روس یوکرین مذاکرات
رشیا اور یوکرین کی جنگ پچھلے نو دن سے جاری ہے۔ دونوں حریف ممالک میں مذاکرات کا سلسلہ 28 فروری کو شروع ہوا۔ مذاکرات کی پہلی بیٹھک ناکام رہی۔ مذاکرات کی دوسری بیٹھک 4 مارچ2022 کو منعقد ہوئی کوئی اس دوران رشیاء اور یوکرین کے نمائندوں میں جنگ میں پھنسے ہوئے ہوئے لوگوں کو پرامن طریقے سے نکالنے کا معاہدہ طے ہوا۔
رشیا اور یوکرین کی جنگ کا تاریخی پس منظر
1991 سے قبل یوکرین سوویت یونین کا حصہ تھا ۔سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد یوکرین آزاد ہوگیا۔ یوکرین روس کے مغرب میں واقع ہے۔ روس نے یوکرین کے علاقے کرمیاں پر قبضہ2014 میں کیا ۔ جس کے بعد سے روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی چل رہی تھی ۔یوکرین کے مغرب میں واقع ممالک امریکی اور یورپی فوجی اتحاد نیٹو کا حصہ ہیں۔ نیٹو ممالک اور ریشیا کے درمیان ان یوکرین بفر زون کا کردار ادا کرتا ہے۔ 2021 سے امریکہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنا چاہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے ایک سال سے روس اور امریکہ کے تعلقات زیادہ تناؤ کا شکار رہے ہیں ۔اسی وجہ سے روس نے 2022 کے شروع میں یوکرین کے بارڈر پر پر اپنی فوج کی تعداد بڑھانی شروع کر دی۔ فروری 2022 میں میں روس نے یوکرین کے دو صوبوںکو علیحدہ ممالک تسلیم کر لیا ۔ مغربی ممالک نے روس کے اس قدم کی مخالفت کی۔ اس کے بعد روس نے 24 فروری2022 کو یوکرین پر حملہ کردیا ۔
روس اور یوکرین جنگ کی صورتحال
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پچھلے گیارہ روز سے جاری ہے۔ جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا ر ہی ہے ۔ جنگ جانی اور مالی نقصان کا کا باعث بن رہی ہے۔یوکرئین کی جانب سے روس سے مذاکرات کی اپیل کی جا رہی ہے ، تاکہ جنگ کو بند کیا جائے اور اور متاثرہ افراد کی مدد کی جا سکے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک کی جانب سے بھی مزاکرات کے ذریعے جنگ کو ختم کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کیوں ضروری ہیں؟
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا ہونا بہت ضروری ہے اس جنگ سے عالمی میں علاقائی امن کو خطرہ ہے ۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق دونوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ یو کرین اور رشیا کے درمیان جاری جنگ عالمی طاقتوں کے درمیان مزید کشیدگی اور کسی بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔
مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں، عالمی طاقتوں اور یونائیٹڈ نیشن کا کردار بہت اہم اورضروری ہے۔ مزاکرات میں نہ صرف جنگ بندی کا معاہدہ طے ہونا چاہیے بلکہ متاثرین اور جنگ زدہ علاقوں کو امداد فراہم کرنے پر بھی بات ہونی چاہیے۔
حاصل کلام
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ دونوں ممالک کو چاہئے کہ اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ جنگ کے دوران ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے بچا جائے اور پائیدار امن کو ممکن بنایا جاسکے۔