۔۔۔۔۔
اردو زبان کی کم ہوتی ہوئی ویلیو یہ بتاتی ہے کہ ہم گونگے ہو چکے ہیں۔جی ہاں جن کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی وہ گونگے ہوتے ہیں۔چین کے صدر کو جب انگلش میں خطاب کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے مشہور زمانہ فقرہ کہا کہ چین ابھی گونگا نہیں ہوا۔یعنی اس کی اپنی زبان ہے۔یی صرف چائنہ کی مثال نہیں دنیا کی خوددار قوموں نے اپنی زبان ہی میں ترقی کی ہے۔ہم انگلش کو ترقی اور علوم کا مجموعہ سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ایسا ہوتا تو انگریز دنیا کے سب سے عالم فاضل لوگ ہوتے۔انگلش محض ایک زبان ہے نا کہ علوم کا مجموعہ۔۔
انگلش کے حوالے سے میرے ایک سر کہا کرتے تھے کہ نا یہ آنی اور نا جانی۔۔۔۔یہ ذہنی پستی کی علامت ہے کہ ہم نے اسے فوبیا بنا لیا ہے۔حالانکہ اسے اتنا سر پہ چڑھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟جب اسے سرکاری زبان کے برابر سمجھا گیا اور لاگو کیا گیا۔
فوبیا کو دور کرنے کا طریقہ تو سبھی کو پتہ کہ جس چیز سے ڈر لگے اسے فیس کیا جاۓ اور اس کا زیادہ سے زیادہ سامنا کیا جاۓ۔یہاں تک کہ خوف ختم ہو جاۓ۔ایک اہم بات اور کہ اگر اس سے ڈرنے کی بجاے اسے زبان سمجھ کر سیکھا جاتا تو کب کی آ چکی ہوتی۔۔۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو جس قوم کی زبان سیکھ گیا وہ اس کے شر سے محفوظ ہوگیا۔زبانیں سیکھنا نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی سنت بھی ہے۔لهذا اس لحاظ سے انگلش سبکھنے میں کوئی عار نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔
مگر ان زبانوں کو اپنی قوم زبان پہ ترجیح دینا۔ذہنی پسماندگی اور غلام ذہنیت کی علامت ہے۔
375