالکلاستعمال نہ کرسنامکی اسلام اور جدید سائنس۔نے اسے جن جن بیماریوں میں مفید بتایا ہے ان میں استعمال کر کے اس کرشماتی جڑی بوٹی سے فائدہ اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں