310

رزق اور توکل الی اللہ

تحریر شئیر کریں

رزق اور توکل الی اللہ

أمير المؤمنين سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کہتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

« لو أنَّكم توَكَّلتم على اللهِ حقَّ توَكُّلِهِ، لرزقَكم كما يرزقُ الطَّيرَ، تغدو خماصًا، وتروحُ بطانًا ».

“اگر تم الله تعالیٰ پر ایسے ہی توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔”

– |[ سنن ابن ماجه : ٤١٦٤، صحيح ]|

سیدنا جابر بن عبد الله رضي الله تعالىٰ عنهما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا :

« لو أنَّ ابنَ آدمَ هرَبَ من رزقِهِ كما يهرَبُ من الموتِ ، لأدْرَكَهُ رزْقُهُ كما يُدْرِكُهُ الموتُ ».

“اگر ابنِ آدم اپنے رزق سے یوں بھاگے جیسے وہ موت سے بھاگتا ہے تو اس کا رزق اسے یوں پائے گا جیسے اسے موت پا لیتی ہے۔”

– |[ حِلية الأولياء لأبي نعيم : ٩٠/٧، حسَّنه الشيخ الألباني في السلسلة الصحيحة : ٩٥٢ ]|

📍توکل کا مطلب یہ نہیں کہ جائز اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔ پرندے بھی گھونسلے چھوڑ کر نکلتے ہیں اور تلاش کرکے رزق کھاتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو حرص سے بچتے ہوئے جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنا چاہیے۔

📜 – |[ مولانا عطاء الله ساجد حفظه الله || سنن ابن ماجه اردو : ٤٤٨/٥، ط. دار السلام ]|

رزق اور توکل الی اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں