1772316232138 91

آبنائے ہرمز کی بندش: کیا ایران خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا چکا ہے؟

تحریر شئیر کریں

آج کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ایک ایسا آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خدشے کو حقیقت میں بدل دیا ہے کہ ایران اب صرف دھمکیاں نہیں دے رہا، بلکہ وہ خلیجی ممالک (Gulf Countries) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کر چکا ہے۔
ایران کا امریکی اڈوں پر حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز؟
حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی اب امریکہ کے مضبوط ترین دفاعی نظام (Patriot) کو بھی چکمہ دے سکتی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی سالمیت پر آنچ آئی تو خلیج میں موجود کوئی بھی امریکی اڈہ محفوظ نہیں رہے گا۔
* حالیہ کارروائیاں: ایران نے عراق اور گردونواح میں موجود امریکی تنصیبات پر میزائل حملے کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
* خلیجی ممالک کے لیے خطرہ: قطر کا العدید ایئر بیس، بحرین میں موجود پانچواں بحری بیڑہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجی مراکز اب براہِ راست ایرانی نشانے پر ہیں۔
اگر یہ حملے شدت اختیار کرتے ہیں، تو خلیجی ممالک اس آگ کی لپیٹ میں آئیں گے جو پوری دنیا کی معیشت کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی معیشت پر ضرب
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ “شہ رگ” ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد گزرتا ہے۔ ایران اس راستے کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

1. تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

اگر ایران نے باقاعدہ طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں گی۔ اس سے نہ صرف مغرب بلکہ ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی زمین بوس ہو جائیں گی۔

2. جنوبی ایشیا (پاکستان اور بھارت) پر اثرات

پاکستان اور بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیج کے مرہونِ منت ہیں۔
* پاکستان: پہلے سے معاشی بحران کا شکار پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا۔
* بھارت: بھارت کی صنعتی پیداوار رک جائے گی اور مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
مذہبی تناظر: کیا یہ احادیث کی روشنی میں فتنوں کا دور ہے؟
مذہبی اسکالرز ان حالات کو قربِ قیامت کی علامات سے جوڑتے ہیں۔ احادیث میں مشرقِ وسطیٰ میں عظیم جنگوں (ملحمۃ الکبریٰ) اور مسلمانوں پر معاشی ناکہ بندیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز کا نام صراحت سے موجود نہیں، لیکن جزیرہ العرب کا محاصرہ اور خوراک و مال کی ترسیل میں رکاوٹ کے آثار موجودہ جغرافیائی صورتحال سے کافی حد تک میل کھاتے ہیں۔

نتیجہ

ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ اب یہ عالمِ اسلام کے حکمرانوں پر منحصر ہے کہ وہ اس بحران سے بچنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں