وہ آخری رات… جب سکرینیں بجھ گئیں!
ذرا سوچیں…
اگر کل سورج نہ نکلے؟ اور آپ کی صبح کسی الارم سے نہیں، بلکہ باہر گلی میں پھیلے ہوئے اس سناٹے سے ہو جو آواز سے زیادہ خوفناک ہے؟
جب خاموشی بولنے لگے گی
ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کی زندگی ایک ‘کلک’ کے گرد گھومتی ہے۔ ہم نے سمجھ لیا تھا کہ کلاؤڈ پر موجود ہمارا ڈیٹا، ہماری تصویریں اور ہماری چیٹس کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ لیکن جب سیٹلائٹ گریں گے اور فائبر آپٹک کی تاریں سمندر کی تہہ میں خاموش ہو جائیں گی، تب ہمیں احساس ہوگا کہ ہم کتنے تنہا ہیں۔
وہ کمائی جس کا ریکارڈ صرف ایک ویب سائٹ پر تھا، پل بھر میں صفر ہو گئی۔
وہ یادیں جو بادلوں (Cloud) میں محفوظ تھیں، ایک جھٹکے میں غائب ہو گئیں۔
وہ دوست جن کا وجود صرف واٹس ایپ پر تھا، ہمیشہ کے لیے اجنبی بن گئے۔
بڑے شہر: روشنیوں کے قبرستان
جن شہروں میں ہم فخر سے رہتے ہیں، وہ دراصل مشینوں کے محتاج ہیں۔ جب بجلی نہیں ہوگی، تو پمپ پانی نہیں دیں گے۔ جب انٹرنیٹ نہیں ہوگا، تو اے ٹی ایم (ATM) سے کاغذ کے نوٹ بھی نہیں نکلیں گے۔
منظر کیا ہوگا؟
ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں ہوں گی مگر کوئی ایک روٹی کے بدلے وہ سونا نہیں لے گا۔ آپ کے پاس مہنگی گاڑیاں ہوں گی، لیکن پیٹرول کے بغیر وہ لوہے کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔ تب انسان کو پتہ چلے گا کہ اس نے **ترقی** کے نام پر دراصل اپنی **آزادی** بیچ دی ہے۔
سب سے بڑی جنگ: اپنے آپ سے
تیسری عالمی جنگ صرف بموں سے نہیں لڑی جائے گی، وہ **کردار** سے لڑی جائے گی۔ جب بھوک دروازے پر دستک دے گی، تب پتہ چلے گا کہ کون سا ‘باہمت’ ہے اور کون ‘بزدل’۔
* کیا ہم اپنے حصے کا نوالہ کسی بھوکے کو دے سکیں گے؟
* یا ہم بھی اسی بھیڑ کا حصہ بن جائیں گے جو بچنے کے لیے دوسروں کو کچل رہی ہوگی؟
فتنہ اور نجات کا راستہ
جب افراتفری عروج پر ہوگی، تب ایک مسیحا کا روپ دھار کر وہ آئے گا جو ‘روٹی’ کا لالچ دے کر آپ کا ‘ایمان’ مانگے گا۔ وہ دجالی نظام ہوگا جو آپ کی ضرورت کو آپ کی ذلت بنا دے گا۔
ابھی وقت ہے…
سورہ کہف صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ جینے کے لیے ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب دنیا آگ بن جائے، تو ‘غار’ (سادگی اور اللہ کی پناہ) میں سکون ملتا ہے۔
سیکھیں: مٹی سے جڑنا، خود کچھ اگانا، اور سہولتوں کے بغیر جینا۔
جوڑیں: اپنے رشتے مٹی اور انسانوں سے، نہ کہ صرف وائی فائی سے۔
بچائیں: اپنے ایمان کو، تاکہ جب سب کچھ اندھیرے میں ڈوب جائے، تو آپ کے اندر کی شمع روشن رہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے:اگر آج آپ کا فون چھین لیا جائے، تو آپ کے پاس اپنی پہچان کے لیے کیا بچے گا؟