336

اس رمضان میرا ہدف

تحریر شئیر کریں

اس رمضان میرا ھدف
میرا گھر

جس خیال سے شاید تصور نے بھی پناہ مانگی ہو اس خطرہ سے بڑی ہستی نے خبردار کردیا
بڑی خبر دینے والے نے کہ دیا
“بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے “
دل کانپ جائیں وجود ہل جائیں
یارب “میں “
“میرے بچے “
“میرے گھر والے “
نہیں
آگ میں جھونک دیئے جانا آف!!!
اور جہنم کی آگے
اللھم اجرنا من النار
دنیا میں کچھ لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ بڑی خوش باش زندگی گزار کر جائیں گے
مگر! غفلت کے ساتھ
انجام کار “یا لیتنی”
اور کوئی ایسا ہوگا جس نے خوف اور امید کے ساتھ رب کو یاد رکھتے ہوئے اپنے اہل و عیال بچا لیئے آگ سے
آج کی فکر مندی کل کی رسوائی اور کاش سے بہتر
ہمیشہ کی زندگی اور سکینت کے ساتھ آسودگی
اے نفس مطمئنہ
یہ اطمینان تو رب کو منالینے سے ملے گا
قدم قدم پر اے اللّٰہ تو راضی ہوجا کے آنسو رب یوں ہی نہیں بہ جانے دیتا
یہ جذب و احساس سے بھرے قطرے بہنے نہیں پاتے کہ قبول کرلیئے جاتے ہیں
وہ مائیں جو گرمی کی شدت میں اسکولوں کے لیئے نکلتے بچوں کے تھرماس ٹھنڈے پانی سے بھر دیتی ہیں واپسی پر ان کی پیشانی سے پسینہ پونچھتی ہیں بھلا کیسے غافل ہوگئیں اس بڑی آگ سے جو دہکائی گئی ہے جلا کر بھسم کرنے کے لیئے لیکن نہیں بھولا تو ستر ماؤں سے ذیادہ محبت کرنے والا رب
خبردار تو کوئی خیر خواہ ہستی ہی کرتی ہے ،رحمن و رحیم جس نے بار بار یاد دلایا کہ بچو آنے والے کل کی تباہی سے نار جہنم سے
جس کی بات سچی جس کے وعدے پورے ہونے والے ہیں
تو پھر بھی کھلے دشمن کے دھوکے میں آجائیں گے جو کہ، کہ آیا ہے بہکاوں گا اور اپنے ساتھ جہنم میں لے جاؤں گا
جس زندگی پر ہمیشہ کی کامیابی منحصر ہے اسے کل پر ڈال دیا جس کے آنے کی کوئی گارنٹی نہیں اور جس دنیا کی رتی برابر بھی کائنات بنانے والے کی نظر میں وقعت نہیں اس کے لیئے اپنا آج اور سب کچھ لگادیا
بے شک دھوکہ کھاگئے ،بھول ہوگئی حلانکہ مالک نے کہا بھی کہ تمہیں کس چیز نے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا
ہاتھوں سے سرکتی ریت کی سے زدنگی سراب ہے جسے ہم طویل
و رنگین سمجھ بیٹھے
مگر دیر تو اب بھی نہیں ہوئی پکار تو اب بھی آرہی ہے

قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا

” بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے “

مدیحہ صدیقی

اس رمضان میرا ہدف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں