انڈونیشین طالبہ نے حجاب کے لیے تیس ملین ڈالر ٹھکرا دیے
انڈونیشین طالبہ نے تیس ملین ڈالر کا انعام مسترد کرکے پردہ اتارنے سے انکار کر دیا؟حیرت انگیز واقعہ جو چوبیس گھنٹوں میں بجلی کی طرح وائرل یوا۔اور اس لڑکی کی دلجوئی اور مدد کے لیے آنے والی کالز کا تانتا بندھ گیا۔مجبورا اسے اپنا نمبر بند کرنا پڑ گیا۔
یہ سب دیکھ کر جیوری جس نے اپنے نام۔نہاد قوانین کے تحت اللہ کے حکم پردے کی پاسداری کو توڑا تھا۔جب لوگوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تو ان پہ پریشر بڑھ گیا اور انھوں نے انعام کی رقم طالبہ کے حوالے کر دی۔
یہ بھی پڑھیے
نماز کے لیے ماڈلنگ چھوڑنے والی واحد امریکی اداکارہ
سچ ہے اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت۔جب اس طالبہ نے اللہ کے حکم کی سربلندی کے لیےپیسوں کو ٹھکرا دیا تو اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور ایسے قوانین بنانے والوں کو نا صرف رسوا کیا۔بلکہ انعامات کی صورت میں اس بچی کو تیس ملین ڈالر سے کئ گنا کر کے لٹا دیا۔الحمدللہ
واضح رہے کہ پردہ اللہ تعالی کے احکامات میں سے ہے۔جو چار ہجری میں نازل ہوا۔پردہ ہر بالغ عاقل اور مسلمان عورت پر واجب ہے۔قرآن کی دو معتبر سورتیں سورہ النور اور سورہ احزاب میں پردے کے احکامات تفصیل کے ساتھ بیان کر دیے گۓ ہیں۔جب پردے کے چونکہ اس دور میں کپڑے کی بہت قلت تھی جب احکامات نازل ہوۓ تو عورتوں نے اپنے بستر کی چادریں اور پردے پھاڑ کر جلباب بناۓ اور خود کو چھپایا۔اور یہ ان عورتوں کی مثال ہے جو دنیا کی سب سے با حیا عورتیں گردانیں جاتیں ہیں اور انہوں نے اپنے وقت کے سب سے با حیا مردوں سے پردہ کیا۔صحابہ سے بڑھ با حیا ہستیاں بھلا کون ہوں گیں۔اور قرآن کے حکم پر عملا چل کر دکھایا۔کوئی رسم و رواج کوئی کپڑے کی قلت کوئی مجبوری ان کے قدم ناجکڑ سکیں۔
زمانے بیت جاتے ہیں مگر لوگ آج بھی موجود ہیں جن کے لیے اللہ کا حکم ہر حکم سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے ایسے ہی لوگوں کے دم سے دنیا آباد ہے۔اللہ ہمیں بھی عملا سچا اور پکا مسلمان بناۓ۔۔آمین
انڈونیشین طالبہ نے حجاب کے لیے تیس ملین ڈالر ٹھکرا دیے