
ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی کام صرف اس لیے مؤخر کرتے رہتے ہیں کہ ابھی وقت مناسب نہیں، ابھی تیاری مکمل نہیں، ابھی حالات سازگار نہیں۔
ہم کہتے ہیں:
’’بس تھوڑا سا اور وقت چاہیے۔‘‘
’’ابھی نہیں، بعد میں شروع کریں گے۔‘‘
’’پہلے سب کچھ ٹھیک ہو جائے، پھر فیصلہ کریں گے۔‘‘
اور کبھی کبھی یہی ’’بعد میں‘‘ ہماری زندگی کے کئی قیمتی سال لے جاتا ہے۔
خواب جو صرف خواب رہ گیا
ایک نوجوان میرے پاس آیا تھا۔ اسے یورپ کے ایک ڈیزائن اسکول میں اسکالرشپ ملی تھی۔ اس کا خواب بہت واضح تھا۔ وہ پاکستان واپس آ کر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ماحول دوست گھر بنانا چاہتا تھا۔
وہ ذہین تھا، محنتی تھا اور اپنے خواب کے لیے سنجیدہ بھی۔
وہ مسلسل خاکے بناتا، منصوبے تیار کرتا، ممکنہ شراکت داروں سے ملاقاتیں کرتا اور اپنی ڈائری میں نئے نئے خیالات لکھتا۔
مگر ایک مسئلہ تھا۔
وہ شروع نہیں کر رہا تھا۔
پہلے اس نے کہا:
’’مجھے ایک بہتر جگہ مل جائے تو کام شروع کروں گا۔‘‘
ایک سال گزر گیا۔
پھر اس نے کہا:
’’ابھی ٹیم مکمل نہیں ہے۔ ایک اچھی ٹیم بن جائے تو آغاز کروں گا۔‘‘
ایک اور سال گزر گیا۔
پھر مارکیٹ کا مسئلہ سامنے آ گیا۔
’’لوگ ابھی اس طرح کے منصوبے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے چھ سال گزر گئے۔
اس کے کئی ساتھی اپنے اسٹوڈیوز بنا چکے تھے، منصوبے شروع کر چکے تھے، غلطیاں کر چکے تھے اور انہی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھ چکے تھے۔
وہ نوجوان؟
وہ اب بھی ایک ایسے منصوبے کی پریزنٹیشن بہتر کر رہا تھا جو ابھی تک کاغذ سے باہر نہیں نکلا تھا۔
اس نے ’’جلد‘‘ کو اپنی پناہ بنا لیا تھا۔
اور پھر وہی ’’جلد‘‘ اس کا سب سے بڑا جال بن گئی۔
### ٹال مٹول ہمیشہ سستی نہیں
ہم سمجھتے ہیں کہ کام کو ٹالتے رہنا سستی کی علامت ہے۔
لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔
کبھی ٹال مٹول کمال پسندی بن کر آتی ہے۔
کبھی یہ احتیاط کے روپ میں سامنے آتی ہے۔
کبھی ہم اسے بہتر منصوبہ بندی کا نام دے دیتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں:
’’میں بس تیاری کر رہا ہوں۔‘‘
’’میں چاہتا ہوں کہ کام بہترین ہو۔‘‘
’’مجھے پہلے مزید معلومات حاصل کرنی ہیں۔‘‘
’’ابھی صحیح وقت نہیں آیا۔‘‘
یہ سب باتیں سننے میں بالکل درست لگتی ہیں۔
مگر کبھی کبھی ان کے پیچھے ایک بہت سادہ حقیقت چھپی ہوتی ہے:
ہم ناکام ہونے سے ڈر رہے ہوتے ہیں۔
ہم غلط فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔
ہم دوسروں کے سوالوں سے بچنا چاہتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ جب بھی قدم اٹھائیں تو ہر چیز مکمل ہو۔
لیکن زندگی میں شاید ہی کبھی ہر چیز مکمل ہوتی ہے۔
Kodak کا سبق
کاروباری دنیا میں Kodak کی مثال بھی اس حوالے سے اہم ہے۔
1975 میں Kodak کے انجینئر Steven Sasson نے ابتدائی ڈیجیٹل کیمرہ تیار کیا۔ اس نئی ٹیکنالوجی میں مستقبل کی ایک جھلک موجود تھی، لیکن ڈیجیٹل فوٹوگرافی کے پھیلاؤ نے بالآخر روایتی فلم کے کاروبار کو شدید متاثر کیا۔
Kodak نے 2012 میں دیوالیہ پن کے لیے درخواست دائر کی۔
یہ مثال ہمیں ایک اہم بات سمجھاتی ہے:
مستقبل کو دیکھ لینا کافی نہیں ہوتا۔
اس کے لیے فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے۔
صرف یہ جان لینا کہ کوئی تبدیلی آنے والی ہے، کامیابی کی ضمانت نہیں۔
اصل فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اس تبدیلی کے مطابق قدم بھی اٹھاتا ہے۔
### آپ کیا ٹال رہے ہیں؟
اب ذرا اپنے آپ سے ایک سوال کریں۔
کون سا فیصلہ ہے جسے آپ کئی مہینوں سے ’’بعد میں‘‘ پر ڈال رہے ہیں؟
کیا کوئی کاروباری منصوبہ ہے؟
کیا کوئی نیا کام شروع کرنا ہے؟
کیا کوئی کتاب لکھنی ہے؟
کیا کوئی ضروری گفتگو کرنی ہے؟
کیا کوئی ایسا فیصلہ ہے جس سے آپ مسلسل بچ رہے ہیں؟
اپنے آپ سے ایمانداری سے پوچھیں:
**کیا واقعی وقت مناسب نہیں؟**
یا حقیقت یہ ہے کہ:
مجھے غلط ہونے کا خوف ہے؟
یہ سوال آسان نہیں، لیکن بہت ضروری ہے۔
کیونکہ کبھی کبھی ہم حالات کو الزام دے رہے ہوتے ہیں، جبکہ اصل رکاوٹ ہمارے اندر موجود خوف ہوتا ہے۔
کامل وقت کا انتظار
کمال پسندی بظاہر ایک اچھی عادت ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کام بہترین ہو۔
ہم غلطی نہ کریں۔
ہم سب کچھ سوچ سمجھ کر کریں۔
لیکن اگر بہترین کرنے کی خواہش ہمیں شروع ہی نہ کرنے دے تو یہی کمال پسندی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
پہلی کوشش کامل نہیں ہوگی۔
پہلا مضمون بھی کامل نہیں ہوگا۔
پہلا کاروباری منصوبہ بھی شاید مکمل کامیاب نہ ہو۔
پہلی ویڈیو میں بھی خامیاں ہوں گی۔
لیکن پہلی کوشش کے بغیر دوسری کوشش کیسے آئے گی؟
غلطی کے بغیر سیکھنے کا موقع کہاں سے ملے گا؟
اور آغاز کے بغیر منزل تک پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ابھی قدم اٹھائیں
آپ کو مکمل یقین کے بعد قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔
بعض اوقات قدم اٹھانے کے بعد یقین پیدا ہوتا ہے۔
آپ کو مکمل تیاری کے بعد آغاز کرنے کی ضرورت نہیں۔
بعض اوقات آغاز ہی وہ استاد ہوتا ہے جو آپ کو باقی تیاری سکھاتا ہے۔
اس لیے اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کام ہے جسے آپ مسلسل ’’جلد‘‘ کے حوالے کر رہے ہیں تو آج اس کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔
ضروری نہیں کہ آپ سب کچھ ایک دن میں کر ڈالیں۔
صرف پہلا قدم اٹھائیں۔
ایک فون کال۔
ایک صفحہ۔
ایک درخواست۔
ایک ملاقات۔
ایک چھوٹا سا تجربہ۔
ایک فیصلہ۔
شاید یہی چھوٹا سا قدم آپ کو اس جگہ لے جائے جہاں پہنچنے کا خواب آپ برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔
کیونکہ بعض اوقات مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم وقت گزرنے کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے۔
دن گزرتے ہیں۔
مہینے گزرتے ہیں۔
سال گزر جاتے ہیں۔
اور پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور سوچتا ہے:
کاش میں نے اس وقت شروع کر دیا ہوتا۔
اس لیے آج خود سے ایک سوال ضرور کریں:
میں کیا ٹال رہا ہوں؟
اور پھر دوسرا سوال:
اگر ابھی نہیں، تو پھر کب؟
کیونکہ زندگی میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں صرف اتنا کہنا ہوتا ہے:
*بس اتنا تھا، ذرا دیر نہ آ جائے۔