میڈیا کی ترقی اور تباہی
تحریر عائشہ بی
میڈیا کی ترقی اور اس کے تباہ کن اثرات معاشرے میں سیلاب کی مانند تیزی کے ساتھ بڑھتے جارہےہیں۔
سیلاب کی سنگینی یہ ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے پر انسانوں کے لئے پینے کےصاف پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں ہوتی
بکھری ہوئے اطلاعات اور لا حاصل ٹاک شوز رائے عامہ سوچوں کو صرف پریشانی کے علاوہ اور کوئی رائے مربوط کرنے نہیں دیتی۔ جب کہ پہلے ہمارے ٹی وی پر تعلیم و تربیت کے بہترین پروگرامز دکھائے جاتے تھے۔ جن کو آج بھی جب ہم نشر مقرر دیکھتے ہیں تو اپنی ملک کی تاریخ اور ثقافت سے روشناس ہوتے ہیں۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ہمارے میڈیا تفریح پروگرام کے نام پر صرف بےحیائ اور بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے۔ میڈیا صرف اداکاروں ، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو ملک کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اسلئے آج ہمارے نوجوان نسل تعلیم اور فن سے لا پروا ہو کر صرف ان ہیروز جیسے بن رہا ہے اور اپنے قوم کے اصل ہیروز ، دانشوروں ، صاحب علم ، کلمگار ، استاد اور سائنسدانوں سے نا آشنا ہے ۔ قوم کی بیٹیاں فیشن اور بے حیائی کی دلدادہ بنتی جارہی ہیں۔ ماں ، بیٹی ، بیوی ، بہن کی عظمت کا اعلی مقام بھول گئے ہیں ۔ میں میڈیا اور پیمرا کے احکام اعلی سے درخواست کرتی ہوں۔۔۔۔۔ خدارا!میڈیا کی اس تباہی سے بچا کر میڈیا کے ذریعے ملک اور قوم کی اصلاح کا بہترین کام انجام دیں۔۔۔۔ورنہ خدا کے آگے کیا جواب دیں گے۔۔۔۔۔؟
میڈیا کی ترقی اور تباہی