571

مولانا طارق جمیل برانڈ

تحریر شئیر کریں

مولانا طارق جمیل برانڈ کیوں لانچ کیا گیا؟مولانا نے وجہ بتا دی

مولانا طارق جمیل برانڈ لانچ کر دیا گیا۔یہ سوال بجلی کی طرح سوشل میڈیا پہ وائرل ہوا۔اور ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

کچھ لوگو ں کا کہنا ہے کہ علماء کا تجارت میں کیا کام؟جبکہ کچھ لوگ اس کو سراہ بھی رہے اور اچھا اقدام قرار دے رہے ہیں۔

مولانا طارق جمیل برانڈ پہ خود مولانا کا ایک وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔جس میں انھوں نے تفصیلا بتایا کہ انھیں برانڈ لانچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ ئی ہے؟اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے میرے ان دوست احباب کا بزنس ٹھپ ہوگیا جو مجھے مدارس چلانے کے لیے مالی معاونت کرتے تھے۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا ہوگا؟یہی وہ مسئلہ تھا جسے حل کرنے کے لیے میں بزنس کی طرف آیا کیونکہ میں نے عہد کیا تھا کہ اب میں کسی سے چندہ نہیں مانگوں گا۔مولانا نے کہا کہ مجھے کبھی بزنس کا خیال نہیں آیا سواۓ ایک بار فصل کاشت کی تھی۔

جہاں تک علماء کے بزنس کرنا کا سوال ہے برصغیر پاک ویند میں ایسی فضا بنا دی گئ ہے کہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ حنفی مکتبہ فکر کے امام ابوحنیفہ خود بہت بڑے تاجر تھے۔صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین بھی تجارت کیا کرتے تھے۔خود نبی کریم ﷺ نے تجارت کی اور تجارت کی ترغیب بھی دلائی ہے ان کے متعدد فرامین سے تجارت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نبی کریم ﷺ بطور ایماندار تاجر


جہاں تک مدارس اور علماء کی بات ہے اگر وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی عزت ہو تو انھیں خودانحصاری کے راستے پہ چلنا ہوگا۔یہ راستہ انھیں مالی محتاجی سے بھی بچاۓ گا اور معاشرے میں عزت بھی۔پاکستان بننے سے قبل کی تاریخ دیکھ لیں۔مدارس کے ساتھ زمینیں ہوتیں تھیں۔جن پہ کاشت کی جاتی تھی اور ان سے حاصل۔ہونے والی آمدنی سے مدارس چلتے تھے۔یہی سب سے عمدہ راستہ ہے۔۔مولانا نے اپنا برانڈ لانچ کر کے علماء کو ایک بار پھر اس راستے کی ترغیب دی ہے جو انھیں خودانحصار بناۓ گا۔ویل ڈن مولانا صاحب،آپ نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔مولانا کے برانڈ کا نام برانڈ ہے۔جو کپڑے کا کام کرے گی۔MTJ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں