حرفِ معتبر: ابو عبیدہ کی تمنا اور امتِ مسلمہ کا امتحان 242

حرفِ معتبر: ابو عبیدہ کی تمنا اور امتِ مسلمہ کا امتحان

تحریر شئیر کریں

حرفِ معتبر: ابو عبیدہ کی تمنا اور امتِ مسلمہ کا امتحان

حرفِ معتبر: ابو عبیدہ کی تمنا اور امتِ مسلمہ کا امتحان
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب کوئی قوم مادی وسائل کی کثرت کو ہی بقا کا ضامن سمجھ لیتی ہے، تو وہ زوال کے گہرے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ عافیت تلاش کرتی ہے، مگر ضمیر کی بندگی کرنے والے عافیت کو نہیں، معتبر موت کو تلاش کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا: “اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں”۔ یہ زندگی وہی ہے جس کا سودا ابو عبیدہ (Abu Obaida) جیسے مردِ مومن نے اپنے رب سے کر لیا تھا۔
آج دنیا پوچھتی ہے کہ ابو عبیدہ کون ہے (Who is Abu Obaida)? وہ محض ایک نام نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے اس مزاحمت کا جو باطل کے سامنے سرنگوں ہونا نہیں جانتی۔ ان کی شہادت (تمنائے شہادت) دراصل اس سچائی کی جیت ہے کہ جس کا تکیہ “لا غالب الا اللہ” پر ہو، اسے دنیا کی کوئی سپر پاور جھکا نہیں سکتی۔

تضاد اور جدیدیت کا نوحہ:

آج کے دور میں انسانیت کا سب سے بڑا المیہ وہ ‘لبرل منافقت’ ہے جو یوکرین کے ملبے پر تو آنسو بہاتی ہے، مگر غزہ کے معصوموں کی چیخوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ جب دنیا میں یہ بحث چھیڑی جاتی ہے کہ حماس کا عقیدہ کیا ہے (Is Hamas Shia or Sunni)? یا اس کا ڈھانچہ کیا ہے، تو دراصل یہ ذہنوں کو اصل مسئلے سے ہٹانے کی ایک عالمی سازش ہوتی ہے۔ جدیدیت کے نام پر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے یہ نام نہاد دانشور اس وقت اندھے اور گونگے ہو جاتے ہیں جب مغربی استعمار اپنے خونی پنجے مسلمانوں کے سینے میں گاڑتا ہے۔ ان کی جمہوریت اور حقوقِ نسواں کا ڈھونگ اس وقت بے نقاب ہو جاتا ہے جب فلسطین کی مائیں اپنے لختِ جگر اللہ کے سپرد کرتی ہیں۔

تاریخ کا سبق:

تاریخ ہمیں جنگِ موتہ کے جعفر طیارؓ کی یاد دلاتی ہے جن کے ہاتھ کٹے مگر پرچم نہ گرا۔ ابو عبیدہ اسی قبیلے کے چشم و چراغ تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ جذبہِ ایمانی مادی زنجیروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ افسوس تو ہم پر ہے، جو مصلحتوں کی قید میں ہیں، جن کے دسترخوان تو سجے ہیں مگر جن کے بھائیوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ ہم ان کے لیے کچھ نہ کر سکے، کیونکہ ہماری ترجیحات میں ‘حیا’ اور ‘غیرتِ ایمانی’ کی جگہ ‘عالمی دباؤ’ اور ‘معاشی مفادات’ نے لے لی ہے۔

اختتام:

آج وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے امتِ مسلمہ! اپنی اصل کی طرف لوٹ آؤ۔ کامیابی محلات اور بینک بیلنس میں نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی اور حق پر ڈٹ جانے میں ہے۔ کامیابی صرف دنیاوی نہیں بلکہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ ابو عبیدہ کا خون ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ہم اپنے ضمیروں کو جھنجھوڑیں، اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی اقدار کے سانچے میں ڈھالیں۔ یاد رکھیے، دنیا فانی ہے اور اصل ٹھکانہ آخرت ہے۔ جس نے اللہ کے لیے جینا سیکھ لیا، اسے پھر کسی موت کا خوف نہیں رہتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں