
نادرا (NADRA) نے 2026 کے لیے شناختی کارڈ کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کر دیں۔ QR کوڈ کا تعارف، بزرگ شہریوں کے لیے تاحیات کارڈ اور بغیر برتھ سرٹیفکیٹ رجسٹریشن کی مکمل تفصیلات یہاں پڑھیں
نادرا (National Database and Registration Authority) نے حال ہی میں پاکستان کے شناختی نظام کو جدید بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف عام شہری کی زندگی میں آسانی لائیں گی بلکہ سیکیورٹی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنائیں گی۔
اگر آپ اپنا نیا شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں یا پرانے کارڈ کی تجدید (Renewal) کروانا چاہتے ہیں، تو یہ نئی معلومات آپ کے لیے جاننا بے حد ضروری ہیں۔
1. شناختی کارڈ پر QR کوڈ کا تعارف
نادرا کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ QR-based verification ہے۔ اب نئے شناختی کارڈز پر روایتی چِپ کے ساتھ یا اس کے متبادل کے طور پر ایک محفوظ QR کوڈ ہوگا جس میں شہری کی تمام معلومات محفوظ ہوں گی۔
* فائدہ: اس سے آف لائن اور آن لائن تصدیق فوری ممکن ہو سکے گی اور جعلی کارڈز کا خاتمہ ہوگا۔
2. بزرگ شہریوں کے لیے تاحیات (Lifetime) کارڈ
60 سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اب انہیں بار بار کارڈ رینیو کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
* اب بزرگ شہریوں کو Senior Citizen Logo والا کارڈ جاری کیا جائے گا جس کی میعاد تاحیات ہوگی۔
3. بغیر پیدائشی سرٹیفکیٹ کے شناختی کارڈ کا حصول
حکومت نے ان 1.7 فیصد شہریوں کے لیے آسانی پیدا کر دی ہے جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔
* اب آپ قریبی خونی رشتہ داروں کی بائیومیٹرک تصدیق اور نکاح نامہ (شادی شدہ خواتین کے لیے) کی بنیاد پر دسمبر 2026 تک اپنا پہلا شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں۔
4. بائیومیٹرک نظام میں جدت (Iris Scan)
اب صرف انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) ہی کافی نہیں، بلکہ نادرا نے Iris Scan (آنکھوں کی پتلی کی تصدیق) کو بھی قانونی طور پر نافذ کر دیا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہترین حل ہے جن کے بڑھاپے یا محنت مزدوری کی وجہ سے فنگر پرنٹس مٹ چکے ہیں۔
نتیجہ
نادرا کے یہ نئے قوانین ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک بڑا قدم ہیں۔ چاہے وہ سیکیورٹی کے لیے QR کوڈ ہو یا بزرگوں کے لیے تاحیات سہولت، ان اقدامات کا مقصد شفافیت اور عوامی آسانی ہے۔
کیا آپ نے نادرا کی نئی ‘پاک آئی ڈی’ (Pak ID) ایپ استعمال کی ہے؟ اپنی رائے سے ہمیں آگاہ کریں۔