15

ناف میں تیل ڈالنے کے حیرت انگیز فوائد: حقیقت کیا ہے؟

تحریر شئیر کریں

ناف میں تیل ڈالنے کے حیرت انگیز فوائد: حقیقت کیا ہے؟

فوکس کی ورڈ: ناف میں تیل ڈالنے کے فوائد

متعلقہ کلیدی الفاظ: ناف میں تیل ڈالنا، ناف میں زیتون کا تیل، ناف میں تیل لگانے کے فائدے، زیتون کے تیل کے فوائد، گھریلو ٹوٹکے

ناف میں تیل ڈالنے کے فوائد، حقیقت جاننا کیوں ضروری ہے؟

سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ناف میں تیل ڈالنے سے جسم کے مختلف حصوں کو فائدہ پہنچتا ہے، جلد نرم ہوتی ہے، ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، بال مضبوط ہوتے ہیں اور کئی عام مسائل میں آرام آتا ہے۔ بعض لوگ تو مختلف تیلوں کے مخصوص فوائد بھی بیان کرتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ان دعوؤں کے پیچھے واقعی سائنسی تحقیق موجود ہے؟

ناف انسانی جسم کا ایک اہم حصہ ضرور ہے، لیکن بالغ انسان میں ناف کسی ایسی خصوصی نالی کا راستہ نہیں جس کے ذریعے تیل براہِ راست پورے جسم میں پہنچ جائے۔ اس لیے ناف میں تیل لگانے سے متعلق ہر دعوے کو سائنسی شواہد کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

کیا ناف میں تیل ڈالنے کے حیرت انگیز فوائد ثابت ہیں؟

اب تک مضبوط سائنسی شواہد اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ ناف میں تیل ڈالنے سے جسم کے اندرونی اعضا، ہاضمہ، آنکھوں، بالوں یا ہارمونز پر براہِ راست کوئی خاص علاجی اثر ہوتا ہے۔

اس لیے ناف میں تیل ڈالنے کے فوائد کو ثابت شدہ طبی علاج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

البتہ جلد پر مناسب تیل لگانے سے جلد کو نمی فراہم ہو سکتی ہے، اور اس کا فائدہ اس جگہ کی جلد تک محدود ہو سکتا ہے۔

ناف میں زیتون کا تیل لگانے کے بارے میں کیا حقیقت ہے؟

زیتون کا تیل غذائیت کے اعتبار سے ایک مفید تیل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں زیادہ تر چکنائی monounsaturated fat کی شکل میں ہوتی ہے، اور صحت مند غذا میں غیر سیر شدہ چکنائیوں کو ترجیح دینے کے شواہد موجود ہیں۔

تحقیق میں زیتون کے تیل کو خاص طور پر ایسی غذائی عادات کا حصہ سمجھا گیا ہے جن میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، مچھلی اور گری دار میوے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یعنی فائدہ صرف ایک چیز کو استعمال کرنے سے نہیں بلکہ مجموعی صحت مند غذائی انداز سے وابستہ ہوتا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ زیتون کا تیل بطور غذا صحت مند چکنائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن ناف میں لگانے سے وہی فوائد حاصل ہونے کا دعویٰ سائنسی طور پر ثابت نہیں۔

کیا ناف میں تیل ڈالنے سے جلد کو فائدہ ہو سکتا ہے؟

اگر ناف کے اردگرد کی جلد خشک ہو تو معمولی مقدار میں مناسب موئسچرائزنگ آئل جلد کو نرم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

لیکن یہ فائدہ جلد پر تیل لگانے سے متعلق ہے، ناف کے ذریعے پورے جسم میں تیل کے جذب ہونے سے نہیں۔

اگر ناف کے اندر لالی، خارش، بدبو، رطوبت، درد یا سوجن ہو تو صرف تیل لگانے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

کیا ناف میں تیل ڈالنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے؟

یہ ایک بہت عام دعویٰ ہے کہ ناف میں تیل ڈالنے سے قبض، گیس یا ہاضمے کے مسائل دور ہو جاتے ہیں۔

اس دعوے کے لیے مضبوط طبی شواہد موجود نہیں ہیں۔

ہاضمہ بہتر رکھنے کے لیے زیادہ اہم چیزیں متوازن غذا، مناسب مقدار میں فائبر، پانی اور جسمانی سرگرمی ہیں۔ کسی مخصوص بیماری یا مستقل قبض کی صورت میں اصل وجہ معلوم کرنا زیادہ ضروری ہے۔

