سوشل میڈیا کا فتنہ: ایک شیطانی جال 99

سوشل میڈیا کا فتنہ: ایک شیطانی جال

تحریر شئیر کریں

سوشل میڈیا کا فتنہ: ایک شیطانی جال

سوشل میڈیا کا فتنہ: ایک شیطانی جال

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

“اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو۔” (سورۂ الحجرات)

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اسے صرف ڈیجیٹل دور کہنا شاید کافی نہیں۔ یہ ایسا زمانہ ہے جہاں سچ اور جھوٹ، حقیقت اور فریب، ایک ہی اسکرین پر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ چند لمحوں میں ایک خبر دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے اور لاکھوں لوگ بغیر تحقیق کے اسے سچ مان لیتے ہیں۔

حال ہی میں جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بعض اکاؤنٹس کی لوکیشن اور اصل شناخت کے حوالے سے معلومات سامنے آئیں تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک حیران کن انکشاف تھا۔ ایسے متعدد اکاؤنٹس سامنے آئے جو خود کو کسی ملک، قوم یا گروہ کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے، لیکن حقیقت اس سے مختلف نکلی۔ اس سے ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر آواز واقعی ایک حقیقی انسان کی آواز ہے بھی یا نہیں؟

یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ذہنوں اور خیالات کی جنگ بھی ہے۔ روزانہ ہمیں ایسی پوسٹس، ویڈیوز اور تبصرے دکھائی دیتے ہیں جو نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کو ہوا دیتے ہیں۔ کبھی قومیت کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر اور کبھی مذہب کے نام پر لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے۔

پاکستان سمیت پوری دنیا میں سوشل میڈیا رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ بعض اوقات منظم مہمات، جعلی اکاؤنٹس اور خودکار نظام لوگوں کے جذبات اور خیالات کو ایک خاص سمت میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام صارف کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں ہوتا کہ کون سی بات حقیقت پر مبنی ہے اور کون سی محض پروپیگنڈا۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام ہمیں تحقیق، تدبر اور احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کا حکم واضح ہے کہ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے۔ اگر ہم اس ایک اصول کو اپنی زندگی میں نافذ کر لیں تو جھوٹ، افواہوں اور نفرت انگیز مہمات کا بہت بڑا حصہ خود بخود ناکام ہو جائے۔

میرے عزیز دوستو!

سوشل میڈیا ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ یہ علم پھیلانے، لوگوں کو جوڑنے اور اچھے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے بغیر شعور اور تحقیق کے استعمال کیا جائے تو یہی چیز فتنہ بن جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر خبر پر فوراً ردِعمل دینے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ اپنی رائے بنانے سے پہلے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور جذبات کے بجائے عقل و بصیرت سے کام لیں۔

یاد رکھیں، جو قوم تحقیق چھوڑ دیتی ہے وہ آسانی سے فریب کا شکار ہو جاتی ہے۔ اور جو قوم شعور، علم اور بصیرت کو اپنا ہتھیار بنا لیتی ہے، اسے گمراہ کرنا آسان نہیں رہتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور باطل کو باطل پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ :::

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں