356

تقدیر کے کھیل

تحریر شئیر کریں

تقدیر کے کھیل نرالے

کچھ واقعات اپنے اندر اندر اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ دماغ سے کبھی محو نہیں ہوتے ۔ایسا ہی ایک وآقعہ میرے سامنے رونما ہوآ۔
گوشی چار بھائیوں کی۔اکلوتی بہن تھی سب نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔بھائیوں کواپنی بہن سے بہت پیار تھا اتنا کہ اسے سکول بھی بھیجنے پہ تیار نا تھے کیونکه چار گھنٹوں کی جدائی انھيں گوارا نا تھی ۔وقت گزرتا رہا۔۔۔گوشی اب بچپن کی حدود سے نکل کر آنکھوں میں خواب سجانے کی عمر تک آن پہنچی تھی ۔مگر محبت آگے آن کھڑی ہوئی ۔والدین جو۔چار گھنٹے سکول کے جدائی برداشت نا کر سک پا رہے تھے وہ شادی کیسے کرنے دیتے ۔۔۔


یہاں سے کہانی نیا موڑ لیتی ہے ۔گوشی بجھی بجھی سی رہنے لگی تھی۔اس کی سب سکھی سہیلیاں وداع ہو کر پیا گھر جا چکیں تھیں ۔حسرتیں اب روگ بننے لگیں تھیں۔۔۔اسے چپ لگ گئ۔۔۔کچھ عرصہ دھند چھائی رہی پھر تقدیر نے۔چال چلی اور تقدیر ان لوگوں سے انتقام ضرور لیتی ہے جو قدرت کے بناے ہوے راستوں سے انحراف کرتےہیں ۔یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ۔

گوشی کی طبیعت خراب رہنے لگی تواس کے ٹیسٹ وغیرہ کرواے گے تو پتہ چلا اسے بریسٹ کینسر ہے۔تین سال وہ اس موذی مرض سے لڑتی رہی یہاں تک کہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے سو گئ۔اس کی ماں جوبیٹی سے ایک پل دور۔نا رہ پاتی تھی۔نیم پاگل سی ہوگی۔

اس سچی کہانی سے بہت سے سبق نکلتے ہیں۔
الللہ کے بناے ہوے طریقوں سے انحراف کا نتیجہ نری تباہی ہے۔سب سے بڑا سبق یہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں