باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان 74

باب چہارم: کامیابیِ آخرت اور نبوی دسترخوان

تحریر شئیر کریں

تعارف

دنیاوی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ”
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔”
(سورۃ الحشر: 18)

اس آیت میں “کل” سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس دن کے لیے تیاری کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ ہمارے زندگی کے ہر عمل کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، چاہے وہ کھانا پینا ہی کیوں نہ ہو۔

اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح نبوی دسترخوان پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے کھانے پینے کو بھی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

—

1. نیت کی اہمیت (The Importance of Intention)

اسلام میں ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى”
“اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1، صحیح مسلم، حدیث: 1907)

کھانے پینے کی نیت

اگر ہم کھانے پینے کی نیت بھی آخرت کی بنا لیں تو یہ عبادت بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ”
“اور تم میں سے کسی کے جماع میں بھی صدقہ ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 1006)

صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اسے بھی ثواب ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

“أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ”
“بتاؤ اگر وہ اسے حرام میں استعمال کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب اسے حلال میں استعمال کرے تو اسے ثواب ملتا ہے۔”

یہی اصول کھانے پینے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہم حلال کھانا اس نیت سے کھائیں کہ جسم کو تقویت ملے تاکہ عبادت کر سکیں، تو یہ بھی ثواب کا باعث بنتا ہے۔

سحری و افطار کی نیت

سحری کرتے وقت نیت کریں کہ ہم سنت پر عمل کر رہے ہیں اور روزے کی طاقت حاصل کر رہے ہیں۔ افطار کرتے وقت نیت کریں کہ ہم اللہ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں اور شکر ادا کر رہے ہیں۔

امام نووی رحمہ اللہ “شرح صحیح مسلم” میں لکھتے ہیں:

“نیت مومن کو مباح کاموں کو بھی عبادت میں بدل دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص کھاتے پیتے وقت نیت کرے کہ وہ جسم کو تقویت دے رہا ہے تاکہ اللہ کی اطاعت کر سکے، تو اس کا کھانا پینا بھی عبادت بن جاتا ہے۔”

—

2. حلال و طیب کا اصول (Halal & Tayyib)

اللہ تعالیٰ نے صرف حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے۔

قرآن میں حکم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا”
“اے لوگو! زمین میں حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔”
(سورۃ البقرہ: 168)

نیز فرمایا:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ”
“اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔”
(سورۃ البقرہ: 172)

حلال اور طیب میں فرق

“حلال” سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شرعاً جائز ہے۔
“طیب” سے مراد وہ چیزیں ہیں جو پاکیزہ، صاف اور صحت بخش ہوں۔

ڈاکٹر محمد علی البار “الطب النبوی” میں لکھتے ہیں:

“حلال اور طیب کا اصول اسلام کی انفرادیت ہے۔ حلال کا تعلق روحانی پاکیزگی سے ہے اور طیب کا تعلق جسمانی صحت سے۔ دونوں کا ملنا ہی کامل غذا ہے۔”

حرام کھانے کا نقصان

رسول اللہ ﷺ نے حرام کھانے والے کی دعا قبول نہ ہونے کا ذکر کیا:

“ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ؟”
“پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ حال، گرد آلود، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے: اے رب! اے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو؟”
(صحیح مسلم، حدیث: 1015)

—

3. بسم اللہ اور الحمدللہ (Remembering Allah)

رسول اللہ ﷺ نے کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور کھانے کے بعد الحمدللہ کہنے کی تلقین کی ہے۔

کھانے سے پہلے بسم اللہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ”
“جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے (بسم اللہ پڑھے)، اگر شروع میں نام لینا بھول جائے تو کہے: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ (اس کے شروع اور آخر میں اللہ کا نام ہے)”
(سنن الترمذی، حدیث: 1858)

کھانے کے بعد الحمدللہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا”
“اللہ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے، یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2734)

طبی حکمت

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ شکر گزاری (Gratitude) ذہنی صحت کے لیے مفید ہے۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان میں ڈپریشن اور تناؤ کی شرح کم ہوتی ہے۔

ڈاکٹر رابرٹ ایمنز، جو “گریٹیچیولوجی” (شکر گزاری کا علم) کے بانی ہیں، لکھتے ہیں:

“شکر گزاری نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ شکر گزار لوگ زیادہ پر سکون رہتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، اور وہ زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔”

—

4. اعتدال اور میانہ روی (Moderation)

اسلام ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ”
“اور کھاؤ پیو اور فضول خرچی نہ کرو، یقیناً اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ الاعراف: 31)

اسراف کی مذمت

رسول اللہ ﷺ نے اسراف سے منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

“كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلاَ مَخِيلَةٍ”
“کھاؤ پیو، پہنو اور صدقہ کرو، بغیر اسراف اور تکبر کے۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 3605)

اعتدال کا انعام

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ”
“اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر دیکھا جائے۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 2819)

یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا اللہ کو پسند ہے۔

—

5. فرشتوں کی دعا (Prayers of Angels)

رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ سحری اور افطار کے وقت فرشتے دعا کرتے ہیں۔

سحری کے وقت فرشتوں کی دعا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ”
“بے شک اللہ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔”
(مسند احمد، حدیث: 11086)

افطار کے وقت دعا کی قبولیت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے:

“ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ”
“پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اجر ثابت ہو گیا، ان شاء اللہ۔”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 2357)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالْمَظْلُومُ”
“تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی: روزہ دار جب تک افطار نہ کر لے، عادل حاکم، اور مظلوم۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 3598)

—

6. مساکین کو کھانا کھلانا (Feeding the Poor)

رسول اللہ ﷺ نے مساکین کو کھانا کھلانے کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔

قرآن میں حکم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا”
“اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔”
(سورۃ الدہر: 8)

حدیث میں فضیلت

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا”
“جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اسے روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔”
(سنن الترمذی، حدیث: 807)

افطار کرانے کی فضیلت

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ “لطائف المعارف” میں لکھتے ہیں:

“رمضان میں مساکین کو کھانا کھلانا افضل اعمال میں سے ہے۔ اس میں صدقہ کا ثواب بھی ہے اور روزہ دار کو افطار کرانے کا ثواب بھی۔”

—

7. جمعہ کے دن خاص غذا (Friday’s Special Food)

رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خاص اہتمام فرماتے تھے۔

حدیث میں ذکر

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ”
“یہ عید کا دن ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے لیے بنایا ہے۔ جو جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے، اگر خوشبو ہو تو لگائے، اور مسواک کرے۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 1098)

جمعہ کے دن گوشت کا استعمال

بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خاص طور پر گوشت پکوان کا اہتمام فرماتے تھے۔

—

8. عید کے دن خاص غذا (Eid’s Special Food)

عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی رسول اللہ ﷺ خاص غذا کا اہتمام فرماتے تھے۔

عید الفطر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

“كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ، وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا”
“نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نہ نکلتے جب تک کہ کچھ کھجوریں نہ کھا لیتے، اور وہ طاق تعداد میں کھاتے تھے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 953)

عید الاضحی

عید الاضحی کے دن قربانی کا گوشت کھانا سنت ہے۔

—

9. دعوت اور مہمان نوازی (Hospitality)

رسول اللہ ﷺ نے مہمان نوازی کی بہت تلقین کی ہے۔

حدیث میں فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ”
“جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 6018)

مہمان کے حقوق

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں مہمان نوازی کا حکم دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“إِذَا نَزَلَ بِقَوْمٍ ضَيْفٌ فَأَصْبَحَ بِهِمْ، فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا اقْتَضَوْا وَإِنْ شَاءُوا تَرَكُوا”
“جب کسی قوم میں مہمان آئے اور صبح کرے، تو اس کی میزبانی ان پر قرض ہے، چاہیں تو تقاضا کریں اور چاہیں تو چھوڑ دیں۔”
(مسند احمد، حدیث: 17387)

—

10. شکر گزاری اور آخرت کی کامیابی (Gratitude and Success in Afterlife)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شکر گزاری کو کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

قرآن میں شکر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”
(سورۃ ابراہیم: 7)

شکر اور جنت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
“اور اللہ شکر گزاروں کو جزا دے گا۔”
(آل عمران: 145)

کھانے کا شکر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا”
“اللہ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے، یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2734)

—

11. روزہ اور آخرت کی کامیابی (Fasting and Success in Afterlife)

روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

قرآن میں روزہ کا مقصد

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”
“اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔”
(سورۃ البقرہ: 183)

روزہ کا انعام

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلاَّ الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ”
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1904)

روزہ دار کے لیے دو خوشیاں

آپ ﷺ نے فرمایا:

“لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ”
“روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1904)

—

12. ریحان (تلسی) اور خوشبو (Fragrance and Paradise)

رسول اللہ ﷺ کو خوشبو بہت پسند تھی اور آپ ﷺ نے جنت کی خوشبو کا ذکر کیا۔

حدیث میں ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ”
“ہر شخص اپنے صدقے کے سایہ میں ہو گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔”
(مسند احمد، حدیث: 10672)

جنت کی خوشبو

آپ ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا”
“جنت میں ایک بازار ہے جہاں وہ ہر جمعہ آتے ہیں، پھر شمال کی ہوا چلتی ہے اور ان کے چہروں اور کپڑوں پر خوشبو ڈالتی ہے، تو وہ خوبصورتی میں اور بڑھ جاتے ہیں۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2833)

—

13. نبوی دسترخوان اور صبر (Patience and Prophetic Table)

صبر کامیابی آخرت کی کنجی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صبر کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔

قرآن میں صبر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ”
“بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔”
(سورۃ الزمر: 10)

روزہ اور صبر

رسول اللہ ﷺ نے رمضان کو “صبر کا مہینہ” قرار دیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے شعبان کے آخری دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

“قَدْ جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ”
“تمہارے پاس رمضان آ گیا ہے، بابرکت مہینہ، اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔”
(مسند احمد، حدیث: 13589)

—

14. نبوی دسترخوان اور قناعت (Contentment)

قناعت آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قناعت کو بہترین دولت قرار دیا۔

حدیث میں قناعت

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ”
“اس نے کامیابی پائی جس نے اسلام قبول کیا، اور اسے بقدر ضرورت روزی دی گئی، اور اللہ نے اسے دی ہوئی چیز پر قناعت عطا کی۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 1054)

قناعت اور کھانا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ”
“اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو، اوپر والوں کو نہ دیکھو، یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2963)

—

15. نبوی دسترخوان اور توکل (Trust in Allah)

توکل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسباب اختیار کیے جائیں۔

قرآن میں توکل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”
“اور جو اللہ پر توکل کرے گا، وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
(سورۃ الطلاق: 3)

کھانے میں توکل

رسول اللہ ﷺ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے اور کھانے کے بعد الحمدللہ کہتے تھے۔ یہ توکل کی عملی شکل ہے۔

—

16. نبوی دسترخوان اور آخرت کی تیاری (Preparation for Afterlife)

ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آخرت کی تیاری کرے۔ نبوی دسترخوان اس تیاری کا حصہ ہے۔

قرآن میں آخرت کی تیاری

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ”
“اور سامان لے لو، کیونکہ بہترین سامان تقویٰ ہے۔”
(سورۃ البقرہ: 197)

نبوی دسترخوان سے تقویٰ

نبوی دسترخوان پر عمل کرنے سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے کیونکہ:

· حلال و طیب کا خیال رہتا ہے
· اللہ کا ذکر ہوتا ہے
· اعتدال برتا جاتا ہے
· شکر گزاری ہوتی ہے

—

17. نبوی دسترخوان اور جنت کی غذا (Food of Paradise)

قرآن مجید میں جنت کی غذاؤں کا ذکر آیا ہے۔

قرآن میں جنت کی غذا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ * وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ”
“اور وہ پھل جو وہ پسند کریں گے، اور پرندوں کا گوشت جسے وہ چاہیں گے۔”
(سورۃ الواقعہ: 20-21)

نیز فرمایا:

“فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ”
“ان دونوں باغوں میں پھل ہیں، اور کھجور اور انار ہیں۔”
(سورۃ الرحمن: 68)

دنیا کی غذائیں جنت کی یاد دہانی

کھجور، انار، انگور، انجیر جیسی غذائیں جنت کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ دنیا میں اللہ کی نعمتیں ہیں اور جنت میں ان سے بہتر نعمتیں ملیں گی۔

—

18. نبوی دسترخوان اور شفاعت (Intercession)

قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت ہو گی۔

روزہ دار کی شفاعت

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”
“روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے۔”
(مسند احمد، حدیث: 6626)

روزہ کی شفاعت کا طریقہ

آپ ﷺ نے فرمایا:

“يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ”
“روزہ کہے گا: اے رب! میں نے اسے دن میں کھانے اور شہوتوں سے روکا، تو اس میں میری شفاعت قبول فرما۔”
(مسند احمد، حدیث: 6626)

—

19. نبوی دسترخوان اور میزان (Scale of Deeds)

قیامت کے دن اعمال تولے جائیں گے۔

قرآن میں میزان

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ”
“اور اس دن وزن برحق ہو گا، پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔”
(سورۃ الاعراف: 8)

نبوی دسترخوان کا وزن

نبوی دسترخوان پر عمل کرنے سے میزان میں کیا وزن ہو گا:

· ہر لقمے پر بسم اللہ کا ثواب
· ہر نوالے پر حلال کی تلاش کا اجر
· ہر کھانے پر شکر کا ثواب
· ہر سنت پر عمل کا اجر

—

20. نبوی دسترخوان اور صراط (Bridge of Sirat)

قیامت کے دن صراط (پل) پر سے گزرنا ہو گا۔

روزہ کا نور

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الصِّيَامُ جُنَّةٌ”
“روزہ ڈھال ہے۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 1894)

صراط پر روشنی

یہ ڈھال صراط پر بھی کام آئے گی۔ روزہ دار کو صراط پر روشنی ملے گی۔

—

نبوی دسترخوان اور آخرت کی کامیابی (خلاصہ)

نبوی عمل دنیوی فائدہ اخروی فائدہ
حلال کھانا جسمانی صحت جنت کا داخلہ
بسم اللہ برکت رضائے الٰہی
الحمدللہ شکر گزاری نعمتوں میں اضافہ
کم کھانا جسمانی صحت عبادت میں آسانی
سحری میں تاخیر توانائی فرشتوں کی دعا
افطار میں جلدی صحت سنت کی پیروی
مساکین کو کھانا سماجی بھلائی عظیم ثواب
روزہ صحت گناہوں کی معافی

—

اقتباسات: کامیابی آخرت پر علمائے کرام کے فرمودات

امام ابن قیم رحمہ اللہ

“زاد المعاد” میں لکھتے ہیں:

“جو شخص دنیا میں نبوی دسترخوان پر عمل کرے گا، اسے آخرت میں نبوی سفره (دسترخوان) نصیب ہو گا۔ جنت کی غذائیں اس کا انتظار کر رہی ہیں۔”

امام غزالی رحمہ اللہ

“احیاء علوم الدین” میں لکھتے ہیں:

“کھانا عبادت بن سکتا ہے اگر نیت درست ہو۔ جو شخص کھائے تاکہ عبادت کی طاقت حاصل کرے، اس کا کھانا عبادت ہے اور آخرت میں اسے ثواب ملے گا۔”

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ

“لطائف المعارف” میں لکھتے ہیں:

“رمضان میں سحری و افطار کا اہتمام سنت ہے۔ جو شخص سنت کی پیروی کرے گا، قیامت کے دن وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو گا۔”

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

“بہشتی زیور” میں لکھتے ہیں:

“کھانے کے آداب سیکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ سنت کے مطابق کھانے سے دنیا میں برکت اور آخرت میں ثواب ملتا ہے۔”

ڈاکٹر عبدالحی عارفی رحمہ اللہ

“سنت کی آئینہ گری” میں لکھتے ہیں:

“سنت نبوی پر عمل کرنے والے کو دنیا میں سکون ملتا ہے اور آخرت میں نجات۔ نبوی دسترخوان اس کی روشن مثال ہے۔”

—

ماہرین کی آراء (علمائے طب و روحانیت)

ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید

“الطب النبوی بین العلم والإیمان” میں لکھتے ہیں:

“نبوی دسترخوان پر عمل کرنے والا نہ صرف صحت مند رہتا ہے بلکہ روحانی طور پر بھی ترقی کرتا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔”

ڈاکٹر محمد علی البار

“الطب النبوی” میں لکھتے ہیں:

“اسلام نے کھانے پینے کو عبادت بنا دیا۔ حلال کی تلاش، بسم اللہ پڑھنا، الحمدللہ کہنا، یہ سب عبادات ہیں۔ جو شخص ان پر عمل کرے گا، اسے آخرت میں بے حساب ثواب ملے گا۔”

ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم

“الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب” میں لکھتے ہیں:

“نبوی غذائیں نہ صرف جسم کو صحت دیتی ہیں بلکہ روح کو پاکیزگی بھی۔ کھجور، شہد، زیتون جیسی غذائیں جنت کی غذاوں کی یاد دلاتی ہیں اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ ہیں۔”

—

اختتامیہ: نبوی دسترخوان – دنیا و آخرت کی کامیابی کا زینہ

الحمدللہ، ہم نے اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی سحری و افطاری کس قدر سادہ، متوازن اور حکمت سے بھرپور تھی۔

کتاب کا خلاصہ

باب اول: ہم نے سحری کی نبوی غذا کا جائزہ لیا۔ کھجور، جو کا دلیہ، دودھ، مکھن، پنیر، اور نبیز جیسی غذائیں دن بھر کی توانائی کا ذریعہ ہیں۔ جدید سائنس ان کے فوائد کی تصدیق کرتی ہے۔

باب دوم: ہم نے افطاری کی نبوی غذا کا جائزہ لیا۔ کھجور، پانی، نبیز، ککڑی، تربوز، دودھ، شہد جیسی غذائیں جسم کی بحالی کا ذریعہ ہیں۔ افطار میں جلدی کرنا، ہلکی غذا کھانا، اور نماز کا وقفہ دینا سنت ہے۔

باب سوم: ہم نے نبوی اصولوں کا جدید ڈائٹ مینجمنٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا۔ کم کھانا، سادہ غذا، دیر سے سحری، جلدی افطار، اور تہائی کا قاعدہ جدید سائنس کے عین مطابق ہے۔

باب چہارم: ہم نے نبوی دسترخوان کو آخرت کی کامیابی سے جوڑا۔ نیت، حلال و طیب، بسم اللہ، الحمدللہ، اعتدال، فرشتوں کی دعا، مساکین کو کھانا، یہ سب آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

اہم نکات

1. نبوی دسترخوان مکمل ضابطہ حیات ہے: یہ نہ صرف جسمانی صحت کا نسخہ ہے بلکہ روحانی ترقی کا ذریعہ بھی۔
2. جدید سائنت کی تصدیق: چودہ سو سال بعد جدید سائنت نبوی تعلیمات کی تصدیق کر رہی ہے۔
3. دنیا و آخرت کی کامیابی: نبوی دسترخوان پر عمل کرنے سے دنیا میں صحت اور آخرت میں جنت ملتی ہے۔

تین سنہری اصول

رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان کے تین سنہری اصول:

اول: کم کھاؤ – پیٹ نہ بھرو، تہائی خالی چھوڑو
دوم: سادہ کھاؤ – قدرتی غذائیں، پراسیسڈ سے پرہیز
سوم: اللہ کو یاد کرو – بسم اللہ، الحمدللہ، حلال کا خیال

دعوت عمل

پیارے قارئین!

یہ کتاب محض معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ عمل کی دعوت ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ:

1. سنت سیکھیں: رسول اللہ ﷺ کی سحری و افطاری کے بارے میں تفصیل سے جانیں۔
2. سنت پر عمل کریں: اپنی سحری و افطاری کو نبوی دسترخوان کے مطابق بنائیں۔
3. سنت کو پھیلائیں: دوسروں کو بھی نبوی دسترخوان کی برکات سے آگاہ کریں۔

آخری کلام

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ”
“جس نے میری سنت کو تھام لیا جب میری امت میں فساد ہو گا، تو اسے شہید کا ثواب ملے گا۔”
(الجامع الصغیر، حدیث: 7802)

آج کا دور فساد کا دور ہے۔ لوگ مصنوعی غذاؤں، پراسیسڈ فوڈز، اور غیر صحت مند عادات میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں نبوی دسترخوان کو تھامنا سنت ہے اور اس پر عمل کرنا شہید کا ثواب دلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبوی دسترخوان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

آخری دعا:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي”
“اے اللہ! میں تجھ سے بھلائیاں کرنے، برائیوں سے بچنے، مساکین سے محبت کرنے، اور مجھے بخش دینے اور مجھ پر رحم فرمانے کا سوال کرتا ہوں۔”

وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین

—

کتابیات (Bibliography)

قرآن مجید

1. القرآن الکریم

کتب حدیث

1. صحیح البخاری
2. صحیح مسلم
3. سنن ابو داؤد
4. سنن الترمذی
5. سنن النسائی
6. سنن ابن ماجہ
7. مسند احمد بن حنبل
8. موطأ امام مالک
9. سنن الدارمی

کتب طب نبوی

1. امام ابن قیم – زاد المعاد فی ہدی خیر العباد
2. امام ابن قیم – الطب النبوی
3. امام جلال الدین سیوطی – الرحمة فی الطب والحکمة
4. امام ذہبی – الطب النبوی

جدید کتب (عربی)

1. ڈاکٹر عبدالباسط محمد سید – الطب النبوی بین العلم والإیمان
2. ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم – الغذاء النبوی والعلاج بالاعشاب
3. ڈاکٹر محمد علی البار – الطب النبوی
4. ڈاکٹر محمد خیر الشعال – الصیام والصحۃ
5. ڈاکٹر خالد الجابر – الغذاء المتوازن فی ضوء القرآن والسنة
6. ڈاکٹر عبدالرزاق کیلانی – معجزات الشفاء فی السنة النبویة

جدید کتب (اردو)

1. مولانا اشرف علی تھانوی – بہشتی زیور
2. ڈاکٹر حافظ محمد یوسف – طب نبوی اور جدید سائنس
3. پروفیسر محمد اسلم – اسلامی تغذیہ کے اصول
4. حکیم محمد سعید – طب نبوی کا انسائیکلوپیڈیا
5. ڈاکٹر محمد حسین – روزہ اور صحت

انگریزی کتب

1. Dr. Michael Greger – How Not to Die
2. Dr. Mark Hyman – Food: What the Heck Should I Eat
3. Dr. Satchin Panda – The Circadian Code
4. Dr. Peter Molan – The Honey Revolution
5. Dr. Steven Gundry – The Plant Paradox
6. Dr. Batmanghelidj – Your Body’s Many Cries for Water
7. Harvard Medical School – Healthy Eating Guide
8. American Journal of Clinical Nutrition – Research Papers

تحقیقی جرائد

1. Journal of Islamic Medicine
2. International Journal of Food Sciences and Nutrition
3. American Journal of Clinical Nutrition
4. British Medical Journal (BMJ)
5. The Lancet

—

اختتام

نبوی دسترخوان: سحر و افطار کی برکتیں اور جدید ڈائٹ مینجمنٹ

یہ کتاب دراصل رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک چھوٹا سا باب ہے۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ ہم نے صرف کھانے پینے کے ایک پہلو کو لیا اور دیکھا کہ کس طرح آپ ﷺ کی تعلیمات دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے لیے مفید ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسے قبول فرمائے اور ہمیں نبوی دسترخوان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین

آمین

—

ختم شد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں