مورنگا/سوہانجنا ایک قیمتی پودا جس کی افادیت مسلم ہے۔
تحریر : لبنٰی جمشید
سوہانجنا کے درخت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے: “اگر تمہارے ہاتھ میں بیج ہے اور اس کو بونے لگے تھے کہ خبر ملی کہ قیامت آنے کو ہے اور ہر چیز فنا ہوجائے گی تو بھی اس بیج کو بو دو”(مسند احمد:13240)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سوہانجنا کا درخت کس قدر معجزاتی و کرشماتی خوبیوں کا حامل ہے۔
پرفیسر شہزاد بسرا لکھتے ہیں “پوری دنیا میں سوہانجنا کو ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے پتوں، شاخوں اور جڑوں کے ساتھ ساتھ بیجوں میں بھی اہم غذائی اجزاء شامل ہیں۔
درخت کی قامت
انگریزی میں اسے مورنگا کہتے ہیں جو کہ ہمارے ہاں سہانجنہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے یہ ایک ایسا درخت ہے جو کہ پاکستان میں پشاور سے کراچی تک بکثرت پایا جاتا ہے ۔ عموماََ یہ خودبخود اگتا ہے اور گھروں کے علاوہ کھیتوں میں بھی کاشت بھی کیا جاتا ہے ۔ سہانجنہ گرم ماحول اور ریتلی زمین میں باآسانی کاشت ہوتا ہے ۔ بہاولپور کے علاقے میں اس کے خود رو درختوں کے جنگلات ہیں ۔ اس کی اونچائی 25 سے 40 فٹ تک ہوتی ہے ۔ پھل اور پھول سال میں 2 ۔ 3 بار لگتے ہیں۔ اس کی لکڑی نرم و نازک اور پھلیاں تقریبا ً ایک فٹ لمبی اور انگلی کے برابر موٹی ہوتی ہیں ۔
جدید ریسرچ کے نتائج
یورپ اور امریکہ میں اس درخت پر ریسرچ کے بعد سے ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔ جاپان کی ایک مشہور کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا Morinaga کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی خصوصیات سے بھرپور غذا ہے۔
مورنگا کو کم و بیش تین سو قابل علاج اور لا علاج بیماریوں کا علاج تصور کیا جاتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارےیہاں اسے بھیڑ بکریاں ہی کھا رہی ہیں۔ اگر بلاگر نے اپنیسائٹ پر لکھا کہ لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔
سوہانجنا کے فوائد
جسم کی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دماغ اور آنکھوں کی بینائی کے لیے فائدہ مند ہے۔
دستیاب اجزاءکے ساتھ حل کے ساتھ خلیوں کی ساخت اور قدرتی صفرائے جامد رقیق مادہ (cholesterol serum) کو فروغ دیتا ہے۔
چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں fine lines کے بننے کو کم کرتا ہے۔
جگر اور گردے کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
جلد کو خوبصورت , طاقت اور ہاضمہ کو بڑھاتا ہے
۔مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کے طور پر کام کرتا ہے جس سے جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھتی ہے۔
جسم میں شکر (Sugar) کی سطح قائم رکھتا ہے۔
اس کا مزاج گرم و خشک ہونے کی وجہ سے حدر بول اور ہاضے کے لیے جڑ کا پانی دودھ میں ملا کر پلایا جاتا ہے ۔
سوہانجنے کا استعمال
سہانجنہ کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا بے جو بو بے ذائقہ اور مدت تک پڑا رہنے سے خراب نہیں ہوتا ۔ گھڑی کے پرزوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ سپلمینٹ ‘ کاسمیٹکس‘ بالوں اور جلد کے مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی پھلیوں کو پکا کر سبزی کے طور بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ غذاکے ساتھ ساتھ دوا کے طور پر بھیاس کے خشک یا ہرے پتوں پتوں کا قہوہ بنایا جاتا ہے جو طبی لحاظ سے مفید دوا ہے اور اس کے پتوں جڑوں اور پھلیوں کا خشک سفوف انتہائی پر اثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دنیا بھر کے مشہور قہوے اور چاۓ
غذائی اجزا
یہ کاربوہائیڈ ریٹ، پروٹینز ،فائبرز ،وٹامنز اورمنرلز سے بھرپور زبردست غذائی افادیت کی حامل ہوتی ہیں۔اس کے پتوں میں متعدد طبی خواص اورآئرن کے اجزاء پائے جاتے ہیں شیرخواربچوں سے لے کربزرگوں تک یہ سبزی بڑی کارآمد اورصحت بخش ہے۔
اگر آپ اس سبزی سے ناواقف ہیں تو بیان کردہ لامحدود فوائد میں سے چند فوائد جاننے کے بعد اسے اپنی خوراک کاحصہ ضرور بنائے گا۔اسکی چاے بنا کت بھی پی جاسکتی ہے۔انتہائی فائدہ مند ہے۔۔مورنگا/سوہانجنا ایک قیمتی پودا اسے استعمال کیجے۔
۔