پہلی اُڑان – قسط37 206

پہلی اڑان  قسط 48 

تحریر شئیر کریں

پہلی اڑان  قسط 48

ناول نگار: روبینہ شاہین

حصہ اول: لاہور سے رخصتی

ندا نے اپنا سامان پیک کرتے ہوئے کمرے میں نظر دوڑائی۔ تین ماہ کی چھٹیاں گزارنے کے بعد آج وہ واپس ٹورنٹو جا رہی تھی۔ اس کی ماں دروازے پر کھڑی تھیں، آنکھوں میں نمی لیے۔

“بیٹا، کچھ کھا لو۔ لمبا سفر ہے۔” ماما نے نرمی سے کہا۔

ندا نے ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا، “ماما، آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں نا؟ بس یہی کافی ہے۔”

ابا نے اس کا سامان گاڑی میں رکھتے ہوئے کہا، “اپنی صحت کا خیال رکھنا۔ پی ایچ ڈی ضروری ہے، لیکن تمہاری ذات اس سے بڑھ کر ہے۔”

ندا نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھا تو لاہور کی گلیاں، یوں محسوس ہوا جیسے اسے الوداع کہہ رہی ہوں۔

حصہ دوم: ایئرپورٹ پر ہلچل

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر معمولی ہلچل تھی۔ لوگ ٹی وی اسکرینز کے گرد جمع تھے۔ ندا نے قریب جا کر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔

“فلیش نیوز: انڈیا نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر میزائل حملہ کر دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔”

ندا کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اس نے فوراً اپنے گھر والوں کو فون کیا، لیکن نیٹ ورک بز کی آواز دے رہا تھا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔

“یا اللہ! میرا خاندان محفوظ رہے۔”

ایئرپورٹ پر کچھ مسافر رونے لگے، کچھ دعائیں مانگ رہے تھے۔ ندا نے اپنا بوردنگ پاس تھامے ہوئے سانس لیا۔ “مجھے جانا ہوگا… لیکن دل چاہ رہا ہے کہ واپس گھر بھاگ جاؤں۔”

حصہ سوم: جہاز میں اضطراب

ندا نے اپنی سیٹ سنبھالی تو اس کے پاس بیٹھی ایک بزرگ خاتون نے اس کی گھبراہٹ محسوس کر لی۔

“بیٹی، سب ٹھیک ہے؟ تمہارے ہاتھ تو کانپ رہے ہیں۔”

ندا نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا، “انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔ میرا پورا خاندان وہاں ہے۔”

خاتون نے ندا کا ہاتھ تھام لیا۔ “اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ سب کو سنبھالے گا۔”

اچانک جہاز کے اناؤنسمنٹ سسٹم میں پائلٹ کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی:

“مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی سیٹ بیلٹس باندھ لیں۔ ہمیں کچھ خلل کا سامنا ہے۔”

جہاز زور سے جھٹکا کھا کر ہلا۔ کچھ مسافر چلانے لگے۔ ندا نے اپنے سامنے والی سیٹ کے جیب میں قرآن مجید کا چھوٹا سا نسخہ دیکھا۔ اس نے اسے تھام لیا اور دل ہی دل میں پڑھنا شروع کر دیا:

“رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا”

(اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل فرما اور ہمارے قدم مضبوط کر دے۔)

حصہ چہارم: ٹورنٹو پہنچنا

جب جہاز نے زمین چھوئی تو ندا نے سکون کا سانس لیا۔ اس کا فون آن ہوتے ہی کئی میسجز اور میسڈ کالز کا نوٹیفکیشن آیا۔

“ندا! ہم سب ٹھیک ہیں۔ لاہور میں کوئی حملہ نہیں ہوا۔ بس سرحد پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔” — ابا کا میسج پڑھ کر اس کا دل ہلکا ہوا۔

“بیٹی، فکر مت کرو۔ اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا ہے۔ تم اپنا خیال رکھنا۔” — ماما کا پیغام پڑھ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔

حصہ پنجم: نئی ذمہ داری

اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی ندا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ اس کے سپروائزر نے ای میل لکھی تھی:

“ندا، تمہارے تھیسز کے ڈیٹا نے ایک غیر متوقع رجحان ظاہر کیا ہے۔ یہ صرف کمپیوٹر سائنس نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کو بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں فوری طور پر اس پر کام کرنا ہوگا۔”

ندا نے گہری سانس لی۔ اس نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا:

“آج کی سیکھ: اللہ نے ہر مشکل کے ساتھ آسانی رکھی ہے۔ ہمیں صرف ایمان اور ہمت سے کام لینا ہے۔”

وہ جانتی تھی کہ اب اس کا سفر صرف ایک ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں رہا۔ اسے اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو کچھ واپس دینا تھا۔

جاری ہے…

—

اگلی قسط کے لیے:

کیا ندا کی تحقیق واقعی جنگ کے شکار علاقوں میں انسانی جانوں کو بچا سکے گی؟

قرآن جرنلنگ کی لڑکیاں پاکستان میں موجود بحران کا مقابلہ کیسے کریں گی؟

کیا ندا اور اس کے سپروائزر کے درمیان کوئی خفیہ منصوبہ ہے؟

پڑھتے رہیں، “پہلی اڑان” کی اگلی قسط میں!

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں