تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو ایک حقیقت بار بار ہمارے سامنے آتی ہے۔ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ اقتدار، دولت اور عسکری طاقت انسان کو کچھ عرصے کے لیے یہ گمان ضرور دے سکتی ہے کہ وہ سب کچھ اپنے اختیار میں رکھتا ہے، مگر وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے۔
فرعون کے پاس اقتدار تھا، لشکر تھا اور اپنی قوم پر مکمل غلبہ تھا، لیکن اس کا انجام بھی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ نمرود اپنے غرور میں مبتلا تھا، مگر اس کا نام بھی آج طاقت کی پائیداری کی نہیں بلکہ اس کے انجام کی مثال بن کر لیا جاتا ہے۔
قرآن ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے:
“اور اللہ ظالم لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔”
(سورۃ ابراہیم: 42)
یہ آیت صرف ماضی کے ظالموں کے لیے نہیں۔ یہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ظلم کی مہلت کو ظلم کی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔
باب المندب کی اہمیت
بحرِ احمر اور باب المندب کا نام شاید عام آدمی کی روزمرہ گفتگو میں زیادہ نہ آتا ہو، لیکن عالمی تجارت کے نقشے پر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ اہم بحری راستہ ہے جس سے دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
اسی لیے جب اس خطے میں جنگ اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن یا عرب خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی منڈیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں باب المندب کے اطراف یمنی حکومتی فورسز کی پیش قدمی نے ایک مرتبہ پھر اس علاقے کو عالمی خبروں کا مرکز بنا دیا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی اور حوثی فورسز کو پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ پیش رفت یقیناً اہم ہے، لیکن اسے مکمل امن کی منزل قرار دینا ابھی درست نہیں ہوگا۔ خطے میں کشیدگی کے دوسرے پہلو اب بھی موجود ہیں اور سکیورٹی کے خطرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ایک جنگی محاذ پر پیش قدمی کو دیکھ کر خوشی یا امید کا اظہار اپنی جگہ، مگر حقیقت کو اس سے آگے بڑھ کر بیان کرنا صحافت اور ذمہ دار تحریر کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
ظلم کا انجام
دنیا کی تاریخ میں کتنے ہی ایسے طاقتور لوگ گزرے ہیں جنہوں نے سمجھا کہ ان کی طاقت ہمیشہ قائم رہے گی۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔
طاقت اگر انصاف کے تابع ہو تو حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن جب طاقت ظلم اور تکبر کا سہارا بن جائے تو وہ دوسروں کے ساتھ ساتھ خود طاقتور کے لیے بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ آل عمران: 57)
ایک مسلمان کے لیے کسی بھی جنگ کو دیکھنے کا زاویہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ظلم کہاں ہو رہا ہے؟ بے گناہ انسانوں کی جانیں کہاں ضائع ہو رہی ہیں؟ اور انصاف کا تقاضا کیا ہے؟
دوہرے معیار
موجودہ عالمی سیاست کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے اصول ہر تنازع میں ایک جیسے دکھائی نہیں دیتے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر انسانی جان واقعی قیمتی ہے تو پھر اس کی حرمت ہر انسان کے لیے یکساں کیوں نہ ہو؟
لیکن یہاں اسلام ہمیں ایک اور بہت بڑا سبق دیتا ہے۔ ہم کسی سے اختلاف یا دشمنی کی وجہ سے خود انصاف کا دامن نہیں چھوڑ سکتے۔
قرآن کا حکم ہے:
“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
(سورۃ المائدہ: 8)
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی فکر عام سیاسی جذبات سے الگ نظر آتی ہے۔ ہمارا انصاف صرف اپنے لوگوں کے لیے نہیں؛ انصاف، انصاف ہے۔
فتح کا مطلب
باب المندب کے گرد ہونے والی حالیہ پیش رفت نے یہ امید ضرور پیدا کی ہے کہ اس اہم راستے کی سکیورٹی بہتر ہو سکتی ہے اور خطے میں استحکام کی طرف کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن ابھی اسے حتمی امن کہنا مناسب نہیں۔
کیونکہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی۔ جنگ کے بعد امن قائم کرنا، لوگوں کو محفوظ زندگی دینا، تجارت کو بحال کرنا اور خوف کو ختم کرنا بھی ایک بہت بڑا مرحلہ ہوتا ہے۔
یہاں ہمیں اپنے یقین کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
ہم اسباب اختیار کرتے ہیں۔ اپنی حفاظت کرتے ہیں۔ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کامیابی کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 126)
اس لیے ایک مسلمان کے لیے اصل سبق صرف یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اصل سبق یہ ہے کہ مشکل وقت میں ہمارا کردار کیا رہا؟ ہم نے ظلم کے مقابلے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟ طاقت ملی تو کیا ہم نے انصاف کیا؟ اور کمزوری آئی تو کیا ہم اللہ سے مایوس ہوگئے؟
امت کے لیے سبق
شاید آج ہمیں سب سے زیادہ اسی سوچ کی ضرورت ہے۔
صرف جذبات کسی قوم کو مضبوط نہیں بناتے۔ مضبوط قومیں علم، کردار، اتحاد، حکمت اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں۔
امتِ مسلمہ کو بھی اپنی طاقت کے ساتھ اپنے اخلاق اور اپنے اصولوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اسلام صرف میدانِ جنگ میں فتح کا نام نہیں۔ اسلام عدل بھی ہے، رحم بھی ہے، امانت بھی ہے، حیا بھی ہے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس بھی۔
دنیاوی طاقتیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر مسلمان کا دل اسباب سے نہیں، اسباب کے رب سے وابستہ رہتا ہے۔
اور شاید یہی اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا سبق ہے۔
وقت بدلتا رہتا ہے۔ طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں۔ آج جو بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی اسی مقام پر ہو۔
مگر حق، اگر واقعی حق ہو، تو اسے اپنے وجود کے لیے شور مچانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وقت خود گواہی دیتا ہے۔
اور تاریخ کے صفحات آخرکار یہ بتا دیتے ہیں کہ طاقت کے زور پر قائم کیا گیا غرور کتنا عارضی تھا، جبکہ عدل، صبر اور حق پر قائم رہنے کی قدر کتنی دیرپا۔