یقین پیداکر۔۔۔۔
ڈاکٹر علی ساجد
نپولن بوناپارٹ کہتا ہے کہ ناممکن کا لفظ داناوں کی ڈکشنری میں ہوتا ہی نہیں۔یہ بیوقوفوں کی ڈکشنری میں ہوتا ہے۔جو کرنا چاہتے ہیں ان کے لیئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ممکن کی حدوں کو جتنا دھکیلتے چلے جائیں وہ اتنا وسیع ہوتیں چلی جائیں گی۔ناممکن کا غبارہ جب بھی پھٹے گا اس میں سے ایک غبارہ نکلے گا ممکن کا۔یہ زور لگانے کا مسئلہ ہے۔جتنا زور لگائیں گے ناممکن ممکن ہوتا چلا جائے گا
ہمارے ہاں عموما لوگ یہ سوچ کر بیٹھے رہتے ہیں کہ میرے پاس مواقع نہیں تھے جبھی ترقی نہیں کر سکا۔شریک سفر اچھا نہیں تھا جبھی آگے نہیں بڑھ سکا،کسی اچھے ادارے کی ڈگری نہیں تھی جبھی پیچھے رہ گیا۔یقین کریں یہ سارے مسئلے تو ہیں مگر چھوٹے مسئلے ہیں۔بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے اندر اتنی طاقت ہو کہ چھوٹے مسئلوں کو بڑا نہ ہونے دیں۔اور رائی کو پہاڑ نہ بننے دیں۔یہ آپ کے رویئے ہیں جن کے پس منظر میں آپ چیزوں کو دیکھتے ہیں۔خوشی دراصل آپ کے رویوں کا نام ہے۔اچھا رویہ زیادہ خوشی،برا رویہ کم خوشی۔۔۔زندگی میں وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جن کے رویئے مثبت ہوتے ہیں۔
جب انسان بہت زیادہ مسائل کا شکار ہو جاتا ہے تو رنج رنج نہیں رہتا عادت بن جاتا ہے۔رنج خوشی بن جاتا ہے۔یقین پہ غالب کا ایک شعر ہے “اس درد کی دوا پائی درد بے نوا پایا”یاد رکھیں وہی لوگ ترقی کرتے ہیں جو مضطرب ہوتے ہیں کہ تبدیلی کیوں نہیں آ رہی،ترقی کیوں نہیں ہو رہی؟جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں وہ بالآخر ترقی کر جاتے ہیں۔ خود پہ یقین کر کے انسان معجزاتی کرشمے دکھا سکتا ہے۔بقول غالب
مشکلیں مجھ پہ اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں
اور رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے غم
کام کوئی بھی ہو اصل چیز یہ کہ اس کے پیچھے آپ کا رویہ کیا ہے؟کام بیزاری سے کر رہے ہیں یا خوشی سے۔۔؟بیس پچیس سال پہلے جب میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو رات 9 بجے کے خبرنامے میں پی ٹی وی نے ایک فوٹیج چلائی موٹیویٹیڈ پولیس والا،جس میں ایک ٹریفک کنٹرول کرنے والا سارجنٹ ایک ہاتھ سے ٹریفک گزرنے کا اشارہ کر رہا اور ساتھ ہی ساتھ ایک سمائل بھی دےرہا۔۔۔اس کے پیچھے کون سے روئیے ہو سکتے ہیں ۔یہی کہ میں نے رزق حلال کمانا ہے
اور اگر ٹریفک آگے پیچھے ہوتی ہے تو میں ذمہ دار ہوں۔کتنے ٹریفک والے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں ورنہ تو سارا دن کھڑے گپیں ہانکتے رہتے ہیں۔2 بلین میں ایک ہوگا جو اس سپاہی کی طرح سوچتا ہوگا کہ میں نے رزق حلال کمانا اور کھانا ہے۔جاپانی ایک ایسی قوم ہیں جہاں ہر بندہ موٹیویٹیڈ اور ایماندار ملے گا اور اسی جذبے سے ٹریفک کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔میں جاپان سے واپس آرہاتھا کہ ایک بس پہ سامان لوڈ ہو رہاترا تو مجھے خیال آیا کہ میرا کیمرہ اوپر رہ گیا ہے میں نے سامان وہی رکھا اور کیمرہ لینے چلا گیا۔واپس آیا تو میرا سامان غائب تھا۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ ایک بس کی بیس مینٹ سے آواز آئی کہ میں نیچے بیٹھی ہوں تمہارا سامان لے کر۔ایک منٹ بچانے کے لیئے کہ کہی بس لیٹ نہ ہو جائے وہ اتنا وزنی بیگ اٹھا کے رکھ چکی تھی۔حالانکہ یہ اس کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا کہ وہ کسی کا سامان اٹھا کے رکھے۔
یہ راز ہے ان کی ترقی کا،ترقی یافتہ قوموں نے ایسے ہی ترقی نہیں کی انسانیت کی بے لوث خدمت کو اپنا شعار بنایا ریسرچ کی کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں تب جا کے گوہر ہاتھ آیا۔وہاں فارغ بیٹھنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے اور دفتر کے اوقات میں ذاتی کام کرنا سپر گناہ کبیرہ ہے۔کام کر کر کے ان کی آنکھیں سوجی ہوتی ہیں کیونکہ نیند پوری نہیں ہوتیں ان کی،وہ ڈر سے کام نہیں کرتے کہ نوکری سے نکال دیں گے بلکہ کام ان کی گھٹی میں پڑا ہے ۔ایسی قوم بھی ہے دنیا میں۔۔یقین نہیں آتا تو جاپان جا کے دیکھ لیں ،نہیں تو ان کی ایمبیسی کے دفتر جا کے دیکھ لیں۔ترقی وہی قومیں کرتیں ہیں جو ہوسکتا ہے پہ یقین رکھتیں ہیں۔
یاد رکھیں جو لوگ جتنے موٹیویٹیڈ ہوتے ہیں۔ناممکن کو ممکن بنانے پہ جتنا یقین رکھتے ہیں۔آوٹ آف بوکس سوچ رکھتے ہیں وہ اتنا ہی آگے بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں۔جیسےہی انسان ناممکن کی دیواروں کو پھلانگتا ہے تو اندھیرا چھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔انسان حیران ہوتا ہے کہ روشنی کدھر سے آرہی ہے۔ہماری تاریخ روشنیوں کے ان گنت نمونوں سے بھری پڑی ہے۔انہی روشنیوں میں سے حضرت حاجرہ اور حضرت یعقوب بھی ہیں۔جو مشکلات کے پہاڑ میں بھی عزم واستقلال کی مثال بنے ناممکن کو ممکن بنانے کی آرزو میں کھڑے رہے اور بالآخر کامیاب وکامران ٹھہرے۔نیچر ایسے لوگوں کے ساتھ پھر معجزے کرتی ہے جو ہمت دکھاتے ہیں۔
معجزے آج بھی ہو رہے ہیں بیٹھنے والوں کے ساتھ نہیں کمفرٹ زون والوں کے ساتھ نہیں۔۔۔بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو ہمہ وقت محنت اور کوشش کے لیئے سرگرداں رہتے ہیں۔امریکہ میں رہتے ہوئے میرے ساتھ بڑی دفعہ ایسا ہوا کہ کرایہ دینے کے لیئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔پی ایچ ڈی کا کورس دوبارہ پڑھنے کو کہا گیا۔مگر میں نےاپنی ول پاور سے ان حالات کی گردش کو شکست دی اور نکل آیا۔میں نے گھر چھوڑ کے بیسمینٹ میں سامان شفٹ کر لیا۔ایک دن لیٹر ملا کہ ریسرچ شروع کر دو۔۔معجزے ہونے شروع ہوگئے۔۔اور معجزے ہر اس شخص کے ساتھ ہوتے ہیں جو چیلنج قبول کرتا ہے۔
چیلنج قبول کریں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ابھی تک آپ کمفرٹ زون میں ہیں۔دفتر چلے گئے۔بیٹے کی شادی کردی،بیٹی کو پڑھانے امریکہ بھیج دیا۔چیلنج زون والے ایسے نہیں ہوتے۔اخوت فاونڈیشن کے ہیڈ ڈسی ہوتے تھے ،استعفیٰ دیا اور سوسائٹی کے لیئے کام کرنا شروع کر دیا۔اربوں روپیہ غریب پروری کے لیئے تقسیم کر رہے ہیں۔اس کام اور بندے کو امر ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
انسان کا خیال ہوتا ہے کہ ناممکن کی دیواریں بہت موٹی ہوتیں ہیں۔یہ دھکے سے نہیں گریں گی مگر ایسا نہیں ہوتا یہ دیواریں گتے کی ہوتیں ہیں۔دھکہ دینے کی ہمت ہونی چاہیئے۔سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے حالات و واقعات بیان ہوئے ہیں۔جب بنی اسرائیل ار ض مقدس کے لیئے مارے مارے صحراء میں بھٹک ہے تھے تو وحی آئی کہ موسی ٰؑ ان سے کہہ دو کہ ارض مقدس ان کے لیئے لکھ دی گئی ہے بس کرنا صرف یہ ہے کہ سر جھکاتے ہوئے اس میں داخل ہو جاو۔۔بنی اسرائیل کا جواب نہیں تھا۔کیونکہ وہ کاہل اور ہٹ دھرم ہو چکی تھی۔ان میں دھکا لگانے کی ہمت نہیں تھی۔نتیجتا ارض مقدس چالیس سال کےلیئے ان پر حرام کردی گئی۔یقن پیدا کر
بڑی سوچ
بڑی سوچ رکھیں۔اگر سوچ بڑی ہے تو مواقع بھی بہت ہیں اگر سوچ محدودہے تو زندگی محدودہے۔یہ آپ کی سوچ ہے کہ آپ نے منشی محمد دین بن کے ریٹائر ہونا ہے یا بل گیٹس بننا ہے۔یہ آپ کی سوچ ہے کہ آپ نے تصوف قریشی بننا ہے یا پھر بوریاں ڈھوتے ڈھوتے سو جہازوں کے مالک بننا ہے۔مصطفیٰ گوکھل جو کہ کراچی کا ایک مزدور تھا ،اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پہ ضیاءدور میں وزیر بنا۔اب اس کے پاس سو زاءد جہاز ہیں۔وہ رشوتوں سے پیسے لے کہ یہاں تک نہیں پہنچا بلکہ اپنی لگن اور محنت سے پہنچا ہے۔یہ چھوٹے بڑے کے بت ہیں یہ عارضی ہیں۔اللہ نے سب کو یکساں مواقع دے کر دنیا میں بیجھاہے۔نیچر کے مطابق جو جتنا زور لگائے گا آگے بڑھے گا۔قرآن کہتا ہے جو جتنی محنت کرے گا میں نوازو گا۔نیچر مثبت چیز ہے اور مثبت چیزوں کو آگے بڑھانے میں ہمہ وقت معاون و مددگار ہے۔
گوجرانوالہ کا امیرترین بندہ جو اس وقت شکاگو کا امیرترین بندہ ہے۔جس کے پاس کبھی پنجاب یونیورسٹی میں سونے کو جگہ نہیں ہوتی تھی۔تو ثابت ہوا کہ واحد چیز آپ کی سوچ ہے جو آپ کو کہیں بھی پہنچا سکتی ہے۔آپ کی سوچ ہے جو آپ کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہے۔غالب کے شعر کا پہلا مصرعہ ہے
ہستی کے فریب میں مت آ جائیو سب عالم تمام حلقہ دامن خیال ہے
غالب کے مطابق دنیا وہ ہے جو آپ کی سوچ ہے۔آپ کی سوچ بڑی ہے آپ بڑے ہیں آپ کی سوچ چھوٹی ہے آپ چھوٹے ہیں۔ایک کنویں کے مینڈک کے لیئے وہ کنواں انٹلاٹنک اوشن ہے۔اور انٹلاٹک اوشن میں جو نیلی وہیل مچھلی ہے جس کا پانچ سو ٹن وزن ہے۔جو دن میں پانچ سومیل سفر کرتی ہے۔اس کے لیئے انٹلانٹک اوشن بھی چھوٹا سا کنواں ہے۔یہ آپ کا انتخاب ہے کہ آپ نے کنویں کا مینڈک بننا ہے یا انٹلانٹک اوشن کی وہیل۔۔؟ڈوبنا ہے یا تیرنا انتخاب آپ کا ہے۔بقول اقبالؒ
جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
صورت خورشید اگر زندہ رہیں تو یہ زیادہ اچھا ہے۔ایک انگلش کا معروف رائٹر ہے پیڈٹرک بریکروہ کہتا ہے۔