کیا ناف میں تیل لگانے سے بال مضبوط ہوتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ناف میں تیل لگانے سے بال گھنے اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔

لیکن ناف میں تیل لگانے اور بالوں کی نشوونما کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے والی مضبوط تحقیق موجود نہیں۔

بالوں کی صحت پر غذا، موروثی عوامل، ہارمونز، عمر اور بعض طبی مسائل سمیت مختلف عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

کیا ناف میں تیل ڈالنے سے آنکھوں کو فائدہ ہوتا ہے؟

یہ بھی ایک مشہور گھریلو دعویٰ ہے، لیکن ناف میں تیل ڈالنے سے نظر بہتر ہونے یا آنکھوں کی بیماری کے علاج کا قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں۔

آنکھوں سے متعلق کسی بھی مسئلے میں مستند طبی معائنہ زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

زیتون کا تیل صحت کے لیے کہاں واقعی فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

زیتون کے تیل کے بارے میں نسبتاً مضبوط شواہد اس کے غذائی استعمال سے متعلق ہیں۔

ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کے مطابق غیر سیر شدہ چکنائیوں کو سیر شدہ چکنائیوں کی جگہ استعمال کرنا صحت کے لیے بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

ایک بڑی مشاہداتی تحقیق میں زیتون کے تیل کا زیادہ استعمال کم مجموعی اور قلبی اموات کے خطرے کے ساتھ وابستہ پایا گیا، تاہم یہ مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے اسے براہِ راست سبب و نتیجہ ثابت کرنے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

اسی طرح ایک 2024 کی تحقیق میں روزانہ کم از کم 7 گرام زیتون کے تیل کے استعمال اور ڈیمنشیا سے متعلق موت کے کم خطرے کے درمیان تعلق دیکھا گیا، مگر یہ بھی تعلق پر مبنی تحقیق تھی، علاج ثابت کرنے والی تحقیق نہیں۔

ناف میں تیل لگاتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

اگر آپ صرف جلد کو نرم رکھنے کے لیے ناف کے اردگرد تھوڑی مقدار میں تیل لگانا چاہتے ہیں تو درج ذیل احتیاطیں مفید ہیں:

  • صاف اور مناسب معیار کا تیل استعمال کریں۔
  • پہلی بار استعمال کرتے ہوئے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر آزمائش کر لیں۔
  • اگر خارش، جلن یا سرخی پیدا ہو تو استعمال بند کر دیں۔
  • ناف میں گہرائی تک تیل یا کوئی اور چیز نہ ڈالیں۔
  • اگر ناف سے رطوبت، خون، بدبو یا مسلسل درد ہو تو طبی مشورہ لیں۔
  • کسی بیماری کے علاج کے لیے ناف میں تیل ڈالنے کو ڈاکٹر کی تجویز کا متبادل نہ سمجھیں۔

خلاصہ: ناف میں تیل ڈالنے کے فوائد میں حقیقت کتنی ہے؟

ناف میں تیل ڈالنے کے حیرت انگیز فوائد کے بارے میں انٹرنیٹ پر بہت سے دعوے موجود ہیں، لیکن ان میں سے کئی کے لیے مضبوط سائنسی شواہد دستیاب نہیں۔

زیتون کا تیل ایک صحت مند غذائی چکنائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، خصوصاً جب اسے مجموعی طور پر متوازن غذا کا حصہ بنایا جائے۔

لیکن ناف میں تیل ڈالنے سے قبض، ہاضمے، بالوں، آنکھوں یا جسم کے اندرونی اعضا کے علاج کا دعویٰ ثابت شدہ طبی حقیقت نہیں۔

اس لیے گھریلو ٹوٹکوں کو استعمال کرتے ہوئے سب سے بہتر اصول یہی ہے: فائدہ ممکن ہو تو بھی اسے علاج کا متبادل نہ سمجھیں، اور غیر ثابت شدہ دعووں کو حقیقت بنا کر آگے نہ پھیلائیں۔

اہم نوٹ

یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے، طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ کسی مستقل یا سنگین مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

  • Harvard T.H. Chan School of Public Health — صحت مند چکنائیوں اور زیتون کے تیل سے متعلق غذائی معلومات۔
  • زیتون کے تیل اور صحت سے متعلق دستیاب مشاہداتی تحقیقی شواہد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں