قسط نمر ا
تحریر : لبنٰی جمشید
تجسس کسی بھی چیز کو کھوجنے کا نام ہے یہ تجسس ہی ہے جو ہمیں کسی چیز کے قریب لے کر جاتا ہے اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کسی کو جاننے یا سیکھنے کی خواہش پر ابھارتا ہے اسی تجسس کی وجہ سے بڑی بڑی کامیابیاں قدموں کی دھول بن جاتیں ہیں۔
تجسس کی بنا پر ہی ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا۔ سیب کو درخت پر لگے دیکھنا عام انسان کے لیے صرف ایک خوش کن احساس ہے یا پھر بھوک کی اشتہا بڑھاتا ہے لیکن جب نیوٹن اسی سیب کو درخت سے گرتے دیکھتا هے تو کتنی بڑی دریافت سامنے آئی هے جسے کشش ثقل کا نام دیا گیا ۔دنیا کی ہر ایجاد کے پیچھے ایک متجسس ذہن ہی کارفرما ہے جو نت نئی چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کل تعلیمی ادارے اس سکل کو ڈویلپ کرنے میں ناکام کیوں ہو رہے ہیں ؟
کیا بچوں کے اندر سے کھوجنے سیکھنے اور تعمیر کرنے کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے؟
یا پھر اساتذہ کے اندر وہ جذبات نہیں رہے جو میر حسن جیسے استاد کے اندر تھے جس نے سبق یاد کرتے اقبال کے اندر ایک مفکر کو دیکھ لیا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانک کر اس متجسس انسان کوڈسکور کریں جوجواباََ ہمیں ایک لیجینڈ آف دا ہسٹری مہیا کرتا ہے۔
کھوج /تجسس کی اقسام
موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کے نزدیک تجسس کی بنیاد پر کتابوں کو تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- کورس کی کتابیں جو اگلی جماعت میں کامیابی سے داخل ہونے کی ضمانت ہوتی ہیں۔
- ثانوی کتابیں جو تفریحی , سیاسی سماجی و روحانی مواد پر ہمیں زندگی کو بہتر طور سیکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
- الہامی کتابیں اس کی مثال قرآن مجید ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر چھپے پرتجسس الفاظ کو جاننے پر اکساتا ہے۔
ایک اچھا مسلمان قرآن کے معنی کھوجتا ہے اور کامیابی کے راستے کو پا لیتا ہے یہاں پر قرآن کی ایک آیت کی مثال دینا چاہوں گی۔
سورة فلق میں ایک لفظ غاسق استعمال ہوا ہے جس کے معانی رات کے ہیں۔ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﯾﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ( ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﻮﮞ ) ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ‘ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ”
” ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮧ ” ﻏﺎﺳﻖ ” ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻏﺎﺳﻖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ‘ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﻏﺎﺳﻖ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﻄﻠﺐ ﭼﺎﻧﺪ بھی ہے جو رات کو آسمان پر چمکتا ہے سائنسی رو سے دیکھا جاۓ تو ﭼﺎﻧﺪ اس ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ جو ہمارے دماغ ﻓﻠﯿﻮﮈﺯ fluids کی شکل میں ہوتا ہے۔
” ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ luna ﻟﯿﻮﻧﺎ کہا جاتا ہے ﺍﻭﺭ ذہنی مرض میں مبتلا شخص ﮐﻮ ﻟﯿﻮﻧﯿﭩﮏ lunatic ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ _ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ آپس میںﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠّﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ جوﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. اس لیے اس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اس مثال سے تجسس کا بہت بڑا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ دنیا کی ہر چیز اپنے اندر گہرا تجسس لیے ہوۓ ہیں ۔ پہاڑ , بادل , بدلتے موسم , حسین نظارے یہ سب اپنے اندر کھوجنے کی ایک صلاحیت لیے ہیں۔ انسان جتنا کسی چیز کی جستجو کرتا ہے اس کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے اتنا ہی اس کے کام میں نکھار آتا ہے اور یہی نکھار کامیابی کی ضمانت ہے۔
علامہ اقبال کا یہ شعر بھی جستجو اور کامیابی کا بہت خوبصورتی سے احاطہ کرتا ہمیں تجسس پر ابھارتا ہے۔
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتےہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں