عہدِ نبوی میں مسجد کا کردار 154

عہدِ نبوی میں مسجد کا کردار

تحریر شئیر کریں

(ریاست، سیاست اور عسکری نظام کا مرکز)

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسجدِ نبوی محض ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ ایک متحرک ریاست کا دل تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں جس ریاست کی بنیاد رکھی، اس کا دارالخلافہ، پارلیمنٹ اور عسکری ہیڈ کوارٹر یہی مسجد تھی۔ خلافتِ راشدہ میں اسی نمونے کو اپنا کر دنیا کا عظیم ترین عدل و انصاف کا نظام قائم کیا گیا۔

1. نبوی بنیاد اور عسکری مرکز (وار روم)

عہدِ نبوی ﷺ میں مسجدِ نبوی ہی وہ مقام تھا جہاں سے باطل کے خلاف مہمات ترتیب دی جاتی تھیں۔ جب بھی جہاد کا حکم آتا، مجاہدین مسجد میں جمع ہوتے اور یہیں سے جلیل القدر صحابہ کو جھنڈے عطا کیے جاتے تھے۔

خلافتِ راشدہ کے دور میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور لشکر سرحدِ ہند اور کشمیر کے قریبی علاقوں کی طرف روانہ کیے گئے تو ان کی عسکری تربیت اور دعائیہ تقاریب کا مرکز بھی مساجد ہی تھیں۔

مسجد کے صحن میں عسکری مشقیں اور نیزہ بازی کے مقابلے بھی ہوتے تھے تاکہ مسلمانوں کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔

2. بین الاقوامی سفارت کاری اور وفود

مسجدِ نبوی عالمی سیاست اور سفارت کاری کا بھی مرکز تھی۔ مختلف قبائل اور مذاہب کے وفود مدینہ آتے اور مسجد میں قیام کرتے تھے تاکہ وہ اسلامی معاشرے کو قریب سے دیکھ سکیں۔

وفدِ نجران کے عیسائی جب مدینہ آئے تو حضور اکرم ﷺ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا اور انہیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی۔ یہ اسلامی رواداری کی ایک تاریخی مثال ہے۔

“مسجدِ نبوی وہ سفارتی مرکز تھا جہاں سے رواداری اور اخلاق کے ذریعے دل جیتے جاتے تھے۔ یہاں غیر مسلموں کو بھی اپنی رائے دینے کی مکمل آزادی تھی۔”

— Sir Thomas Arnold, The Preaching of Islam

3. خلافتِ راشدہ: عدل اور انتظامیہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے لے کر حضرت علیؓ تک تمام خلفاء نے مسجد کو ہی انتظامی مرکز کے طور پر استعمال کیا۔ مسجد ہی وہ مقام تھا جہاں سے ریاستی فیصلے، مشاورت اور عوامی معاملات طے ہوتے تھے۔

بیت المال کا نظام بھی مسجد کے ایک گوشے سے چلایا جاتا تھا تاکہ عوامی خزانہ عوام کی نظروں کے سامنے رہے اور شفافیت برقرار رہے۔

جب مصر، ایران اور شام جیسے وسیع علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے تو ان کے انتظامی احکامات بھی مسجد سے جاری کیے جاتے تھے۔

“مدینہ کی مسجد مسلمانوں کی پہلی پارلیمنٹ تھی۔ یہیں سے ایک ایسی طاقت نکلی جس نے قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو پیوندِ خاک کر دیا۔”

— Philip K. Hitti, History of the Arabs

4. تعلیم و تربیت اور سماجی بہبود

مسجدِ نبوی میں قائم ہونے والا “صفہ” دراصل اسلامی دنیا کا پہلا تعلیمی مرکز تھا جہاں علم حاصل کرنے والے صحابہ کو تربیت دی جاتی تھی۔ یہی افراد بعد میں اسلامی ریاست کے منتظم، قاضی اور سپہ سالار بنے۔

مسجد صرف عبادت اور تعلیم تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ معاشرتی بہبود کا مرکز بھی تھی۔ مسافروں، یتیموں اور بے سہارا افراد کے لیے مسجد پناہ گاہ کا کردار ادا کرتی تھی۔

“مسلم مساجد قرونِ وسطیٰ کی سب سے متحرک درسگاہیں تھیں جہاں مذہب اور علم کے درمیان کوئی تصادم نہیں تھا بلکہ مسجد ہر علم کا منبع تھی۔”

— Will Durant, The Story of Civilization

تاریخی و عصری تقابلی جائزہ

شعبہ عہدِ نبوی ﷺ و خلافتِ راشدہ جدید دور
سیاست مسجد ریاست کا مرکز تھی مسجد کو سیاست سے الگ کر دیا گیا
عدالت فوری اور سستا انصاف طویل قانونی چارہ جوئی
عسکریت لشکروں کی روانگی اور عسکری مشاورت زیادہ تر روحانی سرگرمیوں تک محدود
تعلیم ہمہ گیر تعلیم (دین و دنیا) محدود مذہبی تعلیم

5. مستند کتب کے حوالے

اس موضوع پر مزید تحقیق کے لیے چند اہم کتب درج ذیل ہیں: زاد المعاد از امام ابن القیم، الفاروق از علامہ شبلی نعمانی، History of the Arabs از Philip K. Hitti، Muhammad: A Prophet for Our Time از Karen Armstrong، اور The Preaching of Islam از Sir Thomas Arnold۔

حاصلِ کلام

خلافتِ راشدہ کے دور میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی ادارہ تھی۔ یہی ادارہ مسلمانوں کی روحانی، فکری اور معاشرتی تربیت کا مرکز تھا۔ اگر آج مسلم معاشرہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو مساجد کو دوبارہ کمیونٹی، تعلیم اور سماجی اصلاح کے مراکز کے طور پر فعال کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے پوشیدہ اسباب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں