تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں ہمیشہ ان کی جراتِ رندانہ اور معاشی خود مختاری سے جڑی رہی ہیں۔ جب کوئی ریاست غیروں کی بیساکھیوں کو ٹھکرا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو قدرت بھی اس کے لیے راستے وا کر دیتی ہے۔ آج خلیجِ فارس کی تلاطم خیز لہروں سے اٹھتی ہوئی خبریں محض جہازوں کی آمد و رفت کا قصہ نہیں، بلکہ ایک نئے عالمی نظام کا دیباچہ ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ولی نصر جیسے پختہ نظر دانشور کا یہ دعویٰ کہ ‘ایران کو ایٹمی قوت بننے سے اب کوئی نہیں روک سکتا’، محض ایک بیان نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے جو برسوں سے مصلحت کے پردوں میں چھپی تھی۔ ان کا یہ کہنا کہ ‘روک ٹوک کے تمام ملبے تلے دب گئے ہیں’، اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ جب ایمان اور ارادہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مل جائے تو دنیا کی کوئی مادی طاقت اسے زنجیر نہیں پہنا سکتی۔ پاکستان کے تیل بردار جہازوں کا ابنائے ہرمز سے بخیریت گزرنا اور اس سے بڑھ کر اس کی ادائیگی کا چینی یوآن میں ہونا، اس ڈالر زدہ عالمی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس نے دہائیوں سے انسانیت کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا تھا۔
جدیدیت کے علمبردار مغرب اور ان کے خوشہ چیں لبرل طبقے کی منافقت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ وہ مغرب جو کل تک پابندیوں کے کوڑے برسا کر دنیا کو ڈراتا تھا، آج خود ایران کے سامنے دستِ سوال دراز کیے کھڑا ہے کہ ان کے جہازوں کو راستہ دیا جائے۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جہاں اصول مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ جب تک مفاد تھا، ڈالر معتبر تھا؛ آج جب ایران نے چین کی انٹیلیجنس اور یوآن کی طاقت سے اپنی راہ جدا کی، تو وہی مغرب ‘بیک چینلز’ سے منت سماجت پر اتر آیا ہے۔ یہ بے بسی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کا رعب اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
اس تمام منظرنامے میں ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ عزت و وقار کی زندگی صرف اسلامی اقدار کی پاسداری اور خودداری میں پنہاں ہے۔ حیا اور غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بھی اس ‘ڈالر گیم’ سے باہر نکل کر اپنی پالیسیوں کو ایمانی غیرت کے سانچے میں ڈھالیں۔ جب ہمسایہ ممالک اپنی شرائط پر دنیا کو جھکا سکتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ضمیر کی دستک سنیں اور اغیار کی دہلیز پر سجدہ ریزی چھوڑ کر صرف اس خالقِ حقیقی کی طرف رجوع کریں جو تمام طاقتوں کا منبع ہے۔ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، اصل فتح تو آخرت کی سرخروئی میں ہے، جو صرف حق گوئی اور خوداری کے راستے پر چل کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے