مقالہ نگار:روبینہ شاہین
تمہید:
اسلامی تعلیمات میں قیامت کے قریب آنے والے فتنوں اور عالمی جنگوں کا ذکر بار بار آیا ہے۔ ان میں دو اہم اصطلاحات ہیں: “الملحمة الصغری” (چھوٹا معرکہ) اور “الملحمة الکبری” (عظیم معرکہ)۔ یہ دونوں اصطلاحات قیامت کے قریب ہونے والے عظیم جنگوں اور عالمی تبدیلیوں کے بارے میں ہیں۔ ان کا ذکر نہ صرف صحیح احادیث میں موجود ہے بلکہ بعض اسلامی تفسیروں اور علماء کے بیانات میں بھی ان کا تذکرہ آیا ہے۔
آج کے دور میں جب کہ عالمی سطح پر فتنوں، جنگوں اور ظلم و جبر کا دور چل رہا ہے، ان دونوں معرکوں کی حقیقت اور ان کے وقوع پذیر ہونے کی علامات ہمارے سامنے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان دونوں معرکوں کا تفصیل سے مطالعہ کریں گے اور ان کو عصر حاضر کے تناظر میں دیکھیں گے۔
الملحمة الصغری: چھوٹا معرکہ
الملحمة الصغری کا مفہوم یہ ہے کہ یہ قیامت سے پہلے ہونے والا ایک ابتدائی اور محدود جنگ ہے۔ اس میں مسلمانوں کو فتنوں کا سامنا ہوگا اور وہ ایک محدود جنگ میں شریک ہوں گے جو غالباً مغربی طاقتوں (روم یا عیسائی دنیا) سے ہوگی۔
تاریخی اور دینی پہلو:
صحیح مسلم اور سنن ابی داود میں حدیث ہے کہ مسلمانوں اور روم کے درمیان ایک معاہدہ ہوگا، لیکن وہ معاہدہ ٹوٹے گا اور مسلمانوں کو جنگ کا سامنا ہوگا۔
حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم رومیوں سے صلح کرو گے، پھر وہ تم سے خیانت کریں گے اور 80 جھنڈوں کے ساتھ تم پر حملہ کریں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔”
(سنن ابی داود، حدیث 4292)
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مختلف علٍماء کا کہنا ہے کہ یہ جنگ شروع ہوگی اور مسلمانوں کے لیے ایک اہم امتحان بنے گی۔ بعض محققین کے مطابق فلسطین، شام اور یمن جیسے خطوں میں جاری جنگیں اس معرکے کی ابتدائی جھلک ہو سکتی ہیں۔
الملحمة الصغری کے تناظر میں عصر حاضر کی صورتحال:
آج کے دور میں جب ہم عالمی سطح پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کے خلاف جنگوں اور فتنوں کا سامنا نظر آتا ہے۔ امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور ظلم و جبر کی نوعیت کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس معرکے کی ابتدائی جھلک دیکھ رہے ہیں۔ شام، عراق، افغانستان اور فلسطین میں مسلمانوں کی مشکلات، ان کے حقوق کی پامالی اور جنگوں کے تسلسل نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ الملحمة الصغری کا وقت قریب آ چکا ہے۔
الملحمة الکبری: عظیم معرکہ
الملحمة الکبری ایک ایسی جنگ ہے جو قیامت کے قریب ایک عالمی سطح پر ہوگی۔ اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرا جائیں گی اور مسلمانوں کو امام مہدی کی قیادت میں جنگ کے لیے میدان میں آنا پڑے گا۔
اہم علامات:
1. رومیوں (عیسائی دنیا) کے ساتھ صلح
2. صلح شکنی اور 80 جھنڈوں کے ساتھ رومیوں کا حملہ
3. امام مہدی کا ظہور
4. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
5. دجال کا خروج اور اس کا قتل
6. عدل کا قیام اور عالمی امن
حضرت نبی ﷺ نے فرمایا:
“رومیوں سے تمہاری صلح ہوگی، پھر وہ تمہیں دھوکہ دیں گے اور تم پر چڑھ دوڑیں گے۔ ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار لوگ ہوں گے۔”
(سنن ابی داود، حدیث: 4292)
اس جنگ کے دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی متوقع ہے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور دنیا میں عدل و انصاف کا دور قائم ہوگا۔
الملحمة الکبری کا عصر حاضر میں تناظر:
آج کی دنیا میں دجال کے وجود کی علامات بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی، عالمی میڈیا اور اخلاقی بگاڑ کے ذریعے دجال کی علامتوں کا تصور ہمارے سامنے آتا ہے۔ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کی آپس میں ٹکراو، جنگی حالات، اور عیسائی دنیا کا مسلمانوں کے خلاف کردار ہمیں ان علامات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
عصر حاضر میں عالمی سطح پر جو سیاسی و مذہبی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور قریب آ رہا ہے۔ مسلمانوں کی حالت زار اور عالمی سیاست میں اسلام کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام مہدی کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک نیا عہد شروع ہونے والا ہے۔
نتیجہ:
الملحمة الصغری اور الکبری کا ذکر اسلامی روایات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان جنگوں میں حصہ لے کر مسلمانوں کو اپنے ایمان، صبر اور اللہ کی رضا کے لیے لڑنا ہوگا۔ عصر حاضر کے حالات اور عالمی سیاست اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم ان معرکوں کے قریب ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اللہ پر توکل رکھتے ہوئے، اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور ان فتنوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان معرکوں سے پہلے پھیلنے والے ہیں۔
حوالہ جات:
1. صحیح مسلم، کتاب الفتن
2. سنن ابی داود، حدیث 4292
3. تفسیر قرطبی، سورۃ الزخرف
4. الاسلام سوال و جواب (IslamQA.info)
5. الفتن لنعیم بن حماد
6. البانی کی تصحیح (شیخ البانی)
7. فتنہ دجال اور اس کے اثرات پر تحقیق (الاسلام ویب)
8. عالمی سیاست اور اس کے اثرات پر مقالہ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز)
—