fail fast trust fast fail fast succeed fastوہ کہتا ہے اگر زندگی میں ٹرسٹ کرتے رہوگے تو تو تیزی سے فیل ہوتے رہوگےاور تیزی سے آگے بڑھتے رہوگے۔اس بات کو اپنی زندگی کا موٹو بنا لیں۔امریکہ میں میں اپنا بزنس کرتا تھا۔1990ء میں میں اخبرا میں اشتہار دیتا تھا گھر میں فیکس کی سہولت تھی۔لوگ میرے سے اپوائٹمینٹ لیتے تھے میں چالیس پاونڈ میں ان کا ایک سی وی تیار کر دیتا تھا۔اب آپ کہے گے کہ یہ توٹائپسٹ تھا۔جبکہ میری یہ مہارت تھی جس کے بل بوتے پہ میں دوسرے تیسرے دن ڈیڑھ سو ڈالر کا لیتا تھا۔یہی سے میں آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ترقی ہوتی ہی تب ہے جب آپ خطرات مول لتے ہو۔میں اجنبی دیس میں تھا ہر طرح کے حالات میں ہر طرح کاکام کیا ہے۔یونیورسٹی میں سیکیورٹی میں بھی کام کیا،بک شیلف میں بھی،اور سنڈے کو میں لیب اسسٹنٹ کے طور پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا تھا۔مارکیٹنگ کی ،لائبریری میں کام کیا،یہ سارے کام کر کے میں اس قابل ہوا کہ آج یونیورسٹی چلا سکوں۔آپ جتنے کام کرتے ہیں آپ کی ترقی کی رفتار بڑھتی چلی جاتی ہے۔
والٹ ڈزنی کہتا ہے۔
Fun Is Always Fun To Do The Impossible Things
نیلسن مینڈلا کہتا ہے
It Is Always Challenge To Do The Impossible Things.
زندگی میں جن لوگوں نے بڑے بڑے کام کیے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے ٹاسک لیتے تھے۔کہتے تھے اس میں پیسے ہیں مگر مزہ نہیں ہے۔اور بڑے بڑے ٹاسک جو رسکی بھی ہوں اسی میں اصل مزہ ہے۔تربیلا اور منگالا ڈیم بنانے والوں کو کوئی اربوں ڈالر نہیں ملے ان کے بنانے کے،بلکہ تربیلا ڈیم ڈیزائن کرنے والا اٹلی کا انجئنر تھا وہ بڑے فخر سے کہتا ہوگا کہ تربیلا ڈیم میں نے ڈیزائن کیا جو آدھے ملک کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔کچھ کر کے دکھانے والے چیلنج میں مزہ لیتے ہیں۔اور خطرات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ کر سکتے ہیں اگر مصطفیٰ گوکھل کو یقین نہ ہوتا کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا تو اس کی دوسری نسل بھی آج غربت میں پس رہی ہوتی۔آج سے ناممکن کا لفظ اپنی زندگی سے ڈیلیڈ کریں اور موٹو بنائیں کہ میں کر سکتا ہوںناممکن کے بتوں کو توڑ دیں۔۔
کامیابی کیا ہے؟
Success means Having the courage and determination and the will to become the person you believe and you are meant to be.
ہر انسان کی کامیابی کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔آپ اپنی کامیابی کی تعریف کے مطابق زندگی میں کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
Is it your desire or your attention to succeed ?then understand paradigm for success?
اگر آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو کامیابی کے پیراڈائم کو سمجھیں۔اس بات کو سمجھیں کہ آپ کے اندر ایک ایسی چیز ہے جو اردگرد کی ہر چیز کو ختم کر سکتی ہے۔یقین پیدا کر
Believe deep down in your heart that you are destined to do great things.
(be potemo)
اس بات پہ یقین رکھیں کہ نیچر نے آپ کو بڑے کاموں کے لیئے تخلیق کیا ہے۔تو پھر انسان بڑے کام کیوں نہیں کرتے۔۔؟اسے تو اپنی خفیہ صلاحیتوں کا ہی پتہ نہیں ۔۔یقین پیدا کر
If people believe in themselves it is amazing what they can accomplish?
Your belief determines your actions and your actions determins your results but first you have to believe.
یقین اتنی بڑی طاقت ہے۔جب میں میٹرک کا طالب علم تھا تو میں نے اپنے کمرے میں لکھ کے لگا لیا تھا کہ “ناکامی میرے لیئے نہیں ہے”اس فقرے نے مجھے ساری عمر انرجی دی اور میرا یقین بن گیا۔اگر آپ منصوبہ بنا رہے ہیں مگر یقین نہیں ہے تو ایسا منصوبہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔پلاننگ ایسی چیز ہے جس پہ قدرت بھی سوچتی ہوگی کہ یہ کام ہونا چاہیئے یا نہیں۔؟ایک رات میں نہر کھودنا،کتنا بڑا یقین تھا۔مگر پورا ہوگیا۔یقین بنا کے دیکھو قدرت معجزے کرنے لگ جائے گی۔یقین کی بنیاد کمٹمینٹ ہے۔آپ ترقی نہیں کر سکتے جب تک آپ کے پاس یقین کی طاقت نہ ہو۔یقین پیدا کر
Whatever you believe with feelings becomes your reality.(brian tracy)
برائن ٹریسی کو پڑھیں انٹرنیٹ پہ اس کی کتابیں اور ویڈیو موجود ہیں۔
The things always happens that you really believe in:and a belief in a thing makes it a happens.(frank uyd wright )
جن چیزوں پہ آپ اعتقاد رکھتے ہیں وہ ہو جاتی ہے۔یہ اتنی بڑی حقیقت ہے اسے اللہ رب العزت نے خود بیان کیا ہے۔حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے۔میں بندوں کے گمان کے ساتھ ہوں وہ جیسا مجھے سوچے گے میں ویسا ہی کروں گا۔یقین پیدا کر
برائن ٹریسی کی ایک اور کوٹیشن ہے۔
The depth of your belief and the strength of your conviction determines the power of your personality.(Brian Tracy)
آپ کے کردار کی عظمت آپ کے عقائد اور یقین کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔معجزے ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو خود پہ یقین رکھتے ہیں۔فرشتے بھی مدد کے لیئے تب اترتے ہیں جب یقین اور کمٹمینٹ ہو۔یقین کامل ہو اور عقیدے میں پختگی ہو اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے کی خیر کا عنصر بھی شامل ہو۔بدھا کی سوچ میں سوسائٹی کی خیر کا عنصر تھا وہ امر ہوگیا۔پانچ ہزار سال پہلے بغیر انٹرنیٹ کے بدھا کا پیغام آج بھی جاری و ساری ہے۔گوتم بدھ کے پاس بہت ساری بادشاہت اور تخت و تاج تھا ۔مگر اس نے سب کچھ چھوڑ دیا۔اور نروان کے حصول میں لگ گیا۔کہ حقیقت کیا ہے؟وہ معاشرے کو بتائی جائے۔یقین پیدا کر
For those who believe ,no proof is necessary ,for those who cant believe ,no poof is possible.
جن کا یقین پہ ایمان نہیں ہے ان کو کوئی ثبوت ثابت نہیں کر سکتا۔اور جو یقین پہ ایمان رکھتے ہیں ان کو ثابت کرنے کے لیئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔بقول قرآن ان کے دلوں پہ مہر لگا دی گئی ہے۔یقین پیدا کر
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان نہ بلوایا ہوتا تو آج یہ بھی کمفرٹ زون میں بیٹھے ہوتے۔انھوں نے مجھے خود بتایا کہ میں نے ذوالفقار علی بھٹو خط لکھا۔انھیں یقین تھا خود پر کہ میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ورنہ ہم تو گھڑی نہیں بنا سکتے تھے اس وقت۔ورنہ ہم تو گھڑیال بنانے والے ہیں وہ بھی سازشوں کے۔یقین کی طاقت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ایک اور نام پاکستان کی تاریخ کا علی معین نوازش جس نے یقین کی طاقت سے جو چاہا پا لیا۔عمران خاں کی قیادت میں جب پاکستان ورلڈکپ جیتا تو عمران خاں کا فقرہ تھا کہ ہم صرف جیتنے کے لیئے جا رہے ہیں۔ہمارے پاس کوئی دوسری آپشن ہےہی نہیں۔یہی یقین جبرالٹر فتح کرتے ہوئے طارق بن زیاد کا تھا۔کشتیاں جلا دو کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیں ہے۔یقین پیدا کر
If you don not believe in yourself chances are that nobody else with neither.
اگر آپ کو خود اپنے اوپر یقین نہیں تو کوئی بھی آپ پہ یقین نہیں کرے گا۔ابراہیم لنکن کی مشہور کہاوت ہے یقین کے حوالے سے وہ کہتا ہے۔”جن چیزوں کو آپ محسوس کر سکتے ہیں دیکھ اور چھو سکتے ہیں یقین وہ نہیں ہیں۔یقین اس چیز پہ ہے جسے آپ دیکھ نہیں سکتے۔”یعنی ان چیزوں پہ یقین کرنا ہے جو ابھی تک معرض وجود میں نہیں آئیں۔یقین پیدا کر
خواب تو خوبصورت ہر کوئی دیکھتا ہے۔مگر خود پہ یقین وہ ٹانک ہے جو لوگوں کو ان کے خوابوں سے ہٹ کر سوچنے میں مدد دیتا ہے۔انسان کو خود پہ یقین ہونا چاہیئے کہ اس کے اندر ایک ایسی چیز ہے جواس پہ قابو پا سکتی ہے۔وہ خود پہ یقین ہے۔یہ یقین کی طاقت تھی جس نے بلال حبشی کو امر کر دیا۔حبشہ کا ایک غلام جس کے پسینے سے بد بو آتی تھی اور زبان میں ہکلاہٹ تھی۔نیچر نے اسے یقین کی طاقت کی وجہ سے امر کردیا۔بقول اقبالؒ
اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہے رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے
اگر آپ کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تو آپ کو وہ کچھ کرنا پڑے گا جو آپ نے پہلے نہیں کیا۔یہ بات ایک مکمل قانون ہے۔کمفرٹ زون میں،سفارش کے بل بوتے پہ ملنے والی نوکری سے آپ داخل تو ہو سکتے ہیں مگر ترقی نہیں کر سکتے۔یقین اتنی بڑی طاقت ہے کہ بارش کی امید کے ساتھ ہی فضا میں تبدیلی کے رنگ دکھنے شروع ہو جاتے ہیں۔پہلی بوند زمین پر ٹپکنے کے ساتھ ہی ہریالی کا رنگ غالب آنے لگتا ہے اورپیلاہٹ ختم ہونے لگتی ہے۔یقین اتنی بڑی طاقت ہے۔یقین کی طاقت سے ناں ہاں میں بدل جاتی ہے۔مسئلے حل ہونے لگتے ہیں۔یقین کی درد کی دواء ہےیقین پیدا کر
۔یقین سے مشکل تریں چیزیں آسان ہونے لگتی ہیں۔یقین وہ تھیوری ہے جسے آج سے ہم نے پرموٹ کرنا ہے۔لوگوں میں امید کی جوت جگانی ہے۔امید جو خوشی ہے۔جینے کی امنگ ہے۔خیر ہے۔یقین کے زریعے انسان ان وسائل اور زرائع کا ادراک کر سکتا ہے۔جن کے بارے میں آئیڈیل صورت حال میں اسے کوئی حل نظر نہیں آتا۔مجھے اس ادارے میں ہر دوسرے روز ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک ٹیم اس یقین سے بیٹھتی ہے اور اس کا حل مل جاتا ہے۔ہم حل نہیں کر رہے ہوتے بلکہ نیچر ہمیں مسئلے کا حل بتاتی ہے۔انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے ادراک نہیں کرپاتا۔اور ایسا تب ہوتا جب انسان کو نیچر پہ اندھا یقین ہوتا ہے۔یقین آپ کی کارکردگی بڑھا دیتا ہے اور آپ اپنی توقعات سے بڑھ کر کام کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔یقین کی مدد سے آپ اپنے ادارے کی کارکردگی کو بڑھا سکتے ہیں۔انسان جو یقین کی دولت سے مالا مال ہوتے وہ ایک بہترین مخلوق کے طور پر نظر آتے ہیں۔
یقین کو پر لگادیں تو اڑنے کی طاقت آجاتی ہے اسی کانام ایمان ہے۔یہ ایمان مذہب والا ایمان نہیں ہے۔یہ ایمان وہ ہے جو انسان خود پہ کرتا ہے۔انسان کو خود پہ یقین کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔یہ ایک عظیم خزانہ ہے۔انسان کو بہتر بننے سےاور بہتری کا خواب دیکھنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
کمفرٹ زون سے باہر آئیے۔چیلنج زون کا سامنا کیجئے۔اور اس کام کے لیئے یقین پیدا کرکوئی بیرونی دروازہ نہیں کھولنا پڑتا بلکہ اندرونی دروازہ یعنی دماغ کو کھولنا پڑتا ہے۔ بقول اقبال” نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری”رسم شبیری چیلنج زون میں داخل ہونا ہے اللہ نے ہر ایک کو صلاحیتیں دی ہیں اسے پہچانیئے،نکھاریئے اور اپنے مقصد کے لیئے استعمال کیجئے۔ ۔
یقین پیدا کر مغلوب گمان تو ہے