مری ایکسپریس وے حادثہ: جب ریاست کی ترجیحات انسان سے زیادہ پروٹوکول بن جائیں
مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں تھا بلکہ ہمارے انتظامی نظام پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب برسوں سے نہیں مل سکا۔ آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے افراد صرف اعداد و شمار نہیں تھے، وہ کسی کے والد، کسی کی ماں، کسی کی اولاد اور کسی کا پورا جہان تھے۔ زخمی ہونے والے افراد آج بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، جبکہ ہر بڑے سانحے کی طرح سرکاری بیانات، تحقیقات اور افسوس کے رسمی الفاظ اپنی جگہ موجود ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، بلکہ یہ ہے کہ جب آگ بھڑکی تو امدادی نظام کہاں تھا؟ حادثے کے بعد ابتدائی چند منٹ انسانی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں اکثر امدادی کارروائیاں اس وقت شروع ہوتی ہیں جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید ریسکیو سسٹم، ایئر ایمبولینس اور فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹرز کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، لیکن ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبوں، سرکاری عمارتوں اور پروٹوکول پر تو اربوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ انسانی جان بچانے والے منصوبے اکثر فائلوں میں دبے رہتے ہیں۔
مری جیسے حساس اور سیاحتی علاقے میں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔ ایسے مقام پر مستقل فضائی ریسکیو نظام، جدید فائر فائٹنگ سہولیات اور تربیت یافتہ ایمرجنسی ٹیموں کی موجودگی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ اگر پہاڑی علاقوں میں فوری فضائی امداد کا مؤثر نظام موجود ہو تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
انتظامیہ کی ذمہ داری صرف حادثے کے بعد اسپتالوں کے دورے کرنا یا میڈیا کے سامنے بیانات دینا نہیں، بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو حادثات کو بڑے سانحات میں تبدیل ہونے سے روک سکے۔ ہر سانحے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی بنانا آسان ہے، لیکن ان سفارشات پر عمل درآمد ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔
ریاست کی اصل طاقت بلند عمارتوں، شاہانہ پروٹوکول یا بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ جب ایک عام شہری یہ محسوس کرے کہ مشکل کی گھڑی میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، تبھی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
مری کا یہ سانحہ صرف ایک خبر نہیں، ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنی ترجیحات واضح نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر حادثے کے بعد صرف تعزیتی بیانات تک محدود رہیں گے، یا ایسا نظام قائم کریں گے جہاں انسانی جان واقعی سب سے قیمتی سمجھی جائے؟
— روبینہ شاہین