ایک اچانک فیصلہ
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں ہوتا، بس دل کی پکار ہوتی ہے اور قدم اٹھ جاتے ہیں۔ جمعہ کی مبارک صبح میرے لیے ایسی ہی ایک خوشخبری لے کر آئی جب اچانک اپنی ایک پیاری سہیلی سے ملنے کا پروگرام بنا جو ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیر محل میں رہتی ہیں۔ لاہور کے شور شرابے اور ہنگاموں سے دور، یہ سفر ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند تھا۔
پیر محل کی فضا: کشادہ سڑکیں اور ہریالی
لاہور کی تنگ گلیوں کے برعکس، پیر محل میں داخل ہوتے ہی اس کی کھلی اور ہوا دار گلیوں نے استقبال کیا۔ یہاں کی سڑکیں صاف ستھری اور ہموار ہیں، جن کے دونوں اطراف پھیلا ہوا Lush Green (انتہائی سبز) منظر آنکھوں کو تراوٹ بخشتا ہے۔ یہ شہر رش سے پاک اور پُرسکون ہے، جہاں انسان خود کو فطرت کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔
پیر محل کی سوغات: باغات اور پیداوار
پیر محل محض ایک تحصیل نہیں، بلکہ اپنی زرخیزی کے لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے۔
باغات کی خوشبو: سردیوں میں یہ شہر کینو اور امرود کے باغات سے مہکتا ہے، لیکن یہاں کی مٹی اتنی زرخیز ہے کہ گرمیوں میں آم اور کھجور کی بھی بہترین پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
زرعی اہمیت: یہاں کے مالٹے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی اپنی مٹھاس کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ گندم، کپاس اور گنا یہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
بے نظیر پارک: ہماری صبح کا آغاز اس خوبصورت پارک سے ہوا، جہاں ہر طرف پھیلی ہریالی اور صاف ستھری فضا نے بچوں اور بڑوں سب کا دل جیت لیا۔
واپسی کا سفر: ایک آزمائش اور اللہ کی رحمت
اتوار کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے ہم دوبارہ ‘نیازی ایکسپریس’ کے ذریعے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ ابھی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک میری بیٹی کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا۔ ایک ماں کے لیے یہ لمحہ بڑا کڑا ہوتا ہے۔ میں نے ہمت نہ ہاری اور تقریباً ایک گھنٹہ مسلسل وقفے وقفے سے اس پر دم کرتی رہی اور اللہ سے دعا مانگتی رہی کہ اسے آرام آ جائے۔
بالآخر، اسے الٹی (Vomit) آئی اور الحمدللہ! اللہ کے کرم سے اس کی طبیعت فوراً سنبھل گئی۔ اسی دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا؛ ہماری ساتھ والی سیٹ پر ایک آنٹی بیٹھی تھیں، بچی کو الٹی کرتے دیکھ کر شاید ان کی اپنی طبیعت خراب ہونے لگی، اس لیے وہ اٹھ کر دوسری سیٹ پر جا بیٹھیں۔ ان کے جانے سے ہمیں مزید جگہ مل گئی اور ہم بقیہ سفر مزید آرام و سکون سے طے کرتے ہوئے ساڑھے تین بجے لاہور پہنچ گئے۔اور اس آیت پر مزید ایمان پختہ ہوا کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
تین صوبوں کا سنگم: پیر محل کی سب سے خاص بات اس کا جغرافیہ ہے۔ یہ شہر پنجاب کے وسط میں واقع ہے اور اس کا ریلوے اسٹیشن ایک زمانے میں بہت اہم رہا ہے کیونکہ یہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مسافروں کے لیے ایک اہم گزرگاہ کا کام دیتا تھا۔
انصاف منڈی: پیر محل کی “انصاف منڈی” پورے علاقے میں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسی زرعی منڈی ہے جہاں کسانوں کو ان کی فصلوں کا صحیح معاوضہ ملتا ہے اور یہاں کا کاروباری نظام بہت منظم ہے۔
تعلیمی رحجان: ایک چھوٹا شہر ہونے کے باوجود پیر محل کی شرح خواندگی (Literacy Rate) کافی بہتر ہے۔ یہاں کے لوگ تعلیم دوست ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سے بہت سے افسران اور ڈاکٹرز ملک بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
امن و امان اور بھائی چارہ: اس شہر کی سب سے بڑی خوبی یہاں کا پُرسکون ماحول ہے۔ یہاں بڑے شہروں کی طرح کا جرائم کا تناسب بہت کم ہے اور لوگ آج بھی پرانی روایات کے مطابق ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔
کھیلوں سے رغبت: پیر محل کے لوگ خاص طور پر کبڈی اور والی بال کے بہت شوقین ہیں۔ یہاں کے مقامی میلوں میں ان کھیلوں کے بڑے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔
انصاف فاؤنڈیشن اور سماجی کام: اس چھوٹے سے شہر میں فلاحی کاموں کا بہت جذبہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی مدد کرتے ہیں۔
پیر محل صرف باغات کا شہر نہیں، بلکہ یہ تہذیب اور سادگی کا گہوارہ بھی ہے۔ یہاں کی ہوا میں جہاں مالٹے اور امرود کی مہک ہے، وہاں کے لوگوں کے لہجوں میں بھی وہی مٹھاس ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جو جدیدیت کی دوڑ میں شامل ہونے کے باوجود اپنی جڑوں اور روایات سے جڑا ہوا ہے۔”