رسوائی ڈرامه سیریل کا آج اینڈ تھا۔۔اے آر وائی ڈیجیٹل کا مقبول ترین سیریل رها۔۔۔اس کی کہانی کافی انٹرسٹنگ تھی اور منفرد بھی جبھی مقبول بھی هوا۔ روبینہ اشرف کی یہ کہانی یقینا اپنے اندر کافی اہم موضوع کو سمیٹے هوے تھی۔رسوائی ڈرامه سیریل ایک ایسی لڑکی کی کهانی هے جس کا گینک ریپ هوتا هے جس کے نتیجے میں اسکی ساری فیملی متاثر هوتی هے اس لڑکی کو طلاق هو جاتی هے۔۔مگر وہ بدلہ لینے پہ بضد رهتی۔۔بالآخر وه کیس لڑتی هے اور ملزمان جو کافی باثر تھے ان کو کورٹ کی جانب سے سزا سنا دی جاتی هے۔۔بہت سے موڑ اور بھی آتے هیں مگر سردست همارا موضوع کچھ اور هے۔۔۔اس سیریل میں دکھایا گیا هے که اسطرح کے کیسیز په چپ نهیں رهنا چاهیے بلکه آواز اٹھانی چاهیے۔۔۔بالکل اٹھانی چاهیے۔۔۔مگر کہانی ابھی بھی ادھوری ہے۔۔۔۔
اسلامی تعلیمات بتاتیں هیں کھ عورت جب بغیر حجاب کے پھرتی هے تو شیطان اس کا ساتھی هوتا هے۔۔۔اور وہ سر سے پاوں تک فتنه هوتی هے۔۔۔جب آپ بغیر دوپٹے کے گھر سے نکلے گے۔۔۔تو دیکھنے والے اپنے مذموم مقاصد کے تحت وهی کچھ کریں گے جو اس سیریل میں هوا۔۔۔اسلام برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی ناکہ بندی کرتا ہے ۔۔۔وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سرے سے هوں هی نا۔۔۔اس لیے وہ بند باندھتا ۔۔۔پردے کا اهتمام اسی بند کو باندھنے کی ایک کوشش هے۔۔۔حق کے لیے آواز اٹھاو پر پهلے اس کے لیے برائی کی طرف جانے والے راستوں کو بند کرو۔۔۔ترتیب نا بدلو۔۔۔وه لڑکی بھلے کیس جیت گئیں مگر تین انسانی جانیں بھی اسکی نظر هوئیں۔۔۔زرا نہیں پورا سوچیں۔۔۔۔
457