عادات کیسے بنائیں جائیں؟
انسان عادات کا مجموعہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ سوچ سے عادات جنم لیتیں اور عادات سے عقیدہ بنتا جو ہمارے ہر عمل کی بنیاد ہوتا ہے۔عادتیں اچھی اور بری دونوں طرح کی ہوتیں ہیں۔انسان عادتوں کا غلام ہوتا ہے۔اچھی عادتیں اسے ایک اچھا انسان بناتی اور بری عادتیں برا انسان۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی عادات اختیار کی جاییں ۔اور اچھی عادات تب جنم۔لیتیں جب بری عادات کو ترک کیا جاے۔ذیل۔میں عادات بنانے کے طریقوں پہ بات کی جاۓ گی کہ یہ بنتی کیسے ہیں؟
عادتیں بنانے کے طریقے
عزم ارادہ پہلی سیڑھی ہوا کرتی ہے۔پختہ عزم کریں پھر اللہ سے دعا کے زریعے مدد طلب کریں۔
چھوٹی اور آسان چیز سے شروع کریں۔۔پھر بڑھاتے جائیں
ایک وقت میں ایک چیز پہ فوکس کریں۔کسی بھی کام کو کرتے ہوۓ اینڈ رزلٹ ذہن میں رکھیں۔
لکھ کے پلان کریں۔تحقیق سے ثابت ہوتا ہے جو پلان لکھ کے مینج کیے جائیں وہ جلدی پورے ہوتے ہیں بہ نسبت ان پلان کے جو زبانی کلامی ہوتے۔
جو عادت آپ چھوڑنا چاہتے مثلا غیبت تو اس کے نقصانات لکھیں۔اس سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ غیبت کا سراسر نقصان ہی ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔اسی طرح کسی اچھی عادت کو اپنانا چاہتے تو اس کے بھی فائدے لکھیں۔اس سے مائنڈ سیٹ بدلنے میں آسانی ہوتی ہے۔
مائنڈ سیٹ بدلنا
کسی بھی عادت کو چھوڑنا یا اختیار کرنا تب بہت آسان ہوجاتا ہے جب اسے دماغ قبول کر لے۔دماغ کو قبولنے میں بھی ایک وقت لگتا۔جو چیز اس میں فیڈ ہو جاتی وہ ہمیشہ کے لیے لاشعور میں چلی جاتی ہے۔اصل مسئلہ ان فیڈ ہوئی عادات کو۔دماغ سے نکالنا ہے۔نکالیں گے نہیں تو نئ عادتیں بنے گی کیسے۔اگر آپ کے اندر اعتماد کی کمی ہے تو آپ ایک فقرہ ےرتیب دیں ” مجھے خود پہ یقین ہے اور اللہ میرے ساتھ ہے۔”
یہ فقرہ روزانہ اکیس بار سوتے وقت خود سے بول کے کہنا ہے۔ایک دن چھوڑ کے ایک دن اس کی مشق کریں۔آہستہ آہستہ دماغ اس کو قبول کرنا شروع کر دے گا اور آپ کے اندر خوداعتمادی پیدا ہونا شروع ہو جاۓ گی۔اس کے بعد تیس دن والا طریقہ اختیار کریں۔کیونکہ دماغ جب تک قبول۔نہیں کرتا تب تک عمل میں پختگی نہیں آسکتی۔
ریمائنڈر لگائیں
کہیں لکھ کے لگائیں دیں تاکہ آتے جاتے نظر پڑتی رہے۔اور آپ کی یاد دہانی ہوتی رہے۔
تیس دن لگاتار کرنا
کسی بھی عادت کو اپنانا خاصا مشکل ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں ہوتا۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کی اگر کسی بھی کام کو لگاتار تیس دن کر لیا جاۓ تو وہ عادت بن جاتا ہے۔اور چالیس دن تک کر لیں تو بہت ہی اچھا۔اس مقصد کے لیے جو اچھی بات آپ اپنانا چاہتے اسے لکھ لیں اور تیس خانے بنا لیں۔مثلا آپ نے عہد کیا کہ غیبت نہیں کرنی تو ہر دن جب آپ غیبت نا کرنے میں کامیاب ہوتے تو گڈ کا نشان لگا دیں۔اسی طرح کرتے رہیں اگر پندرھویں دن غیبت کر دی تو پھر نئ شیٹ بنائیں اور نۓ سرے سے شروع کریں۔۔پھر چلتے چلتے اگر تیسویں دن بھی یہ غلطی ہو جاتی تو پھر نۓ سرے سے شروع کرنا ہوگا۔ہوسکتا کسی کو دو ماہ اور کسی کو اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ۔شرعی نقط نظر سے بھی تیس اور چالیس کا ہندسہ قابل غور ہے۔روزے تیس دن کے ہوتے ہیں۔چالیس دن کا چلہ بھی سنا ہوگا۔ان سب کے پیچھے مقصد عادت کا بنانا ہوتا ہے تاکہ وہ چیز عمل میں سرایت کر جاۓ۔کچھ ماہرین اس مدت کا دورانیہ تین ماہ تک بڑھانے کا بھی کہتے ہیں تاکہ تاحیات وہ عادت آپ کے عمل کا حصہ بنی رہے۔اس کو habit making mathodکہا جاتا ہے۔
کون کون سی چیز عادت بدلنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی
ڈاکٹر فرحت ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز سکالر ہیں وہ عادات بنانے کے حوالے سے کہتیں ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی عادت ایسی نہیں جسے بدلا نا جا سکے۔جب بھی کسی عادت کو بدلنے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو کاپی پینسل اٹھائیں اور ان رکاوٹوں کو لکھنا شروع کریں کہ۔کیا چیز مسئلہ پیدا کر رہی۔پھر ایک ایک کر کے ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
مثلا راقمہ کو کھانے کے بعد پانی پینے کی عادت تھی۔میں نے بہت مشکل سے چھوڑا مگر چھوڑ دیا۔اس کا ایک طریقہ یہ کہ کھانے سے پہلے پانی پی لیں تو بعد میں بمشکل ہی پینے کو دل چاہتا۔اور جب کبھی بھول جاتی تو پھر لازما دل کرتا تھا۔اس مقصد کے لیے میں پانی پاس نہیں رکھتی تھی۔تاکہ نا پاس ہوں اور نا پیوں۔
جشن منائیں
جب ایک عادت اپنا لیں تو خود کو شاباش دیں اور جشن منائیں۔پارٹی کریں کسی کی نہیں بلکہ اپنی۔اپنی فیورٹ جگہ سے کھانا کھائیں وغیرہ
ڈاکٹر غزالہ موسی کہتی ہیں کہ جب پلان کریں تو آخر میں یہ بھی طے کریں کہ جب میں اس عادت کو بدلنے میں کامیاب ہوں گا تو جشن مناؤں گا۔اور اس جشن کا مینیو اور لوگ کون کون شریک ہوگا۔