279

دوستی ایک انمول جذبہ

تحریر شئیر کریں

دوستی ایک انمول جذبہ

تحریر ۔آمنہ راجپوت

دوستی:
لفظ ”دوستی،، جس سے ہر کوئی واقف ہے۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جسےبڑھانے کی جتنی کوشش کی جائے اتنا ہی بڑھتا ہےاور مضبوط تناور درخت بن جاتا ہے۔یہ سچ کی پہلی زینہ ہے جس کو عبور کرنا ضروری ہے۔ احساس کی دھوپ اور اعتبار کی ہوا اور محبت کا پانی دیں تو تب یہ پودا ایک بڑا اور مضبوط درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور یہی رشتہ دوستی کا سب سے بڑا اچھا اور مضبوط رشتہ ہوتا ہے،

ایک اچھا اور مہربان دوست تب آپ کے ساتھ ہوتا ہے، جب آپ کو اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، زندگی کے اس کٹھن سفر میں جہاں ہمیں کوئی مشکل پریشانی آتی ہے تو ہماری خون کے رشتے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ایسے میں ایک اچھا دوست کا ساتھ کھڑے ہونا حوصلے اور ہمت کا باعث بنتا ہے، وہ ہمارے لیے ایک نعمت ہوتا ہے جو ہزاروں کی مخالفت کے باوجود ساتھ کھڑا ہوتا ہے

ایسے دوست قسمت سے ملتے ہیں۔ زندگی میں کسی ایسے شخص کا ہونا ضروری ہے جس کو کچھ بھی بتانے کے لئے لفظوں کی ضرورت نہ پڑے۔ دوستوں کی زندگی میں اس نمک کی طرح رہو جو کھانے میں تو دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر نہ ہو تو اس کی کمی ضرور ہوتی ہے۔
آج کل کے جدید دور میں سے لفظ دوستی بد نام ہو کر رہ گیا ہے، لوگ آپ کے احساسات اور جذبات سے کھیل جاتےہیں،

دوستی کے نام پر آپ کو کتنے دھوکے دیے جاتے ہیں، جس کو ہم اپنا دوست کہہ کے متعارف کرا رہے ہوتے ہیں وہی اصل میں ہماری جڑیں کاٹ رہے ہوتے ہیں، آج کل کے زمانے میں لوگ دوستی اسٹیٹس دیکھ کر کرتے ہیں، صرف اس بات کی جستجو ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ پیسے والے کو اپنے ساتھ شامل کر لیں، دوست ہمیشہ ایک مرہم کا کام دیتے ہیں اچھے مشورے دیتے ہیں، دوست کو اس کی حیثیت اور پیسہ دیکھ کر بنانے والے اپنے لیے فائدہ اور مطلب رکھتے ہیں ایسی دوستیاں ہی معاشرے میں خرابیوں کا سبب بنتی ہیں۔


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، ہزار دوستوں میں سے اس دوست کو عزیز رکھو جو تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری برائی برداشت نہ کر سکے، زندگی میں ایک ایسا دوست لازمی شامل رکھو جو آئینہ اور سایہ بن کے ساتھ رہے کیوں کہ آئنہ جھوٹ نہیں بولتا اور سایا ساتھ نہیں چھوڑتا۔دوستی ایک انمول جذبہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں