369

امیر ترین بننے کے نبویﷺ نسخے

تحریر شئیر کریں

قسط نمبر 1
غربت اور تنگ دستی وہ بلا ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے خود پناہ مانگی۔۔۔یہ دیمک کی طرح انسان کی خوشیوں کو چاٹ جاتی ہے۔مفلس انسان رزق کی تنگی سے نہیں مرتا مگر اسے لوگوں کے رویے مار دیتے ہیں۔غربت میں انسان کی سب سے پہلے سوشل لائف متاثر ہوتی ہے۔غریب لوگ خشک تنکوں کی طرح ہوتے ہیں۔جنہیں ہوا جہاں چاہتی ہے اڑا لے جاتی ہے۔غرض غربت واقعتا کفر تک لے جاتی ہے آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ اگر غربت کوئی جانور ہوتا تو میں اسے ذبح کر دیتا۔۔۔
قاسم علی شاہ کہتے ہیں مجبور اور مفلس انسان اس گدھ کی طرح ہوتا ہے جسے چاروں طرف سے گھیر لیا جاۓ۔
مہاتما گاندھی کا کہنا ہے کہ غربت تشدد کی بدترین قسم ہے۔ارسطو نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا غربت ہی انقلاب اور جرائم کی ماں ہیں۔غربت کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس میں بعض گناہ ضرورتا کرنے پڑتے ہیں۔سایکالوجسٹ کا کہنا ہے سب سے بدترین غربت وہ ہوتی ہے جس کے جانے کے بعد بھی احساس غربت باقی رہتا ہے۔یعنی یہ ایسی بلا ہے جو اپنی پرچھائیاں چھوڑ جاتی ہے۔وہ بچے جن کا بچپن غربت میں گزرتا ہے۔وہ اکثر احساس غربت میں زندہ رہتے ہیں۔اسی لیے سیانے کہتے ہیں۔امیری ہو یا مفلسی دونوں کے اثرات دماغ تک نا پہنچنے دو۔زندگی شکر کے احساس سے ہر پل لبریز رہنی چاہیے۔وقت آتے جاتے رہتے پر شکر آپ کو کندن بنا دے گا اور شکوہ آپ کو غربت سے بھی کہیں زیادہ بری جگہ پر پہنچا سکتا۔
دنیا میں ہر روز لاکھوں لوگ خودکشی کرتے جس کی بڑی وجہ غربت اور تنگدستی ہے۔ڈپریشن ایک قاتل بیماری ہے۔اس کی بھی بڑی وجہ غربت ہے۔شوگر بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کی ایک اہم وجہ بھی حالات کا دباؤ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں