قرآن کریم کی حقانیت اور جدید سائنس 123

قرآن کریم کی حقانیت اور جدید سائنس

تحریر شئیر کریں

کیا قرآن کریم قدیم ہو چکا ہے؟ اس تحقیقی مضمون میں جانیے کہ کس طرح جدید سائنس، مورس بوکائے اور کیتھ مور جیسی عالمی شخصیات قرآن کی ابدیت کی گواہی دے رہی ہیں۔کیا قرآنِ کریم کا پیغام آج کے دور میں پرانا ہو چکا ہے؟

اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ 1400 سال پہلے نازل ہونے والی کتاب آج کے ڈیجیٹل اور سائنسی دور میں کیسے رہنمائی کر سکتی ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہو رہی ہے۔ یہ کتاب “آؤٹ ڈیٹڈ” نہیں بلکہ اپنے وقت سے بہت آگے کی کتاب ہے۔

جدید سائنسی دریافتیں اور قرآن (Scientific Evidence)

دنیا کی کوئی بھی قدیم کتاب سائنسی غلطیوں سے پاک نہیں ہے، سوائے قرآن کے۔ جب ہم جدید سائنس کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، تو حیران کن نتائج سامنے آتے ہیں۔

1. کائنات کا پھیلاؤ (Expansion of the Universe)

جدید فلکیات (Astronomy) کے مطابق کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ قرآن نے صدیوں پہلے سورہ الذاریات (آیت 47) میں اس کا ذکر کر دیا تھا۔
* جدید حوالہ: مشہور فرانسیسی ڈاکٹر مورس بوکائے اپنی کتاب “The Bible, The Qur’an and Science” میں لکھتے ہیں کہ قرآن میں کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں جو جدید سائنسی مسلمات کے خلاف ہو۔

2. انسانی تخلیق کے مراحل (Embryology)

ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما کے جو مراحل قرآن نے بیان کیے، وہ جدید مائیکروسکوپ کی ایجاد سے پہلے جاننا ناممکن تھا۔
* ماہرین کی رائے: ڈاکٹر کیتھ ایل مور، جو جنین بانی کے عالمی ماہر ہیں، اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن کی فراہم کردہ معلومات صرف الٰہی وحی کے ذریعے ہی ممکن تھیں۔
عالمی مفکرین کے اہم اقتباسات (Expert Quotes)
قرآن کریم کی ابدیت کا اعتراف صرف مسلمانوں نے ہی نہیں، بلکہ بڑے بڑے غیر مسلم دانشوروں نے بھی کیا ہے۔

> “قرآن وہ آواز ہے جو کائنات کے قلب سے نکلی ہے۔ یہ ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔” — تھامس کارلائل

مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب “The 100” میں نبی کریم ﷺ کو دنیا کی بااثر ترین شخصیت قرار دیا کیونکہ آپ ﷺ پر نازل ہونے والا ضابطہ حیات (قرآن) آج بھی انسانیت کے لیے مکمل حل پیش کرتا ہے۔

قرآن کا عمرانی اور معاشی حل

آج کا معاشرہ جن مسائل (سود، ناانصافی، نفسیاتی اضطراب) کا شکار ہے، ان کا حل قرآن کے ابدی اصولوں میں موجود ہے۔
* سود سے پاک معیشت: جدید سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا اب “اسلامک بینکنگ” کی طرف مائل ہو رہی ہے۔
* سماجی انصاف: قرآن کا قانونِ وراثت اور زکوٰۃ کا نظام دولت کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے۔

نتیجہ: قرآن ہر دور کی ضرورت ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن صرف ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل یوزر مینول ہے۔ جس طرح انسانی فطرت نہیں بدلتی، اسی طرح اس فطرت کے لیے نازل کردہ الٰہی قوانین بھی کبھی پرانے نہیں ہو سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں