1771489633527 130

· رمضان میں حیض کو روکنے کے لیے گولیاں استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

تحریر شئیر کریں

· رمضان میں حیض کو روکنے کے لیے گولیاں استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

· مختلف مکاتب فکر کے علما کی کیا آراء ہیں؟
· اس حوالے سے جدید طب (میڈیکل سائنس) کی کیا رائے ہے؟

رمضان میں ماہواری روکنے کے لیے گولیاں لینا: شرعی نقطہ نظر

رمضان المبارک میں حیض (ماہواری) کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا شرعاً لازمی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عورت کے لیے ایک آسانی اور رحمت ہے ۔ اس حالت میں روزہ رکھنا نہ صرف منع ہے بلکہ اگر کوئی عورت روزہ رکھے گی تو وہ شرعاً درست بھی نہیں ہوگا اور اس کی جگہ بعد میں قضا دینا لازم ہوگی ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حکم سے بچنے کے لیے مصنوعی طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ اس بارے میں علما کے درمیان تفصیل ہے، لیکن بنیادی طور پر چند اہم نکات ہیں:

1. جائز ہونے کی صورت:

زیادہ تر علما (جیسے شیخ یوسف القرضاوی) کی رائے ہے کہ اگر کوئی عورت رمضان میں عبادت (روزہ اور نماز) کی پابندی کرنے کی خالص نیت سے حیض روکنے کے لیے گولیاں لے تو شرعاً اس کی اجازت ہے، البتہ کچھ شرائط کے ساتھ :

· طبی مشورہ: یہ گولیاں ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانی میں لی جائیں۔
· صحت پر نقصان نہ ہو: ان گولیوں سے عورت کی صحت کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو۔

اردن کے سرکاری ادارہ افتاء اور دیگر علما نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر کوئی “شرعی ضرورت” ہو تو حیض روکنے والی گولیاں لینا جائز ہے۔ انہوں نے “شرعی ضرورت” کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر عورت کو یقین نہ ہو کہ وہ بعد میں قضا کے روزے رکھ پائے گی، تو رمضان کے مکمل روزے رکھنے کی خواہش کو بھی شرعی ضرورت قرار دیا جا سکتا ہے ۔ دارالافتاء مصریہ کا بھی کہنا ہے کہ اگر حیض دوائی سے روک لیا جائے تو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

2. بہتر اور افضل ہونے کی صورت:

اکثر علما اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ یہ کام جائز ہے، لیکن بلاوجہ ایسا نہ کرنا ہی بہتر اور افضل ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:

· حیض بھی اللہ کا حکم ہے: حیض اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک قدرتی نظام ہے اور اس میں عبادت ترک کرنا بھی درحقیقت اللہ کے حکم کی بجا آوری ہے، جس پر عورت کو ثواب ملتا ہے ۔
· آسانی کو قبول کرنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتے ہیں کہ اس کی دی ہوئی آسانیوں (رخصتوں) کو قبول کیا جائے۔ حیض کی حالت میں روزہ نہ رکھنا بھی اسی آسانی میں شامل ہے ۔
· احتیاط: امام مالک جیسے بعض اکابر علما نے اسے “مکروہ” قرار دیا ہے کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ اس طرح کی دوائیں عورت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ۔

طبی نقطہ نظر: فوائد اور نقصانات

کسی بھی دوا کو لینے سے پہلے اس کے طبی پہلوؤں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، بالخصوص جب بات ماہواری جیسے حساس نظام کی ہو۔

· طبی مشورہ لازمی ہے: تمام فتاویٰ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں ۔ ڈاکٹر آپ کی طبی تاریخ (جیسے کہ ہارمونل مسائل، امراض قلب، یا فالج کا خطرہ) دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ گولیاں آپ کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔

· ممکنہ ضمنی اثرات:

· ہارمونل بے قاعدگی: خاص طور پر اگر آپ پہلے سے مانع حمل (IUD) استعمال کر رہی ہیں تو ہارمونز لینے سے ماہواری میں بے قاعدگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
· مستقل نقصان کا خطرہ: بعض اوقات یہ گولیاں لینے سے بعد میں ماہواری کا سائیکل ہی بگڑ سکتا ہے ۔
· دودھ پلانے پر اثر: اگر آپ دودھ پلا رہی ہیں تو ڈاکٹر سے خصوصی مشورہ درکار ہے، کیونکہ ہارمونز دودھ کے ذریعے بچے تک پہنچ سکتے ہیں ۔
· عبادت میں خلط ملط: بعض اوقات یہ گولیاں خون کو مکمل طور پر نہیں روک پاتیں اور صرف دھبے (spotting) آتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے عورت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ نماز پڑھے یا نہ پڑھے؟

آپ کے سوال کا جواب: گناہ تو نہیں؟

آپ نے جو خاص صورت حال بیان کی ہے کہ آپ سے قضا کے روزے نہیں رکھے جاتے، اس لیے آپ رمضان کا ایک مستقل معمول بنانا چاہتی ہیں۔ اس صورت میں:

· یہ گناہ نہیں ہے: اگر آپ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے، اس بات کو یقینی بنا کر کہ اس سے آپ کی صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، یہ گولیاں لیتی ہیں، تو شرعاً یہ جائز ہے ۔ آپ کی مجبوری (قضا رکھنے میں دشواری) اس کام کو جائز بلکہ ضرورت بنا دیتی ہے ۔
· لیکن یہ سب سے بہترین طریقہ نہیں: علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قدرتی طریقہ (یعنی حیض آئے تو روزہ چھوڑ دینا اور بعد میں قضا کر لینا) ہی افضل ہے ۔ تاہم، جب قضا کرنا ممکن نہیں تو اس صورت حال میں جائز ہونے کی رائے زیادہ وزنی ہے۔

ایک ماہر مواد نویس کی تجاویز

اگر آپ اس پر عمل کرنا چاہتی ہیں تو ان تجاویز پر ضرور عمل کریں:

1. ڈاکٹر سے مشورہ: کسی اچھے ماہر امراض نسواں سے ضرور ملیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ رمضان میں صرف 15-20 دن کے لیے یہ گولیاں لینا چاہتی ہیں۔ وہ آپ کے لیے موزوں دوا اور طریقہ کار تجویز کریں گے۔ کچھ فتاویٰ میں Primolet-N جیسی دوا کا نام بھی لیا گیا ہے، لیکن اسے خود سے ہرگز نہ لیں ۔
2. نیت درست کریں: اپنی نیت کو صرف عبادت کے لیے خالص رکھیں۔
3. شوہر کی اجازت: اگر آپ شادی شدہ ہیں تو اس بارے میں اپنے شوہر سے بھی مشورہ کر لیں، کیونکہ اس کا تعلق ازدواجی تعلقات سے بھی ہے ۔
4. قضا کا متبادل: اگر کسی وجہ سے گولیاں لینا ممکن نہ ہو اور قضا کے روزے رکھنا واقعی مشکل ہوں تو اس کے متبادل کے طور پر فدیہ دینے کے بارے میں کسی مستند عالم سے ضرور دریافت کر لیں۔

نتیجہ

آخر میں، یہ فیصلہ مکمل طور پر آپ کا ذاتی فیصلہ ہے۔

· طبی نقطہ نظر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کا کہتا ہے۔
· شرعی نقطہ نظر میں یہ کام جائز تو ہے، لیکن قدرتی طور پر قضا رکھنا افضل ہے۔
· آپ کی مجبوری (قضا نہ رکھ پانا) اس کام کو جائز قرار دینے کی ایک مضبوط وجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور آسانی عطا فرمائے اور آپ کی عبادتوں کو قبول فرمائے۔

کیا آپ اس مسئلے پر مزید کسی خاص پہلو پر بات کرنا چاہیں گی؟ مثال کے طور پر، آپ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد کوئی اور سوال پوچھ سکتی ہیں۔

· رمضان میں حیض کو روکنے کے لیے گولیاں استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں