باب سوم: نبوی اصول اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ تعارف جدید دور میں جہاں انسان صحت اور تندرستی کے لیے نئے نئے ڈائٹ پلان ایجاد کر رہا ہے، وہیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات چودہ سو سال قبل ہی ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا فرما چکی تھیں۔ "انٹرمٹینٹ فاسٹنگ" (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا)، "کم کارب ڈائٹ"، "کیٹو ڈائٹ"، "پیلیو ڈائٹ" جیسی اصطلاحات آج کل مقبول ہیں، مگر ان سب کے بنیادی اصول نبوی تعلیمات میں موجود ہیں۔ اس باب میں ہم نبوی اصولوں کا جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہم نہ صرف روحانی فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ --- 1. کم کھانے کا اصول (Portion Control) رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم اصول کم کھانے کا تھا۔ آپ ﷺ نے امت کو ہمیشہ کم کھانے اور پیٹ بھر کر کھانے سے منع فرمایا۔ حدیث میں ذکر حضرت مقدار بن مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ" "ابن آدم نے پیٹ سے بھرا ہوا برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں۔ اگر اسے زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 2380، سنن ابن ماجہ، حدیث: 3349) امام ترمذی نے اس حدیث کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" "مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5394، صحیح مسلم، حدیث: 2060) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مومن کم کھاتا ہے جبکہ کافر زیادہ کھاتا ہے۔ جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کم کھانے کے بے شمار فوائد ہیں: کیلیوری ریسٹرکشن (Calorie Restriction) سائنسدانوں نے پایا ہے کہ کیلیوریز میں کمی کرنے سے: · عمر میں اضافہ ہوتا ہے · بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے · کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے · دل کے امراض سے بچاؤ ہوتا ہے · دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں ڈاکٹر محمد خیر الشعال اپنی کتاب "الصیام والصحۃ" میں لکھتے ہیں: "کم کھانے کا نبوی اصول جدید سائنس کی دریافت کردہ 'کیلیوری ریسٹرکشن' سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔" تہائی کا قاعدہ (The One-Third Rule) رسول اللہ ﷺ کا تہائی کا قاعدہ جدید غذائیت کا شاہکار ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق: · کھانے کے لیے ایک تہائی جگہ چھوڑنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے · پانی کے لیے ایک تہائی جگہ رکھنے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے · سانس کے لیے ایک تہائی جگہ رہنے سے معدے پر دباؤ نہیں پڑتا ڈاکٹر مائیکل گریگر، جو مشہور کتاب "How Not to Die" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "کھانے کے بعد پیٹ میں تھوڑی جگہ خالی چھوڑنا ہاضمے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس سے معدہ آسانی سے خوراک کو ملا سکتا ہے اور ہاضمے کے عمل میں مدد ملتی ہے۔" اقتباس: "زاد المعاد" از امام ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ "زاد المعاد فی ہدی خیر العباد" میں تحریر فرماتے ہیں: "کم کھانے میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ اس سے جسم ہلکا رہتا ہے، دل صاف رہتا ہے، ذہن تیز رہتا ہے، نیند کم آتی ہے، عبادت میں مزہ آتا ہے، اور بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ زیادہ کھانے سے جسم بوجھل ہو جاتا ہے، دل سخت ہو جاتا ہے، ذہن کند ہو جاتا ہے، نیند زیادہ آتی ہے، عبادت میں کاہلی ہوتی ہے، اور بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔" --- 2. سادہ غذا کا اصول (Simplicity in Diet) رسول اللہ ﷺ کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ آپ ﷺ ہمیشہ سادہ غذا کھاتے اور پرتکلف کھانوں سے پرہیز فرماتے تھے۔ حدیث میں ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ" "آل محمد (ﷺ) نے مدینہ آنے کے بعد گیہوں کی روٹی سے تین رات مسلسل پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5416) نیز حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" "مال کی کثرت سے غنی نہیں ہوتا، بلکہ غنی تو دل کا غنی ہونا ہے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 6446، صحیح مسلم، حدیث: 1051) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سادہ غذا صحت کے لیے بہترین ہے: پراسیسڈ فوڈز کے نقصانات پراسیسڈ اور پیک شدہ غذائیں جن میں کیمیکلز، پرزرویٹوز، مصنوعی رنگ اور ذائقے شامل ہوتے ہیں، صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں: · موٹاپے کا سبب بنتی ہیں · دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں · ذیابیطس کا سبب بنتی ہیں · کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں · نظام ہاضمہ خراب کرتی ہیں قدرتی غذاؤں کے فوائد قدرتی غذائیں جیسے کھجور، جو، دودھ، شہد، پھل، سبزیاں: · وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہیں · اینٹی آکسیڈنٹس رکھتی ہیں · فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں · ہاضمہ بہتر کرتی ہیں · مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں ڈاکٹر مارک ہائمین، جو مشہور کتاب "Food: What the Heck Should I Eat" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "قدرتی غذا وہی ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے، نہ کہ فیکٹریوں میں بنی۔ جتنی زیادہ قدرتی غذا کھائیں گے، اتنا ہی صحت مند رہیں گے۔" اقتباس: "الطب النبوی" از ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "نبی کریم ﷺ کی غذا سادہ اور قدرتی تھی۔ آپ ﷺ گوشت، کھجور، جو، دودھ، شہد، ککڑی، تربوز جیسی غذائیں کھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی پرتکلف اور مصنوعی کھانے نہیں کھائے۔ یہی سادگی آپ ﷺ کی صحت کا راز تھی۔" --- 3. دیر سے سحری اور جلدی افطار کا اصول (Intermittent Fasting) رسول اللہ ﷺ کا اصول تھا کہ سحری دیر سے کریں اور افطار جلدی کریں۔ یہی جدید "انٹرمٹینٹ فاسٹنگ" کا بنیادی اصول ہے۔ حدیث میں ذکر سحری میں تاخیر کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرَ خَمْسِينَ آيَةً" "ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز (فجر) کے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی نے پوچھا: دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا: پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔" (صحیح البخاری، حدیث: 1921) افطار میں جلدی کے بارے میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" "لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 1957) جدید سائنس کی روشنی میں انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا) آج کل بہت مقبول ہے۔ اس کے فوائد: آٹوفیجی (Autophagy) 2016 کا نوبل انعام ڈاکٹر یوشینوری اوسومی کو ملا جنہوں نے "آٹوفیجی" (خود خوردبینی) کا عمل دریافت کیا۔ آٹوفیجی وہ عمل ہے جس میں جسم اپنے خراب خلیوں کو توڑ کر نیا خلیہ بناتا ہے۔ یہ عمل روزے کی حالت میں تیز ہو جاتا ہے۔ آٹوفیجی کے فوائد: · جسم سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں · خراب خلیے مرمت ہوتے ہیں · کینسر کے خلیے تباہ ہوتے ہیں · بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے · دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں سرکیڈین ردم (Circadian Rhythm) انسانی جسم کا ایک اندرونی نظام ہے جو کھانے پینے، سونے جاگنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ صبح جلدی کھانا اور شام جلدی کھانا اس نظام کے مطابق ہے۔ ڈاکٹر سچن پانڈا، جو انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب "The Circadian Code" میں لکھتے ہیں: "صبح دیر سے ناشتہ کرنا اور شام جلدی کھانا کھانا سرکیڈین ردم کے مطابق ہے۔ یہ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔" اقتباس: "زاد المعاد" از ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "نبی کریم ﷺ سحری دیر سے کرتے اور افطار جلدی کرتے تھے۔ اس میں بہت حکمتیں ہیں۔ سحری دیر سے کرنے سے دن بھر طاقت رہتی ہے اور افطار جلدی کرنے سے جسم کو جلد آرام ملتا ہے اور عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے۔" --- 4. دودھ پینے کا اصول (Dairy Consumption) رسول اللہ ﷺ کو دودھ بہت پسند تھا اور آپ ﷺ نے دودھ پینے کے آداب بھی سکھائے۔ حدیث میں ذکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ" "جسے اللہ دودھ پلائے تو وہ کہے: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے مزید عطا فرما۔" (سنن الترمذی، حدیث: 3455) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يَجْزِي مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ" "کھانے پینے کی جگہ لینے والی کوئی چیز دودھ کے سوا نہیں ہے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 3456) جدید سائنس کی روشنی میں دودھ کو "مکمل غذا" (Complete Food) کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جو انسان کو درکار ہیں: · پروٹین: جسم کی تعمیر اور مرمت کے لیے · کیلشیم: ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے · وٹامن ڈی: کیلشیم جذب کرنے کے لیے · وٹامن بی12: اعصابی نظام کے لیے · پوٹاشیم: دل اور پٹھوں کے لیے · میگنیشیم: توانائی کے لیے ڈاکٹر ڈیریل گیورائی، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کہتے ہیں: "دودھ فطرت کا سب سے مکمل غذا ہے۔ اس میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامنز کسی اور غذا میں اتنے متوازن مقدار میں نہیں ملتے۔" --- 5. شہد کا استعمال (Honey as Medicine) شہد کو قرآن میں "شفا" قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی اسے بطور دوا استعمال فرماتے تھے۔ حدیث میں ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ" "اس (شہد کی مکھی) کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔" (سورۃ النحل: 69) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی شکایت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسْقِهِ عَسَلاً" "اسے شہد پلا دو۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5684) جدید سائنس کی روشنی میں شہد پر سینکڑوں تحقیقات ہو چکی ہیں جو اس کے طبی فوائد ثابت کرتی ہیں: · اینٹی بیکٹیریل: شہد بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے · اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے · اینٹی آکسیڈنٹ: جسم کو زہریلے مادوں سے بچاتا ہے · زخم بھرنے والا: زخم جلدی بھرتا ہے · کھانسی دور کرنے والا: قدرتی کھانسی کی دوا ڈاکٹر پیٹر مولان، جو شہد پر دنیا کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب "The Honey Revolution" میں لکھتے ہیں: "شہد میں موجود انزائمز اور اینٹی بیکٹیریل اجزاء اسے دنیا کی بہترین قدرتی دوا بناتے ہیں۔ کوئی بھی مصنوعی دوا شہد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔" --- 6. پانی پینے کے اصول (Hydration Rules) رسول اللہ ﷺ نے پانی پینے کے بھی آداب سکھائے جو جدید سائنس کے مطابق ہیں۔ حدیث میں ذکر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس میں پیتے تھے اور فرماتے: "إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ" "یہ زیادہ سیراب کرنے والا، بیماری سے بچانے والا اور خوشگوار ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2028) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: "لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ" "ایک سانس میں نہ پیو جیسے اونٹ پیتے ہیں، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، اور پیتے وقت بسم اللہ کہو، اور ختم کرتے وقت الحمدللہ کہو۔" (سنن الترمذی، حدیث: 1885) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایک سانس میں پانی پینا نقصان دہ ہے: · معدے پر دباؤ پڑتا ہے · ہاضمہ خراب ہوتا ہے · گردوں پر بوجھ پڑتا ہے · دماغ تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی ڈاکٹر باتمانگلیج، جو پانی پر مشہور کتاب "Your Body's Many Cries for Water" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "پانی آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کر کے پینا چاہیے۔ اس طرح جسم پانی کو بہتر جذب کرتا ہے اور گردوں پر بوجھ نہیں پڑتا۔" --- 7. کھجور کا استعمال (Dates as Superfood) کھجور کو رسول اللہ ﷺ نے بہترین غذا قرار دیا اور اسے سحری اور افطار دونوں میں استعمال کیا۔ حدیث میں ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ" "مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔" (سنن ابو داؤد، حدیث: 2345) اور افطار کے بارے میں فرمایا: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ" "جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے کہ اس میں برکت ہے۔" (سنن ابو داؤد، حدیث: 2355) جدید سائنس کی روشنی میں کھجور پر جدید تحقیق کے مطابق: کھجور میں 15 سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں: · پوٹاشیم: بلڈ پریشر کنٹرول · میگنیشیم: پٹھوں اور اعصاب کے لیے · کیلشیم: ہڈیوں کے لیے · آئرن: خون کی کمی دور کرنے کے لیے · زنک: مدافعتی نظام کے لیے کھجور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس: · کیروٹینائڈز: آنکھوں کے لیے مفید · فینولکس: دل کے لیے مفید · فلیوونائڈز: کینسر سے بچاؤ ڈاکٹر مائیکل گریگر لکھتے ہیں: "کھجور کو سپر فوڈ کہنا بے جا نہیں۔ اس میں موجود غذائی اجزاء کسی بھی دوسرے پھل سے زیادہ ہیں۔ یہ توانائی کا بہترین ذریعہ ہے اور خون کی کمی دور کرتا ہے۔" --- 8. زیتون کا تیل (Olive Oil as Healthy Fat) زیتون کا تیل قرآن میں مذکور ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اسے استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔ حدیث میں ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ" "انجیر اور زیتون کی قسم۔" (سورۃ التین: 1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ" "زیتون کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ کیونکہ یہ بابرکت درخت سے ہے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 1851) جدید سائنس کی روشنی میں زیتون کے تیل پر جدید تحقیق: · مونو ان سیچوریٹڈ فیٹس: دل کے لیے مفید · اینٹی آکسیڈنٹس: کینسر سے بچاؤ · اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے · وٹامن ای: جلد اور بالوں کے لیے مفید ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، جو مشہور کتاب "The Plant Paradox" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "زیتون کا تیل بحیرہ روم کی غذا کا اہم جزو ہے۔ جو لوگ زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کے امراض اور کینسر کی شرح کم ہوتی ہے۔" --- 9. سرکہ کا استعمال (Vinegar as Digestive Aid) رسول اللہ ﷺ نے سرکہ کو بہترین سالن قرار دیا۔ حدیث میں ذکر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ" "سرکہ بہترین سالن ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2052) جدید سائنس کی روشنی میں سرکہ کے طبی فوائد: · بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے · ہاضمہ بہتر کرتا ہے · وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے · کولیسٹرول کم کرتا ہے · اینٹی بیکٹیریل ہے --- 10. گوشت کھانے کے اصول (Meat Consumption) رسول اللہ ﷺ گوشت کھاتے تھے مگر زیادہ نہیں۔ آپ ﷺ نے گوشت کھانے کے آداب بھی سکھائے۔ حدیث میں ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ اللَّحْمُ" "رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا گوشت تھا۔" (جامع الترمذی) لیکن آپ ﷺ ہمیشہ گوشت تھوڑا کھاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ يَوْمَيْنِ حَتَّى قُبِضَ" "آل محمد نے وفات تک گیہوں کی روٹی سے دو دن مسلسل پیٹ نہیں بھرا۔" (مسند احمد) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق بتاتی ہے کہ گوشت میں: · پروٹین: جسم کی تعمیر کے لیے · آئرن: خون کے لیے · وٹامن بی12: اعصاب کے لیے · زنک: مدافعتی نظام کے لیے مگر زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق زیادہ سرخ گوشت کھانے سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ --- جدید ڈائٹ پلانز اور نبوی تعلیمات کا تقابلی جائزہ 1. انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting) جدید اصول نبوی اصول 16:8 طریقہ (16 گھنٹے فاقہ، 8 گھنٹے کھانا) سحری سے افطار تک روزہ کھانے کی ونڈو صبح دیر سے شروع سحری دیر سے کھانے کی ونڈو شام جلدی ختم افطار جلدی پانی کا استعمال پانی اور نبیز کا استعمال 2. کیٹو ڈائٹ (Keto Diet) جدید اصول نبوی اصول کم کاربوہائیڈریٹ کم گیہوں اور جو کا استعمال زیادہ صحت مند چکنائی زیتون کا تیل، مکھن معتدل پروٹین گوشت، دودھ، پنیر 3. پیلیو ڈائٹ (Paleo Diet) جدید اصول نبوی اصول قدرتی غذائیں کھجور، دودھ، شہد، گوشت پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز سادہ اور قدرتی غذا پھل اور سبزیاں ککڑی، تربوز، کھجور 4. بحیرہ روم کی غذا (Mediterranean Diet) جدید اصول نبوی اصول زیتون کا تیل زیتون کا تیل پھل اور سبزیاں کھجور، انجیر، ککڑی دودھ کی مصنوعات دودھ، دہی، پنیر مچھلی مچھلی کا استعمال --- نبوی ڈائٹ پلان (The Prophetic Diet Plan) مندرجہ ذیل نبوی ڈائٹ پلان رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مبنی ہے اور جدید سائنس کے مطابق ہے: روزانہ کا نبوی ڈائٹ چارٹ وقت غذا مقدار فوائد سحری (دیر سے) 3-5 کھجوریں + جو کا دلیہ + دودھ معتدل دیرپا توانائی افطار (جلدی) 3 کھجوریں + پانی/نبیز ہلکی فوری توانائی نماز مغرب کے بعد سوپ + سلاد + گوشت/سبزی تہائی پیٹ متوازن غذائیت رات (سونے سے پہلے) دودھ + شہد تھوڑا نیند بہتر ہفتہ وار نبوی ڈائٹ چارٹ دن سحری افطار رات کا کھانا اتوار کھجور + جو کا دلیہ کھجور + پانی چکن + سبزیاں پیر دودھ + کھجور کھجور + نبیز مچھلی + سلاد منگل پنیر + زیتون کھجور + تربوز گوشت + سبزیاں بدھ جو کا ستو + شہد کھجور + ککڑی دال + چاول جمعرات دہی + کھجور کھجور + دودھ چکن + سلاد جمعہ انڈے + زیتون کھجور + پانی مچھلی + سبزیاں ہفتہ کھجور + دودھ کھجور + نبیز گوشت + سلاد --- ڈائٹ مینجمنٹ کے نبوی اصول (خلاصہ) نبوی اصول جدید سائنس کی اصطلاح فوائد کم کھانا Calorie Restriction عمر میں اضافہ، بیماریوں سے بچاؤ سادہ غذا Whole Foods قدرتی غذائیت، پراسیسڈ فوڈز سے بچاؤ دیر سے سحری Late Breakfast انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے فوائد جلدی افطار Early Dinner سرکیڈین ردم کے مطابق تین سانس میں پانی Proper Hydration بہتر ہائیڈریشن کھجور کا استعمال Superfood توانائی، غذائیت زیتون کا تیل Healthy Fats دل کی صحت شہد کا استعمال Natural Medicine شفا، مدافعتی نظام --- ماہرین کی آراء ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید "الطب النبوی بین العلم والإیمان" میں لکھتے ہیں: "نبوی ڈائٹ پلان جدید سائنس کی تمام دریافتوں سے پہلے کا ہے مگر آج کی جدید تحقیق اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، اور قدرتی غذائیں استعمال کرنا صحت کی کنجی ہیں۔" ڈاکٹر محمد علی البار "الطب النبوی" میں لکھتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات صحت کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپ ﷺ کا کم کھانے کا اصول، تہائی کا قاعدہ، اور قدرتی غذاوں کا استعمال جدید غذائیت کے عین مطابق ہے۔" ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم "الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب" میں لکھتے ہیں: "کھجور، شہد، زیتون، جو، دودھ جیسی غذائیں نہ صرف سنت ہیں بلکہ جدید سائنس بھی ان کے فوائد تسلیم کرتی ہے۔ ان غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔" --- جدید تحقیق اور نبوی تعلیمات 1. امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن ایک تحقیق کے مطابق کم کھانے سے عمر میں 20-30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم "کم کھانا" کی تصدیق کرتا ہے۔ 2. ہارورڈ میڈیکل اسکول انٹرمٹینٹ فاسٹنگ پر تحقیق کے مطابق یہ وزن کم کرنے، ذیابیطس کنٹرول کرنے اور دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ یہ نبوی تعلیم "سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی" کی تصدیق کرتا ہے۔ 3. ڈاکٹر یوشینوری اوسومی (نوبل انعام یافتہ) آٹوفیجی پر تحقیق کے مطابق روزہ جسم کے خراب خلیوں کو صاف کرتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم "روزہ" کی طبی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ --- خلاصہ باب اس باب میں ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے تمام اصولوں پر محیط ہیں۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، دیر سے سحری اور جلدی افطار کرنا، قدرتی غذائیں استعمال کرنا، اور پانی پینے کے آداب یہ سب جدید سائنس کی دریافت کردہ اصولوں سے پہلے نبوی تعلیمات کا حصہ تھے۔ نبوی اصولوں پر عمل کرنے سے: · وزن کنٹرول میں رہتا ہے · بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے · توانائی برقرار رہتی ہے · عمر میں اضافہ ہوتا ہے · عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے --- حوالہ جات: 1. القرآن الکریم 2. صحیح البخاری 3. صحیح مسلم 4. سنن ابو داؤد 5. سنن الترمذی 6. سنن ابن ماجہ 7. مسند احمد 8. ابن قیم، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد 9. ابن قیم، الطب النبوی 10. ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید، الطب النبوی بین العلم والإیمان 11. ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم، الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب 12. ڈاکٹر محمد علی البار، الطب النبوی 13. ڈاکٹر محمد خیر الشعال، الصیام والصحۃ 14. ڈاکٹر مائیکل گریگر، How Not to Die 15. ڈاکٹر مارک ہائمین، Food: What the Heck Should I Eat 16. ڈاکٹر سچن پانڈا، The Circadian Code 17. ڈاکٹر پیٹر مولان، The Honey Revolution 18. ڈاکٹر باتمانگلیج، Your Body's Many Cries for Water 19. ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، The Plant Paradox 20. American Journal of Clinical Nutrition 21. Harvard Medical School --- جاری ہے... باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان 108

باب سوم: نبوی اصول اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

تحریر شئیر کریں

تعارف

باب سوم: نبوی اصول اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ تعارف جدید دور میں جہاں انسان صحت اور تندرستی کے لیے نئے نئے ڈائٹ پلان ایجاد کر رہا ہے، وہیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات چودہ سو سال قبل ہی ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا فرما چکی تھیں۔ "انٹرمٹینٹ فاسٹنگ" (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا)، "کم کارب ڈائٹ"، "کیٹو ڈائٹ"، "پیلیو ڈائٹ" جیسی اصطلاحات آج کل مقبول ہیں، مگر ان سب کے بنیادی اصول نبوی تعلیمات میں موجود ہیں۔ اس باب میں ہم نبوی اصولوں کا جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہم نہ صرف روحانی فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ --- 1. کم کھانے کا اصول (Portion Control) رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم اصول کم کھانے کا تھا۔ آپ ﷺ نے امت کو ہمیشہ کم کھانے اور پیٹ بھر کر کھانے سے منع فرمایا۔ حدیث میں ذکر حضرت مقدار بن مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ" "ابن آدم نے پیٹ سے بھرا ہوا برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں۔ اگر اسے زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 2380، سنن ابن ماجہ، حدیث: 3349) امام ترمذی نے اس حدیث کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" "مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5394، صحیح مسلم، حدیث: 2060) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مومن کم کھاتا ہے جبکہ کافر زیادہ کھاتا ہے۔ جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کم کھانے کے بے شمار فوائد ہیں: کیلیوری ریسٹرکشن (Calorie Restriction) سائنسدانوں نے پایا ہے کہ کیلیوریز میں کمی کرنے سے: · عمر میں اضافہ ہوتا ہے · بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے · کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے · دل کے امراض سے بچاؤ ہوتا ہے · دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں ڈاکٹر محمد خیر الشعال اپنی کتاب "الصیام والصحۃ" میں لکھتے ہیں: "کم کھانے کا نبوی اصول جدید سائنس کی دریافت کردہ 'کیلیوری ریسٹرکشن' سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔" تہائی کا قاعدہ (The One-Third Rule) رسول اللہ ﷺ کا تہائی کا قاعدہ جدید غذائیت کا شاہکار ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق: · کھانے کے لیے ایک تہائی جگہ چھوڑنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے · پانی کے لیے ایک تہائی جگہ رکھنے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے · سانس کے لیے ایک تہائی جگہ رہنے سے معدے پر دباؤ نہیں پڑتا ڈاکٹر مائیکل گریگر، جو مشہور کتاب "How Not to Die" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "کھانے کے بعد پیٹ میں تھوڑی جگہ خالی چھوڑنا ہاضمے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس سے معدہ آسانی سے خوراک کو ملا سکتا ہے اور ہاضمے کے عمل میں مدد ملتی ہے۔" اقتباس: "زاد المعاد" از امام ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ "زاد المعاد فی ہدی خیر العباد" میں تحریر فرماتے ہیں: "کم کھانے میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ اس سے جسم ہلکا رہتا ہے، دل صاف رہتا ہے، ذہن تیز رہتا ہے، نیند کم آتی ہے، عبادت میں مزہ آتا ہے، اور بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ زیادہ کھانے سے جسم بوجھل ہو جاتا ہے، دل سخت ہو جاتا ہے، ذہن کند ہو جاتا ہے، نیند زیادہ آتی ہے، عبادت میں کاہلی ہوتی ہے، اور بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔" --- 2. سادہ غذا کا اصول (Simplicity in Diet) رسول اللہ ﷺ کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ آپ ﷺ ہمیشہ سادہ غذا کھاتے اور پرتکلف کھانوں سے پرہیز فرماتے تھے۔ حدیث میں ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ" "آل محمد (ﷺ) نے مدینہ آنے کے بعد گیہوں کی روٹی سے تین رات مسلسل پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5416) نیز حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" "مال کی کثرت سے غنی نہیں ہوتا، بلکہ غنی تو دل کا غنی ہونا ہے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 6446، صحیح مسلم، حدیث: 1051) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سادہ غذا صحت کے لیے بہترین ہے: پراسیسڈ فوڈز کے نقصانات پراسیسڈ اور پیک شدہ غذائیں جن میں کیمیکلز، پرزرویٹوز، مصنوعی رنگ اور ذائقے شامل ہوتے ہیں، صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں: · موٹاپے کا سبب بنتی ہیں · دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں · ذیابیطس کا سبب بنتی ہیں · کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں · نظام ہاضمہ خراب کرتی ہیں قدرتی غذاؤں کے فوائد قدرتی غذائیں جیسے کھجور، جو، دودھ، شہد، پھل، سبزیاں: · وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہیں · اینٹی آکسیڈنٹس رکھتی ہیں · فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں · ہاضمہ بہتر کرتی ہیں · مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں ڈاکٹر مارک ہائمین، جو مشہور کتاب "Food: What the Heck Should I Eat" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "قدرتی غذا وہی ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے، نہ کہ فیکٹریوں میں بنی۔ جتنی زیادہ قدرتی غذا کھائیں گے، اتنا ہی صحت مند رہیں گے۔" اقتباس: "الطب النبوی" از ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "نبی کریم ﷺ کی غذا سادہ اور قدرتی تھی۔ آپ ﷺ گوشت، کھجور، جو، دودھ، شہد، ککڑی، تربوز جیسی غذائیں کھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی پرتکلف اور مصنوعی کھانے نہیں کھائے۔ یہی سادگی آپ ﷺ کی صحت کا راز تھی۔" --- 3. دیر سے سحری اور جلدی افطار کا اصول (Intermittent Fasting) رسول اللہ ﷺ کا اصول تھا کہ سحری دیر سے کریں اور افطار جلدی کریں۔ یہی جدید "انٹرمٹینٹ فاسٹنگ" کا بنیادی اصول ہے۔ حدیث میں ذکر سحری میں تاخیر کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرَ خَمْسِينَ آيَةً" "ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز (فجر) کے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی نے پوچھا: دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا: پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔" (صحیح البخاری، حدیث: 1921) افطار میں جلدی کے بارے میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" "لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔" (صحیح البخاری، حدیث: 1957) جدید سائنس کی روشنی میں انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا) آج کل بہت مقبول ہے۔ اس کے فوائد: آٹوفیجی (Autophagy) 2016 کا نوبل انعام ڈاکٹر یوشینوری اوسومی کو ملا جنہوں نے "آٹوفیجی" (خود خوردبینی) کا عمل دریافت کیا۔ آٹوفیجی وہ عمل ہے جس میں جسم اپنے خراب خلیوں کو توڑ کر نیا خلیہ بناتا ہے۔ یہ عمل روزے کی حالت میں تیز ہو جاتا ہے۔ آٹوفیجی کے فوائد: · جسم سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں · خراب خلیے مرمت ہوتے ہیں · کینسر کے خلیے تباہ ہوتے ہیں · بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے · دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں سرکیڈین ردم (Circadian Rhythm) انسانی جسم کا ایک اندرونی نظام ہے جو کھانے پینے، سونے جاگنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ صبح جلدی کھانا اور شام جلدی کھانا اس نظام کے مطابق ہے۔ ڈاکٹر سچن پانڈا، جو انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب "The Circadian Code" میں لکھتے ہیں: "صبح دیر سے ناشتہ کرنا اور شام جلدی کھانا کھانا سرکیڈین ردم کے مطابق ہے۔ یہ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔" اقتباس: "زاد المعاد" از ابن قیم امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "نبی کریم ﷺ سحری دیر سے کرتے اور افطار جلدی کرتے تھے۔ اس میں بہت حکمتیں ہیں۔ سحری دیر سے کرنے سے دن بھر طاقت رہتی ہے اور افطار جلدی کرنے سے جسم کو جلد آرام ملتا ہے اور عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے۔" --- 4. دودھ پینے کا اصول (Dairy Consumption) رسول اللہ ﷺ کو دودھ بہت پسند تھا اور آپ ﷺ نے دودھ پینے کے آداب بھی سکھائے۔ حدیث میں ذکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ" "جسے اللہ دودھ پلائے تو وہ کہے: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے مزید عطا فرما۔" (سنن الترمذی، حدیث: 3455) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يَجْزِي مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ" "کھانے پینے کی جگہ لینے والی کوئی چیز دودھ کے سوا نہیں ہے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 3456) جدید سائنس کی روشنی میں دودھ کو "مکمل غذا" (Complete Food) کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جو انسان کو درکار ہیں: · پروٹین: جسم کی تعمیر اور مرمت کے لیے · کیلشیم: ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے · وٹامن ڈی: کیلشیم جذب کرنے کے لیے · وٹامن بی12: اعصابی نظام کے لیے · پوٹاشیم: دل اور پٹھوں کے لیے · میگنیشیم: توانائی کے لیے ڈاکٹر ڈیریل گیورائی، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کہتے ہیں: "دودھ فطرت کا سب سے مکمل غذا ہے۔ اس میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامنز کسی اور غذا میں اتنے متوازن مقدار میں نہیں ملتے۔" --- 5. شہد کا استعمال (Honey as Medicine) شہد کو قرآن میں "شفا" قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی اسے بطور دوا استعمال فرماتے تھے۔ حدیث میں ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ" "اس (شہد کی مکھی) کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔" (سورۃ النحل: 69) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی شکایت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسْقِهِ عَسَلاً" "اسے شہد پلا دو۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5684) جدید سائنس کی روشنی میں شہد پر سینکڑوں تحقیقات ہو چکی ہیں جو اس کے طبی فوائد ثابت کرتی ہیں: · اینٹی بیکٹیریل: شہد بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے · اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے · اینٹی آکسیڈنٹ: جسم کو زہریلے مادوں سے بچاتا ہے · زخم بھرنے والا: زخم جلدی بھرتا ہے · کھانسی دور کرنے والا: قدرتی کھانسی کی دوا ڈاکٹر پیٹر مولان، جو شہد پر دنیا کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب "The Honey Revolution" میں لکھتے ہیں: "شہد میں موجود انزائمز اور اینٹی بیکٹیریل اجزاء اسے دنیا کی بہترین قدرتی دوا بناتے ہیں۔ کوئی بھی مصنوعی دوا شہد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔" --- 6. پانی پینے کے اصول (Hydration Rules) رسول اللہ ﷺ نے پانی پینے کے بھی آداب سکھائے جو جدید سائنس کے مطابق ہیں۔ حدیث میں ذکر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس میں پیتے تھے اور فرماتے: "إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ" "یہ زیادہ سیراب کرنے والا، بیماری سے بچانے والا اور خوشگوار ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2028) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: "لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ" "ایک سانس میں نہ پیو جیسے اونٹ پیتے ہیں، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، اور پیتے وقت بسم اللہ کہو، اور ختم کرتے وقت الحمدللہ کہو۔" (سنن الترمذی، حدیث: 1885) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایک سانس میں پانی پینا نقصان دہ ہے: · معدے پر دباؤ پڑتا ہے · ہاضمہ خراب ہوتا ہے · گردوں پر بوجھ پڑتا ہے · دماغ تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی ڈاکٹر باتمانگلیج، جو پانی پر مشہور کتاب "Your Body's Many Cries for Water" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "پانی آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کر کے پینا چاہیے۔ اس طرح جسم پانی کو بہتر جذب کرتا ہے اور گردوں پر بوجھ نہیں پڑتا۔" --- 7. کھجور کا استعمال (Dates as Superfood) کھجور کو رسول اللہ ﷺ نے بہترین غذا قرار دیا اور اسے سحری اور افطار دونوں میں استعمال کیا۔ حدیث میں ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ" "مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔" (سنن ابو داؤد، حدیث: 2345) اور افطار کے بارے میں فرمایا: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ" "جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے کہ اس میں برکت ہے۔" (سنن ابو داؤد، حدیث: 2355) جدید سائنس کی روشنی میں کھجور پر جدید تحقیق کے مطابق: کھجور میں 15 سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں: · پوٹاشیم: بلڈ پریشر کنٹرول · میگنیشیم: پٹھوں اور اعصاب کے لیے · کیلشیم: ہڈیوں کے لیے · آئرن: خون کی کمی دور کرنے کے لیے · زنک: مدافعتی نظام کے لیے کھجور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس: · کیروٹینائڈز: آنکھوں کے لیے مفید · فینولکس: دل کے لیے مفید · فلیوونائڈز: کینسر سے بچاؤ ڈاکٹر مائیکل گریگر لکھتے ہیں: "کھجور کو سپر فوڈ کہنا بے جا نہیں۔ اس میں موجود غذائی اجزاء کسی بھی دوسرے پھل سے زیادہ ہیں۔ یہ توانائی کا بہترین ذریعہ ہے اور خون کی کمی دور کرتا ہے۔" --- 8. زیتون کا تیل (Olive Oil as Healthy Fat) زیتون کا تیل قرآن میں مذکور ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اسے استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔ حدیث میں ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ" "انجیر اور زیتون کی قسم۔" (سورۃ التین: 1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ" "زیتون کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ کیونکہ یہ بابرکت درخت سے ہے۔" (سنن الترمذی، حدیث: 1851) جدید سائنس کی روشنی میں زیتون کے تیل پر جدید تحقیق: · مونو ان سیچوریٹڈ فیٹس: دل کے لیے مفید · اینٹی آکسیڈنٹس: کینسر سے بچاؤ · اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے · وٹامن ای: جلد اور بالوں کے لیے مفید ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، جو مشہور کتاب "The Plant Paradox" کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں: "زیتون کا تیل بحیرہ روم کی غذا کا اہم جزو ہے۔ جو لوگ زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کے امراض اور کینسر کی شرح کم ہوتی ہے۔" --- 9. سرکہ کا استعمال (Vinegar as Digestive Aid) رسول اللہ ﷺ نے سرکہ کو بہترین سالن قرار دیا۔ حدیث میں ذکر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ" "سرکہ بہترین سالن ہے۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2052) جدید سائنس کی روشنی میں سرکہ کے طبی فوائد: · بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے · ہاضمہ بہتر کرتا ہے · وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے · کولیسٹرول کم کرتا ہے · اینٹی بیکٹیریل ہے --- 10. گوشت کھانے کے اصول (Meat Consumption) رسول اللہ ﷺ گوشت کھاتے تھے مگر زیادہ نہیں۔ آپ ﷺ نے گوشت کھانے کے آداب بھی سکھائے۔ حدیث میں ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ اللَّحْمُ" "رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا گوشت تھا۔" (جامع الترمذی) لیکن آپ ﷺ ہمیشہ گوشت تھوڑا کھاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ يَوْمَيْنِ حَتَّى قُبِضَ" "آل محمد نے وفات تک گیہوں کی روٹی سے دو دن مسلسل پیٹ نہیں بھرا۔" (مسند احمد) جدید سائنس کی روشنی میں جدید تحقیق بتاتی ہے کہ گوشت میں: · پروٹین: جسم کی تعمیر کے لیے · آئرن: خون کے لیے · وٹامن بی12: اعصاب کے لیے · زنک: مدافعتی نظام کے لیے مگر زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق زیادہ سرخ گوشت کھانے سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ --- جدید ڈائٹ پلانز اور نبوی تعلیمات کا تقابلی جائزہ 1. انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting) جدید اصول نبوی اصول 16:8 طریقہ (16 گھنٹے فاقہ، 8 گھنٹے کھانا) سحری سے افطار تک روزہ کھانے کی ونڈو صبح دیر سے شروع سحری دیر سے کھانے کی ونڈو شام جلدی ختم افطار جلدی پانی کا استعمال پانی اور نبیز کا استعمال 2. کیٹو ڈائٹ (Keto Diet) جدید اصول نبوی اصول کم کاربوہائیڈریٹ کم گیہوں اور جو کا استعمال زیادہ صحت مند چکنائی زیتون کا تیل، مکھن معتدل پروٹین گوشت، دودھ، پنیر 3. پیلیو ڈائٹ (Paleo Diet) جدید اصول نبوی اصول قدرتی غذائیں کھجور، دودھ، شہد، گوشت پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز سادہ اور قدرتی غذا پھل اور سبزیاں ککڑی، تربوز، کھجور 4. بحیرہ روم کی غذا (Mediterranean Diet) جدید اصول نبوی اصول زیتون کا تیل زیتون کا تیل پھل اور سبزیاں کھجور، انجیر، ککڑی دودھ کی مصنوعات دودھ، دہی، پنیر مچھلی مچھلی کا استعمال --- نبوی ڈائٹ پلان (The Prophetic Diet Plan) مندرجہ ذیل نبوی ڈائٹ پلان رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مبنی ہے اور جدید سائنس کے مطابق ہے: روزانہ کا نبوی ڈائٹ چارٹ وقت غذا مقدار فوائد سحری (دیر سے) 3-5 کھجوریں + جو کا دلیہ + دودھ معتدل دیرپا توانائی افطار (جلدی) 3 کھجوریں + پانی/نبیز ہلکی فوری توانائی نماز مغرب کے بعد سوپ + سلاد + گوشت/سبزی تہائی پیٹ متوازن غذائیت رات (سونے سے پہلے) دودھ + شہد تھوڑا نیند بہتر ہفتہ وار نبوی ڈائٹ چارٹ دن سحری افطار رات کا کھانا اتوار کھجور + جو کا دلیہ کھجور + پانی چکن + سبزیاں پیر دودھ + کھجور کھجور + نبیز مچھلی + سلاد منگل پنیر + زیتون کھجور + تربوز گوشت + سبزیاں بدھ جو کا ستو + شہد کھجور + ککڑی دال + چاول جمعرات دہی + کھجور کھجور + دودھ چکن + سلاد جمعہ انڈے + زیتون کھجور + پانی مچھلی + سبزیاں ہفتہ کھجور + دودھ کھجور + نبیز گوشت + سلاد --- ڈائٹ مینجمنٹ کے نبوی اصول (خلاصہ) نبوی اصول جدید سائنس کی اصطلاح فوائد کم کھانا Calorie Restriction عمر میں اضافہ، بیماریوں سے بچاؤ سادہ غذا Whole Foods قدرتی غذائیت، پراسیسڈ فوڈز سے بچاؤ دیر سے سحری Late Breakfast انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے فوائد جلدی افطار Early Dinner سرکیڈین ردم کے مطابق تین سانس میں پانی Proper Hydration بہتر ہائیڈریشن کھجور کا استعمال Superfood توانائی، غذائیت زیتون کا تیل Healthy Fats دل کی صحت شہد کا استعمال Natural Medicine شفا، مدافعتی نظام --- ماہرین کی آراء ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید "الطب النبوی بین العلم والإیمان" میں لکھتے ہیں: "نبوی ڈائٹ پلان جدید سائنس کی تمام دریافتوں سے پہلے کا ہے مگر آج کی جدید تحقیق اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، اور قدرتی غذائیں استعمال کرنا صحت کی کنجی ہیں۔" ڈاکٹر محمد علی البار "الطب النبوی" میں لکھتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات صحت کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپ ﷺ کا کم کھانے کا اصول، تہائی کا قاعدہ، اور قدرتی غذاوں کا استعمال جدید غذائیت کے عین مطابق ہے۔" ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم "الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب" میں لکھتے ہیں: "کھجور، شہد، زیتون، جو، دودھ جیسی غذائیں نہ صرف سنت ہیں بلکہ جدید سائنس بھی ان کے فوائد تسلیم کرتی ہے۔ ان غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔" --- جدید تحقیق اور نبوی تعلیمات 1. امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن ایک تحقیق کے مطابق کم کھانے سے عمر میں 20-30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم "کم کھانا" کی تصدیق کرتا ہے۔ 2. ہارورڈ میڈیکل اسکول انٹرمٹینٹ فاسٹنگ پر تحقیق کے مطابق یہ وزن کم کرنے، ذیابیطس کنٹرول کرنے اور دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ یہ نبوی تعلیم "سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی" کی تصدیق کرتا ہے۔ 3. ڈاکٹر یوشینوری اوسومی (نوبل انعام یافتہ) آٹوفیجی پر تحقیق کے مطابق روزہ جسم کے خراب خلیوں کو صاف کرتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم "روزہ" کی طبی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ --- خلاصہ باب اس باب میں ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے تمام اصولوں پر محیط ہیں۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، دیر سے سحری اور جلدی افطار کرنا، قدرتی غذائیں استعمال کرنا، اور پانی پینے کے آداب یہ سب جدید سائنس کی دریافت کردہ اصولوں سے پہلے نبوی تعلیمات کا حصہ تھے۔ نبوی اصولوں پر عمل کرنے سے: · وزن کنٹرول میں رہتا ہے · بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے · توانائی برقرار رہتی ہے · عمر میں اضافہ ہوتا ہے · عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے --- حوالہ جات: 1. القرآن الکریم 2. صحیح البخاری 3. صحیح مسلم 4. سنن ابو داؤد 5. سنن الترمذی 6. سنن ابن ماجہ 7. مسند احمد 8. ابن قیم، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد 9. ابن قیم، الطب النبوی 10. ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید، الطب النبوی بین العلم والإیمان 11. ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم، الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب 12. ڈاکٹر محمد علی البار، الطب النبوی 13. ڈاکٹر محمد خیر الشعال، الصیام والصحۃ 14. ڈاکٹر مائیکل گریگر، How Not to Die 15. ڈاکٹر مارک ہائمین، Food: What the Heck Should I Eat 16. ڈاکٹر سچن پانڈا، The Circadian Code 17. ڈاکٹر پیٹر مولان، The Honey Revolution 18. ڈاکٹر باتمانگلیج، Your Body's Many Cries for Water 19. ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، The Plant Paradox 20. American Journal of Clinical Nutrition 21. Harvard Medical School --- جاری ہے... باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان

جدید دور میں جہاں انسان صحت اور تندرستی کے لیے نئے نئے ڈائٹ پلان ایجاد کر رہا ہے، وہیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات چودہ سو سال قبل ہی ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا فرما چکی تھیں۔ “انٹرمٹینٹ فاسٹنگ” (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا)، “کم کارب ڈائٹ”، “کیٹو ڈائٹ”، “پیلیو ڈائٹ” جیسی اصطلاحات آج کل مقبول ہیں، مگر ان سب کے بنیادی اصول نبوی تعلیمات میں موجود ہیں۔

اس باب میں ہم نبوی اصولوں کا جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہم نہ صرف روحانی فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

—

1. کم کھانے کا اصول (Portion Control)

رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم اصول کم کھانے کا تھا۔ آپ ﷺ نے امت کو ہمیشہ کم کھانے اور پیٹ بھر کر کھانے سے منع فرمایا۔

حدیث میں ذکر

حضرت مقدار بن مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ”
“ابن آدم نے پیٹ سے بھرا ہوا برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں۔ اگر اسے زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 2380، سنن ابن ماجہ، حدیث: 3349)

امام ترمذی نے اس حدیث کو “حسن صحیح” قرار دیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ”
“مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 5394، صحیح مسلم، حدیث: 2060)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مومن کم کھاتا ہے جبکہ کافر زیادہ کھاتا ہے۔

جدید سائنس کی روشنی میں

جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کم کھانے کے بے شمار فوائد ہیں:

کیلیوری ریسٹرکشن (Calorie Restriction)

سائنسدانوں نے پایا ہے کہ کیلیوریز میں کمی کرنے سے:

· عمر میں اضافہ ہوتا ہے
· بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے
· کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے
· دل کے امراض سے بچاؤ ہوتا ہے
· دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں

ڈاکٹر محمد خیر الشعال اپنی کتاب “الصیام والصحۃ” میں لکھتے ہیں:

“کم کھانے کا نبوی اصول جدید سائنس کی دریافت کردہ ‘کیلیوری ریسٹرکشن’ سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔”

تہائی کا قاعدہ (The One-Third Rule)

رسول اللہ ﷺ کا تہائی کا قاعدہ جدید غذائیت کا شاہکار ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق:

· کھانے کے لیے ایک تہائی جگہ چھوڑنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے
· پانی کے لیے ایک تہائی جگہ رکھنے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے
· سانس کے لیے ایک تہائی جگہ رہنے سے معدے پر دباؤ نہیں پڑتا

ڈاکٹر مائیکل گریگر، جو مشہور کتاب “How Not to Die” کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں:

“کھانے کے بعد پیٹ میں تھوڑی جگہ خالی چھوڑنا ہاضمے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس سے معدہ آسانی سے خوراک کو ملا سکتا ہے اور ہاضمے کے عمل میں مدد ملتی ہے۔”

اقتباس: “زاد المعاد” از امام ابن قیم

امام ابن قیم رحمہ اللہ “زاد المعاد فی ہدی خیر العباد” میں تحریر فرماتے ہیں:

“کم کھانے میں بے شمار حکمتیں ہیں۔ اس سے جسم ہلکا رہتا ہے، دل صاف رہتا ہے، ذہن تیز رہتا ہے، نیند کم آتی ہے، عبادت میں مزہ آتا ہے، اور بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ زیادہ کھانے سے جسم بوجھل ہو جاتا ہے، دل سخت ہو جاتا ہے، ذہن کند ہو جاتا ہے، نیند زیادہ آتی ہے، عبادت میں کاہلی ہوتی ہے، اور بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔”

—

2. سادہ غذا کا اصول (Simplicity in Diet)

رسول اللہ ﷺ کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ آپ ﷺ ہمیشہ سادہ غذا کھاتے اور پرتکلف کھانوں سے پرہیز فرماتے تھے۔

حدیث میں ذکر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ”
“آل محمد (ﷺ) نے مدینہ آنے کے بعد گیہوں کی روٹی سے تین رات مسلسل پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 5416)

نیز حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ”
“مال کی کثرت سے غنی نہیں ہوتا، بلکہ غنی تو دل کا غنی ہونا ہے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 6446، صحیح مسلم، حدیث: 1051)

جدید سائنس کی روشنی میں

جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سادہ غذا صحت کے لیے بہترین ہے:

پراسیسڈ فوڈز کے نقصانات

پراسیسڈ اور پیک شدہ غذائیں جن میں کیمیکلز، پرزرویٹوز، مصنوعی رنگ اور ذائقے شامل ہوتے ہیں، صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں:

· موٹاپے کا سبب بنتی ہیں
· دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں
· ذیابیطس کا سبب بنتی ہیں
· کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں
· نظام ہاضمہ خراب کرتی ہیں

قدرتی غذاؤں کے فوائد

قدرتی غذائیں جیسے کھجور، جو، دودھ، شہد، پھل، سبزیاں:

· وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہیں
· اینٹی آکسیڈنٹس رکھتی ہیں
· فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں
· ہاضمہ بہتر کرتی ہیں
· مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں

ڈاکٹر مارک ہائمین، جو مشہور کتاب “Food: What the Heck Should I Eat” کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں:

“قدرتی غذا وہی ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے، نہ کہ فیکٹریوں میں بنی۔ جتنی زیادہ قدرتی غذا کھائیں گے، اتنا ہی صحت مند رہیں گے۔”

اقتباس: “الطب النبوی” از ابن قیم

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“نبی کریم ﷺ کی غذا سادہ اور قدرتی تھی۔ آپ ﷺ گوشت، کھجور، جو، دودھ، شہد، ککڑی، تربوز جیسی غذائیں کھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی پرتکلف اور مصنوعی کھانے نہیں کھائے۔ یہی سادگی آپ ﷺ کی صحت کا راز تھی۔”

—

3. دیر سے سحری اور جلدی افطار کا اصول (Intermittent Fasting)

رسول اللہ ﷺ کا اصول تھا کہ سحری دیر سے کریں اور افطار جلدی کریں۔ یہی جدید “انٹرمٹینٹ فاسٹنگ” کا بنیادی اصول ہے۔

حدیث میں ذکر

سحری میں تاخیر کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

“تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرَ خَمْسِينَ آيَةً”
“ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز (فجر) کے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی نے پوچھا: دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا: پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1921)

افطار میں جلدی کے بارے میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

“لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ”
“لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1957)

جدید سائنس کی روشنی میں

انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے روزہ رکھنا) آج کل بہت مقبول ہے۔ اس کے فوائد:

آٹوفیجی (Autophagy)

2016 کا نوبل انعام ڈاکٹر یوشینوری اوسومی کو ملا جنہوں نے “آٹوفیجی” (خود خوردبینی) کا عمل دریافت کیا۔ آٹوفیجی وہ عمل ہے جس میں جسم اپنے خراب خلیوں کو توڑ کر نیا خلیہ بناتا ہے۔ یہ عمل روزے کی حالت میں تیز ہو جاتا ہے۔

آٹوفیجی کے فوائد:

· جسم سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں
· خراب خلیے مرمت ہوتے ہیں
· کینسر کے خلیے تباہ ہوتے ہیں
· بڑھاپے کی رفتار کم ہوتی ہے
· دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں

سرکیڈین ردم (Circadian Rhythm)

انسانی جسم کا ایک اندرونی نظام ہے جو کھانے پینے، سونے جاگنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ صبح جلدی کھانا اور شام جلدی کھانا اس نظام کے مطابق ہے۔

ڈاکٹر سچن پانڈا، جو انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب “The Circadian Code” میں لکھتے ہیں:

“صبح دیر سے ناشتہ کرنا اور شام جلدی کھانا کھانا سرکیڈین ردم کے مطابق ہے۔ یہ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔”

اقتباس: “زاد المعاد” از ابن قیم

امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“نبی کریم ﷺ سحری دیر سے کرتے اور افطار جلدی کرتے تھے۔ اس میں بہت حکمتیں ہیں۔ سحری دیر سے کرنے سے دن بھر طاقت رہتی ہے اور افطار جلدی کرنے سے جسم کو جلد آرام ملتا ہے اور عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے۔”

—

4. دودھ پینے کا اصول (Dairy Consumption)

رسول اللہ ﷺ کو دودھ بہت پسند تھا اور آپ ﷺ نے دودھ پینے کے آداب بھی سکھائے۔

حدیث میں ذکر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ”
“جسے اللہ دودھ پلائے تو وہ کہے: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے مزید عطا فرما۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 3455)

نیز آپ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يَجْزِي مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ”
“کھانے پینے کی جگہ لینے والی کوئی چیز دودھ کے سوا نہیں ہے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 3456)

جدید سائنس کی روشنی میں

دودھ کو “مکمل غذا” (Complete Food) کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جو انسان کو درکار ہیں:

· پروٹین: جسم کی تعمیر اور مرمت کے لیے
· کیلشیم: ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے
· وٹامن ڈی: کیلشیم جذب کرنے کے لیے
· وٹامن بی12: اعصابی نظام کے لیے
· پوٹاشیم: دل اور پٹھوں کے لیے
· میگنیشیم: توانائی کے لیے

ڈاکٹر ڈیریل گیورائی، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کہتے ہیں:

“دودھ فطرت کا سب سے مکمل غذا ہے۔ اس میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامنز کسی اور غذا میں اتنے متوازن مقدار میں نہیں ملتے۔”

—

5. شہد کا استعمال (Honey as Medicine)

شہد کو قرآن میں “شفا” قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی اسے بطور دوا استعمال فرماتے تھے۔

حدیث میں ذکر

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ”
“اس (شہد کی مکھی) کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔”
(سورۃ النحل: 69)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی شکایت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“اسْقِهِ عَسَلاً”
“اسے شہد پلا دو۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 5684)

جدید سائنس کی روشنی میں

شہد پر سینکڑوں تحقیقات ہو چکی ہیں جو اس کے طبی فوائد ثابت کرتی ہیں:

· اینٹی بیکٹیریل: شہد بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے
· اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے
· اینٹی آکسیڈنٹ: جسم کو زہریلے مادوں سے بچاتا ہے
· زخم بھرنے والا: زخم جلدی بھرتا ہے
· کھانسی دور کرنے والا: قدرتی کھانسی کی دوا

ڈاکٹر پیٹر مولان، جو شہد پر دنیا کے مشہور محقق ہیں، اپنی کتاب “The Honey Revolution” میں لکھتے ہیں:

“شہد میں موجود انزائمز اور اینٹی بیکٹیریل اجزاء اسے دنیا کی بہترین قدرتی دوا بناتے ہیں۔ کوئی بھی مصنوعی دوا شہد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔”

—

6. پانی پینے کے اصول (Hydration Rules)

رسول اللہ ﷺ نے پانی پینے کے بھی آداب سکھائے جو جدید سائنس کے مطابق ہیں۔

حدیث میں ذکر

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پانی پیتے وقت تین سانس میں پیتے تھے اور فرماتے:

“إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ”
“یہ زیادہ سیراب کرنے والا، بیماری سے بچانے والا اور خوشگوار ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2028)

نیز آپ ﷺ نے فرمایا:

“لاَ تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلاَثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ”
“ایک سانس میں نہ پیو جیسے اونٹ پیتے ہیں، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، اور پیتے وقت بسم اللہ کہو، اور ختم کرتے وقت الحمدللہ کہو۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 1885)

جدید سائنس کی روشنی میں

جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایک سانس میں پانی پینا نقصان دہ ہے:

· معدے پر دباؤ پڑتا ہے
· ہاضمہ خراب ہوتا ہے
· گردوں پر بوجھ پڑتا ہے
· دماغ تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی

ڈاکٹر باتمانگلیج، جو پانی پر مشہور کتاب “Your Body’s Many Cries for Water” کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں:

“پانی آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کر کے پینا چاہیے۔ اس طرح جسم پانی کو بہتر جذب کرتا ہے اور گردوں پر بوجھ نہیں پڑتا۔”

—

7. کھجور کا استعمال (Dates as Superfood)

کھجور کو رسول اللہ ﷺ نے بہترین غذا قرار دیا اور اسے سحری اور افطار دونوں میں استعمال کیا۔

حدیث میں ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ”
“مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 2345)

اور افطار کے بارے میں فرمایا:

“إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ”
“جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے کہ اس میں برکت ہے۔”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 2355)

جدید سائنس کی روشنی میں

کھجور پر جدید تحقیق کے مطابق:

کھجور میں 15 سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں:

· پوٹاشیم: بلڈ پریشر کنٹرول
· میگنیشیم: پٹھوں اور اعصاب کے لیے
· کیلشیم: ہڈیوں کے لیے
· آئرن: خون کی کمی دور کرنے کے لیے
· زنک: مدافعتی نظام کے لیے

کھجور میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس:

· کیروٹینائڈز: آنکھوں کے لیے مفید
· فینولکس: دل کے لیے مفید
· فلیوونائڈز: کینسر سے بچاؤ

ڈاکٹر مائیکل گریگر لکھتے ہیں:

“کھجور کو سپر فوڈ کہنا بے جا نہیں۔ اس میں موجود غذائی اجزاء کسی بھی دوسرے پھل سے زیادہ ہیں۔ یہ توانائی کا بہترین ذریعہ ہے اور خون کی کمی دور کرتا ہے۔”

—

8. زیتون کا تیل (Olive Oil as Healthy Fat)

زیتون کا تیل قرآن میں مذکور ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اسے استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔

حدیث میں ذکر

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ”
“انجیر اور زیتون کی قسم۔”
(سورۃ التین: 1)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ”
“زیتون کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ کیونکہ یہ بابرکت درخت سے ہے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 1851)

جدید سائنس کی روشنی میں

زیتون کے تیل پر جدید تحقیق:

· مونو ان سیچوریٹڈ فیٹس: دل کے لیے مفید
· اینٹی آکسیڈنٹس: کینسر سے بچاؤ
· اینٹی انفلامیٹری: سوجن کم کرتا ہے
· وٹامن ای: جلد اور بالوں کے لیے مفید

ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، جو مشہور کتاب “The Plant Paradox” کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں:

“زیتون کا تیل بحیرہ روم کی غذا کا اہم جزو ہے۔ جو لوگ زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کے امراض اور کینسر کی شرح کم ہوتی ہے۔”

—

9. سرکہ کا استعمال (Vinegar as Digestive Aid)

رسول اللہ ﷺ نے سرکہ کو بہترین سالن قرار دیا۔

حدیث میں ذکر

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ”
“سرکہ بہترین سالن ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2052)

جدید سائنس کی روشنی میں

سرکہ کے طبی فوائد:

· بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے
· ہاضمہ بہتر کرتا ہے
· وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے
· کولیسٹرول کم کرتا ہے
· اینٹی بیکٹیریل ہے

—

10. گوشت کھانے کے اصول (Meat Consumption)

رسول اللہ ﷺ گوشت کھاتے تھے مگر زیادہ نہیں۔ آپ ﷺ نے گوشت کھانے کے آداب بھی سکھائے۔

حدیث میں ذکر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ اللَّحْمُ”
“رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا گوشت تھا۔”
(جامع الترمذی)

لیکن آپ ﷺ ہمیشہ گوشت تھوڑا کھاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ يَوْمَيْنِ حَتَّى قُبِضَ”
“آل محمد نے وفات تک گیہوں کی روٹی سے دو دن مسلسل پیٹ نہیں بھرا۔”
(مسند احمد)

جدید سائنس کی روشنی میں

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ گوشت میں:

· پروٹین: جسم کی تعمیر کے لیے
· آئرن: خون کے لیے
· وٹامن بی12: اعصاب کے لیے
· زنک: مدافعتی نظام کے لیے

مگر زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق زیادہ سرخ گوشت کھانے سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

—

جدید ڈائٹ پلانز اور نبوی تعلیمات کا تقابلی جائزہ

1. انٹرمٹینٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting)

جدید اصول نبوی اصول
16:8 طریقہ (16 گھنٹے فاقہ، 8 گھنٹے کھانا) سحری سے افطار تک روزہ
کھانے کی ونڈو صبح دیر سے شروع سحری دیر سے
کھانے کی ونڈو شام جلدی ختم افطار جلدی
پانی کا استعمال پانی اور نبیز کا استعمال

2. کیٹو ڈائٹ (Keto Diet)

جدید اصول نبوی اصول
کم کاربوہائیڈریٹ کم گیہوں اور جو کا استعمال
زیادہ صحت مند چکنائی زیتون کا تیل، مکھن
معتدل پروٹین گوشت، دودھ، پنیر

3. پیلیو ڈائٹ (Paleo Diet)

جدید اصول نبوی اصول
قدرتی غذائیں کھجور، دودھ، شہد، گوشت
پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز سادہ اور قدرتی غذا
پھل اور سبزیاں ککڑی، تربوز، کھجور

4. بحیرہ روم کی غذا (Mediterranean Diet)

جدید اصول نبوی اصول
زیتون کا تیل زیتون کا تیل
پھل اور سبزیاں کھجور، انجیر، ککڑی
دودھ کی مصنوعات دودھ، دہی، پنیر
مچھلی مچھلی کا استعمال

—

نبوی ڈائٹ پلان (The Prophetic Diet Plan)

مندرجہ ذیل نبوی ڈائٹ پلان رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مبنی ہے اور جدید سائنس کے مطابق ہے:

روزانہ کا نبوی ڈائٹ چارٹ

وقت غذا مقدار فوائد
سحری (دیر سے) 3-5 کھجوریں + جو کا دلیہ + دودھ معتدل دیرپا توانائی
افطار (جلدی) 3 کھجوریں + پانی/نبیز ہلکی فوری توانائی
نماز مغرب کے بعد سوپ + سلاد + گوشت/سبزی تہائی پیٹ متوازن غذائیت
رات (سونے سے پہلے) دودھ + شہد تھوڑا نیند بہتر

ہفتہ وار نبوی ڈائٹ چارٹ

دن سحری افطار رات کا کھانا
اتوار کھجور + جو کا دلیہ کھجور + پانی چکن + سبزیاں
پیر دودھ + کھجور کھجور + نبیز مچھلی + سلاد
منگل پنیر + زیتون کھجور + تربوز گوشت + سبزیاں
بدھ جو کا ستو + شہد کھجور + ککڑی دال + چاول
جمعرات دہی + کھجور کھجور + دودھ چکن + سلاد
جمعہ انڈے + زیتون کھجور + پانی مچھلی + سبزیاں
ہفتہ کھجور + دودھ کھجور + نبیز گوشت + سلاد

—

ڈائٹ مینجمنٹ کے نبوی اصول (خلاصہ)

نبوی اصول جدید سائنس کی اصطلاح فوائد
کم کھانا Calorie Restriction عمر میں اضافہ، بیماریوں سے بچاؤ
سادہ غذا Whole Foods قدرتی غذائیت، پراسیسڈ فوڈز سے بچاؤ
دیر سے سحری Late Breakfast انٹرمٹینٹ فاسٹنگ کے فوائد
جلدی افطار Early Dinner سرکیڈین ردم کے مطابق
تین سانس میں پانی Proper Hydration بہتر ہائیڈریشن
کھجور کا استعمال Superfood توانائی، غذائیت
زیتون کا تیل Healthy Fats دل کی صحت
شہد کا استعمال Natural Medicine شفا، مدافعتی نظام

—

ماہرین کی آراء

ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید

“الطب النبوی بین العلم والإیمان” میں لکھتے ہیں:

“نبوی ڈائٹ پلان جدید سائنس کی تمام دریافتوں سے پہلے کا ہے مگر آج کی جدید تحقیق اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، اور قدرتی غذائیں استعمال کرنا صحت کی کنجی ہیں۔”

ڈاکٹر محمد علی البار

“الطب النبوی” میں لکھتے ہیں:

“رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات صحت کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپ ﷺ کا کم کھانے کا اصول، تہائی کا قاعدہ، اور قدرتی غذاوں کا استعمال جدید غذائیت کے عین مطابق ہے۔”

ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم

“الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب” میں لکھتے ہیں:

“کھجور، شہد، زیتون، جو، دودھ جیسی غذائیں نہ صرف سنت ہیں بلکہ جدید سائنس بھی ان کے فوائد تسلیم کرتی ہے۔ ان غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔”

—

جدید تحقیق اور نبوی تعلیمات

1. امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن

ایک تحقیق کے مطابق کم کھانے سے عمر میں 20-30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم “کم کھانا” کی تصدیق کرتا ہے۔

2. ہارورڈ میڈیکل اسکول

انٹرمٹینٹ فاسٹنگ پر تحقیق کے مطابق یہ وزن کم کرنے، ذیابیطس کنٹرول کرنے اور دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ یہ نبوی تعلیم “سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی” کی تصدیق کرتا ہے۔

3. ڈاکٹر یوشینوری اوسومی (نوبل انعام یافتہ)

آٹوفیجی پر تحقیق کے مطابق روزہ جسم کے خراب خلیوں کو صاف کرتا ہے۔ یہ نبوی تعلیم “روزہ” کی طبی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔

—

خلاصہ باب

اس باب میں ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے تمام اصولوں پر محیط ہیں۔ کم کھانا، سادہ غذا کھانا، دیر سے سحری اور جلدی افطار کرنا، قدرتی غذائیں استعمال کرنا، اور پانی پینے کے آداب یہ سب جدید سائنس کی دریافت کردہ اصولوں سے پہلے نبوی تعلیمات کا حصہ تھے۔

نبوی اصولوں پر عمل کرنے سے:

· وزن کنٹرول میں رہتا ہے
· بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے
· توانائی برقرار رہتی ہے
· عمر میں اضافہ ہوتا ہے
· عبادت میں یکسوئی ہوتی ہے

—

حوالہ جات:

1. القرآن الکریم
2. صحیح البخاری
3. صحیح مسلم
4. سنن ابو داؤد
5. سنن الترمذی
6. سنن ابن ماجہ
7. مسند احمد
8. ابن قیم، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد
9. ابن قیم، الطب النبوی
10. ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید، الطب النبوی بین العلم والإیمان
11. ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم، الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب
12. ڈاکٹر محمد علی البار، الطب النبوی
13. ڈاکٹر محمد خیر الشعال، الصیام والصحۃ
14. ڈاکٹر مائیکل گریگر، How Not to Die
15. ڈاکٹر مارک ہائمین، Food: What the Heck Should I Eat
16. ڈاکٹر سچن پانڈا، The Circadian Code
17. ڈاکٹر پیٹر مولان، The Honey Revolution
18. ڈاکٹر باتمانگلیج، Your Body’s Many Cries for Water
19. ڈاکٹر اسٹیون گنڈری، The Plant Paradox
20. American Journal of Clinical Nutrition
21. Harvard Medical School

—

جاری ہے… باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں