302

شعبان المعظم کی آمد

تحریر شئیر کریں

شعبان المعظم ایک اہم اسلامی مہینہ ہے۔ اسلامی تقویم کے مطابق، شعبان المعظم ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔

شعبان المعظم کی اہمیت و فضیلت

شعبان المعظم کی آمد آمد ہے شعبان کے آتے ہی دل عجیب سی خوشی سے بھر جاتا ہے اور نگاہیں رمضان کی راہ تکنے لگتیں ہیں دل سحری وافطار کے مناظر میں اٹک جاتا ہے۔ شعبان کی اہمیت اسلام میں خصوصی مقام رکھتی ہے “آپ صل اللہ علیی وسلم نے فرمایا “شعبان میرا اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے” شعبان کی نسبت پیارے نبی کی طرف ہونا ازخود کتنی بڑی عظمت ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم رمضان کے۔ بعد سب سے زیادہ عبادت شعبان میں کیا کرتے تھے ۔مسلم امہ کو بھی اپنے پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے۔


پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج التوا کا شکار

کیوں؟

شعبان المعظم کے روزے

شعبان المعظم کے روزوں کے حوالے سے حضرت  عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ صل اللہ والہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔

پندرہ شعبان کے روزی

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی دو احادیث صحیح بخاری اور   مسلم میں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا بھی سنت سے ثابت ہے ۔جس کا پندرھویں شعبان  کی رات سے کوئی تعلق نہیں ہے

پندرہ شعبان کے بعد مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا سوائے اس شخص کے جو مسلسل ایک ماہ کے روزے رکھتا ہو،وہ رکھ سکتا ہے

شعبان المعظم کی دعائیں

شعبان المعظم میں ہمیں کثرت سے دعائیں کرنی چاہیے ایک تو یہ کہ اللہ ہمیں رمضان نصیب فرمائے اور اس کی برکتوں سے مرحمت فرمائیں۔آمین

شعبان المعظم کی بدعات

شعبان کی پندرھویں رات جسے شب برات کہاجاتا ہے یہ سراسر بدعت ہے

میٹھا پکانا بدعت ہے

قبرستان خصوصی طور پر جانا بدعت ہے

اللہ ہمیں حق پہ چلنے کی توفیق دے۔آمین

شعبان المعظم کی آمد کیسا لگا کمنٹ بکس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں