۔۔۔
آٹھ ستمبر تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔یہ اس زوال شدہ قوم کو بتانے آیا ہے کہ تم وہ قوم ہو جس کے نبی ﷺ پر پہلی وحی کا آغاز “اقراء”یعنی “پڑھو”سے ہوا تھا۔یہ تجدید عہد کا دن ہے۔یہ اس زوال پزیر امت کو بھولا یوا سبق یاد دلانے کا دن ہے کہ اے خوبیدہ روحو اٹھو کہ دنیا چاند تک جا پہنچی ہے۔اس چاند تک جس تک پہنچنے کی خبریں تمہاری پاک کتاب میں موجود تھی پھر یہ کریڈیٹ کسی غیر کے حصے میں کیوں آیا؟
صرف اور صرف تعلیم میں پیچھے رہنے سے ،تعلیم وہ ہتھیار تھی جو تمھیں ماڈرن ورلڈ میں سر اٹھا کر جینا سکھاتا اور تم اس حقیقت کو بھول گۓ۔جس کی سزا تم اب پا رہے ہو۔علم وہ گوہر نایاب تھا جو تمہارے در کی باندی ہوا کرتا تھا۔سپین بغداد کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو۔ہلاکو خاں جب آیا تھا تو اس نے علم کے خزانے کتابوں کو دریا برد کر نا شروع کر دیا تھا۔اتنی کتابیں دریا میں بہائیں کہ دریا کا پانی سیاہ یوگیا اور ایک پل بن گیا جس سے لوگ راستے پانے لگے۔پھر یہ خزانے یہ علم کی موتی تم نے یورپ کی جھولی میں ڈال دیے۔وہ جیسے بھی ہیں علم کے قدردان ہیں انھوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پڑھا اور پڑھتے چلے گۓ۔آج دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں ہارورڈ اکسفورڈ انہی کی ہیں۔انہوں نے علم کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔بہترین ادارے بہترین ریسرچ بہترین اساتزہ نتیجہ میرٹ کی صورت میں سامنے آیا۔آج تم محمدﷺ کے امتی ہو کر دیار غیر میں اپنے بچوں کو پڑھنے بھیجتے ہو۔کیا کچھ نہیں تھا تمہارے پاس۔چاروں موسم۔وسائل سے مالا مال سرزمین بہترین ذہن مگر اس سستی نا ایلی اور کرپشن نے تمھیں کہیں کا نہ چھوڑا۔تم دن بدن اس کرہشن میں ڈوبتے چلے گۓ۔اپنی ہی بیٹیوں کی عزتوں کے در پے ہوگۓ۔استاد باپ کی طرح ہوتا ہے عزتوں کا رکھوالا کب عزتوں کا لوٹیرا بنا پتہ ہی نا چل سکا۔
وقت اپنی بساط پلٹنے کو ہے۔نقارہ بج چکا ہے۔صف بندی ہو رہی ہے۔اور ہم شش وپنج میں بیٹھے ٹاک شو دیکھ رہے جس میں چند پڑھے لکھے میراثی اپنی ہی تہذیب اپنے لوگوں اپنے رشتوں کو مذاق کا نشانہ بنا رہے اور پوری قوم اس لچر پن کو انجواۓ کر رہی۔8 ستمبر یہ یاد دلانے آیا ہے۔کہ اٹھو اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرو اٹھو زمانہ تمہارا منتظر ہے۔اٹھو کہ بہترین نظام بہترین دین بہترین قانون تمہارے پاس ہے۔اٹھو کہ تمہارے رسول ﷺ کا عہد تمہھیں پکار رہا اٹھو پڑھو کہ اس علم نے ہی قوموں کو عروج بخشا وہ تمھیں بھی اسی عروج سے نوازے گا۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
484