اندھیرے کے مکین: قسط 23 – روشنی کے مسافر اور پہلا رمضان
روشنی کا پہلا ہفتہ اور بستی کی نئی روح
الاسکا کے اس دور افتادہ شمالی خطے میں، جہاں 65 دنوں کی طویل اور سیاہ قطبی رات (Polar Night) نے انسانی اعصاب کو منجمد کر دیا تھا، اب ایک نئی سحر طلوع ہو چکی تھی۔ 23 جنوری کو سورج کی پہلی سنہری کرن نے جب اس سفید زمین کا بوسہ لیا تھا، تو وہ مایا اور احمد کی زندگی کا سب سے یادگار دن بن گیا۔ اب، فروری کے وسط تک پہنچتے پہنچتے، سورج ہر روز کچھ زیادہ دیر کے لیے افق پر ٹھہرنے لگا تھا، گویا وہ بھی اس بستی کی نئی بدلتی ہوئی حقیقت کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہو۔
احمد اور مایا کے نکاح کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ احمد نے جس طرح اپنی سائنسی مہارت سے برف کے سینکڑوں فٹ نیچے چھپا ہوا میٹھا پانی تلاش کر کے بستی کی پیاس بجھائی تھی، اس نے اسے مقامی لوگوں کی نظر میں ایک “نجات دہندہ” بنا دیا تھا۔ لوگ اسے اب ‘احمد’ نہیں بلکہ ‘محسنِ بستی’ کے نام سے پکارتے تھے۔ مگر احمد کے لیے اصل کامیابی پانی کی تلاش نہیں، بلکہ مایا کے دل میں ایمان کی شمع روشن کرنا اور اس قدیم مسجد کی حرمت کا تحفظ تھا۔
احمد کی خاموشی اور مایا کا نیا مشاہدہ
نکاح کے بعد کے ابتدائی دن مایا کے لیے حیرت اور سکون کا امتزاج تھے۔ احمد پہلے سے کہیں زیادہ اپنی ڈائری، سائنسی نقشوں اور مسجد کے کاموں میں مگن رہنے لگا تھا۔ وہ مایا سے بات تو کرتا، مگر اس کی گفتگو میں ایک گہرا فلسفیانہ رعب تھا۔
“احمد! کیا آپ اس نئی زندگی سے خوش نہیں ہیں؟” ایک شام مایا نے اس کی لائبریری میں قدم رکھتے ہوئے پوچھا، جہاں وہ کسی قدیم مخطوطے کا مطالعہ کر رہا تھا۔ “آپ کی یہ خاموشی مجھے کبھی کبھی ڈراتی ہے۔”
احمد نے اپنی عینک اتاری اور مایا کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی تپش تھی جو صرف بڑے مقصد رکھنے والوں کے پاس ہوتی ہے۔ “مایا، میری خاموشی میری بیزاری نہیں بلکہ اس ذمہ داری کا احساس ہے جو اللہ نے مجھے سونپی ہے۔ میں شاید دنیا کے عام مردوں جیسا نہ بن سکوں جو صرف جذبات کی نمائش کرتے ہیں، مگر میں تمہارے ایمان کا وہ محافظ بنوں گا جس پر تم فخر کرو گی۔” اس نے مایا کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے دعا دی، جس سے مایا کے دل کی تمام بے چینی ایک پل میں ختم ہو گئی۔
الاسکا کی بستی میں پہلا رمضان: ایک تاریخی لمحہ
18 فروری 2026ء کی شام ایک انوکھی روحانی خوشخبری لے کر آئی۔ سورج کی واپسی کے چند ہفتوں بعد ہی پہلا رمضان شروع ہو رہا تھا۔ چونکہ قطبی علاقوں میں سورج کے اوقاتِ کار عام دنیا سے بہت مختلف ہوتے ہیں، اس لیے یہاں روزہ رکھنا ایک بہت بڑا جسمانی امتحان بھی تھا اور ایمانی بھی۔
احمد نے مسجد کے بلند مینار سے، جو قدیم لکڑی کا بنا ہوا تھا، دوربین کے ذریعے چاند کی رویت کی تصدیق کی تو پوری بستی میں “اللہ اکبر” کی صدائیں گونجنے لگیں۔ مایا کے لیے یہ دن دہری خوشی کا حامل تھا؛ یہ اس کی زندگی کا پہلا روزہ ہونا تھا۔ بستی کے انوپیئٹ (Inupiat) لوگ، جو احمد کی تبلیغ اور اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام لا چکے تھے، اپنے پہلے رمضان کے لیے بے حد پرجوش تھے۔
سحر و افطار کا انوکھا شیڈول اور مایا کی تیاری
الاسکا کے ان علاقوں میں جہاں دن اور رات کا فرق مٹ جاتا ہے، احمد نے مکہ مکرمہ اور قریبی شہروں کے اوقات کے مطابق ایک مکمل ٹائم ٹیبل مرتب کیا تھا۔
“مایا، یہاں کا روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ اس صبر کا کمال ہے جو ہم نے ان اندھیری راتوں میں سیکھا تھا،” احمد نے سحری کے وقت مایا کو بتایا۔
سحری کے وقت مایا نے بڑے اہتمام سے الاسکا کی روایتی ڈشز کے ساتھ ساتھ لاہوری ذائقوں کا امتزاج تیار کیا۔ دسترخوان پر Reindeer Stew (ہرن کا گوشت اور سبزیوں کا شوربہ) اور تازہ بیریز کا شربت موجود تھا۔ احمد نے کینیڈا کی اس ‘مڈ نائٹ سن ماسک’ (The Midnight Sun Mosque) کی کہانی دوبارہ دہرائی، جو ہزاروں میل دور سے ٹریلر پر لاد کر لائی گئی تھی، تاکہ مایا کو احساس ہو کہ ایمان والے مشکل ترین حالات میں بھی اپنا راستہ بنا لیتے ہیں۔
ہلکا پھلکا لمحہ: برفی کی ‘روزہ کشائی’
اس سنجیدہ ماحول میں مزاح کا رنگ ‘برفی’ (سفید ہسکی کتا) نے بھرا۔ وہ جو روزانہ فجر کے وقت اپنے ناشتے کے لیے مایا کے گرد چکر لگاتا تھا، آج کچن بند دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ وہ کبھی احمد کو دیکھتا اور کبھی فاطمہ کو، جیسے پوچھ رہا ہو کہ “آج بستی کے لوگ کھانا پینا کیوں بھول گئے؟”
فاطمہ نے ہنستے ہوئے اسے تھپتھپایا، “برفی میاں! آج بستی کے انسان اللہ کے مہمان ہیں، تم ذرا صبر کرو، تمہاری مچھلی بھی مل جائے گی۔” مایا نے مسکراتے ہوئے برفی کے لیے مچھلی کا ایک ٹکڑا نکالا، مگر برفی نے اسے فورا نہیں کھایا، بلکہ وہ مسجد کے ہال میں جا کر بیٹھ گیا، جیسے وہ بھی بستی والوں کے ساتھ تلاوتِ قرآن سننا چاہتا ہو۔
افطار کی رونقیں اور حیا کا نور
افطاری کا وقت ہوا تو مسجد کے صحن میں ایک بڑا دسترخوان بچھایا گیا۔ مقامی مردوں نے مسجد کے باہر لکڑیاں جلا کر حرارت کا انتظام کیا تھا۔ مایا نے سفید رنگ کا الاسکن لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے سر پر موجود سفید حجاب اس کی نئی ایمانی شناخت کو ایک تقدس آمیز خوبصورتی بخش رہا تھا۔
افطار میں الاسکا کی مشہور Smoked Salmon اور Akutaq (برفانی آئس کریم) کے ساتھ ساتھ احمد کے لائے ہوئے کھجوروں کا استعمال کیا گیا۔ بستی کے سردار نے احمد کو مخاطب کر کے کہا، “محسنِ بستی! ہم نے اندھیروں میں بہت جیا، مگر اس روزے کی بھوک میں جو مٹھاس محسوس ہو رہی ہے، وہ ہم نے کبھی کسی بڑی دعوت میں بھی نہیں پائی۔”
اختتام: ایک نیا پیغام اور سسپنس
شام ڈھلنے کو تھی جب احمد کو سیٹلائٹ فون پر ایک پیغام موصول ہوا۔ اس کے چہرے کے تاثرات اچانک سنجیدہ ہو گئے۔
“کیا ہوا احمد؟” مایا نے افطار کے بعد تشویش سے پوچھا۔
“ڈاکٹر ملر نے ہار نہیں مانی،” احمد نے دھیمی اور گہری آواز میں کہا۔ “اس نے رمضان کے اس مقدس مہینے میں ہی ایک بین الاقوامی عدالت سے اس مسجد کی کھدائی کے لیے ‘ایمرجنسی آرڈرز’ حاصل کر لیے ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد قدیم نہیں بلکہ ایک سائنسی دھوکہ ہے جسے ہم نے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے۔ وہ کل اپنی نئی ٹیم اور بھاری مشینری کے ساتھ یہاں پہنچ رہا ہے۔”
مایا نے احمد کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی آنکھوں میں اب خوف نہیں بلکہ ایک عزم تھا۔ “انہیں آنے دیں احمد۔ اب اس بستی کا بچہ بچہ اپنی مسجد اور اپنے ایمان کا محافظ ہے۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے، اور رمضان کی برکتیں ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گی۔”
اگلی قسط (Episode 24) میں دیکھئے:
کیا ڈاکٹر ملر کی سائنسی چالیں رمضان کی روحانی قوت کا مقابلہ کر پائیں گی؟ کیا مایا اور احمد اس مسجد کے نیچے چھپے اس ‘خزانے’ کو بچا پائیں گے جو پوری دنیا کے لیے ایک معجزہ بننے والا ہے؟
107
تبصرے بند ہیں